غزلیات

اک نظر دیکھ کر کردار پڑھا کرتے تھے
ہم تو چہرے سے ہی افکار پڑھا کرتے تھے

ہم نے دیکھی نہیں نفرت کی ہوا گاؤں میں
سب کے چہروں پہ وہاں پیار پڑھا کرتے تھے

تم کو آتا نہیں اس شہر کے چہرے پڑھنا
ہم پسِ چہرہ بھی ا ظہار پڑھا کرتے تھے

جس نے اظہارِ محبت نہ کیا ہونٹوں سے
اُس کی آنکھوں میں بھی اقرار پڑھا کرتے تھے

اپنے بچوں کو کسی روز کہیں گے یہ لوگ
صبح اُٹھ کر سبھی اخبار پڑھا کرتے تھے

گھوم کے مصر کے بازار میں ہم تو اکثر
دیکھ کر آنکھیں خریدار پڑھا کرتے تھے

پرویز مانوس
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9419463487

دلِ ناداں نہیں سمجھا چلا ہے پیارپانے کو
گزاری زندگی ساری فقط اقرار پانے کو
کمر کی نازکی اور پھر سرکنہ اک سیہ ناگن
مچلتا ہے یہ دل میرا تیرا اسرار پانے کو
میرا جینا کرے مشکل تیرے رخسار کا یہ تل
ذرا اِن گہری آنکھوں میں اُتر اِک بار پانے کو
تیری خاطر ہی زندہ ہوں بنا کر بھیس مجنوں کا
ہے کیسی بے قراری یہ تیرا دیدار پانے کو
سکوں کا ایک پل جاناں نہیں حاصل محبت میں
ٹھکانہ مے کدہ پایا چلا جب پیار پانے کو
بہت ہی میٹھا ہے یہ روگ مرنے بھی نہیں دیتا
ابھی ہیں امتحان باقی تیرا اقرار پانے کو
نہیں آساں ہے پرواز ؔمحبت میں فنا ہونا
زمانہ بیت جاتاہے کوئی کردار پانے کو

جگدیش ٹھاکر پروازؔ
ایچ ایس ایس بنون کشتواڑ، جموں
موبائل نمبر؛9596644568

جو دیکھ کے نہ دیکھ سکا دیکھ رہا ہوں
اے یار! ترے در پہ میں کیا دیکھ رہا ہوں
ایک گھور اندھرا ہے مگر دل کی نظر سے
میں چہرہ ترا ماہِ لِقا دیکھ رہا ہوں
تیغِ دغا سے کر چلا جو خون وفا کا
وہ دے رہا ہے درسِ وفا دیکھ رہا ہوں
نفرت کی ہوائوں نے جسے چاہا بُجھانا
روشن وہ محبت کا دیا دیکھ رہا ہوں
حیرت ہے تو نے کعبہ میں دیکھا نہ خدا کو
میں ٹوٹے ہوئے دل میں خدا دیکھ رہا ہوں
طے کر کے سفر عشق کا خاروں سے گزر کر
کیا کچھ ملا ہے تجھ کو دکھا دیکھ رہاہوں
شاداب ؔتو خاموش طبیعت ہے،مگر ہاں
طوفاں ترے اندر میں چھپا دیکھ رہا ہوں

شفیع شادابؔ
پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9797103435

شام ہوتے ہی ستاروں پہ ملال آئے گا
شب گزاری کا خلشؔ پھر سے سوال آئے گا

مجھ کو تلقینِ تحمل ابھی درکار نہیں
موت آئے گی تو پھر ضبطِ کمال آئے گا

ہائے کٹتی ہے مری رات اسی اُلجھن میں
کس طرح دل سے قلم تک یہ خیال آئے گا

بعد میرے مری غزلوں کو جلانا ورنہ
روز بستی پہ نیا کوئی وبال آئے گا

رنج و غم کون سجائے گا یہاں غزلوں میں
کون غالب کی یہاں بن کے مثال آئے گا

ٹوٹ کر خاک ستارے بھی یہ ہو جائیں گے
ہر بلندی کا خلِشؔ وقتِ زوال آئے گا

خلشؔ
اسلام آباد، اننت ناگ، کشمیر
[email protected]

مدت سے ایک سانحہ جو ٹل نہیں رہا
وہ شعر کے خیال میں بھی ڈھل نہیں رہا
وہ جس کی لــَوسے رات لرزتی تھی صبح تک
تُف ہے کہ وہ چراغ بھی اب جل نہیں رہا
یوں لے ـاُڑی خرد کی ہوا نقشِ ہائے دلـ
سر پر جنوں کا ایک بھی بادل نہیں رہا
رکھ دے نہ وہ اُ لٹ کے کہیں عشق کی بساط
میں اس سبب سے چال کوئی چل نہیں رہا
وہ دن بھی تھے کہ برف سے جلتا تھا یہ بدن
اب درمیانِ آگ ہوں اور جل نہیں رہا
کل تک جو ذی حیات تھا وہ اب کہیں نہیں
جو آج ذی حیات ہے وہ کل نہیں رہا
امجدـؔ یہ سب سخن وری تو اُن کے دم سے ہے
خالی ہنر سے خامہ ترا چل نہیں رہا

امجد اشرف
شلوت سمبل سوناواری بانڈی پورہ
موبائل نمبر؛7889440347

دکھ بھی دیں گے سکھ بھی دیں گے روئیں کیا مسکائیں کیا
پھول ملے ہیں کانٹوں والے ان پر ہم اِترائیں کیا

اوس کی ننھی بوند ہماری پیاس بجھانے آئی ہے
دریا بھی مایوس گیا ہے اس کو ہم بتلائیں کیا

مٹی بولے ، مٹی روئے ،مٹی ناچے گائے بھی
سارا کھیل تماشا اس کا پُتلوں کو سمجھائیں کیا

میرا اس کا رشتہ وہ ہے جس کا کوئی نام نہیں
دنیا والے پوچھ رہے ہیں ان کو ہم بتلائیں کیا

طوفانوں میں لاکھ گھرے ہوں ہم کو کوئی فکر نہیں
اس کی کشتی میں بیٹھے ہیں لہروں سے گھبرائیں کیا

مانگ رہا ہے دینے والاسانسوں کا ہر ایک حساب
پریم کرنؔ جی کہئے آخر خرچیں میں دکھلائیں کیا

پریم کرن
گلزار باغ، پٹنہ
موبائل نمبر؛9334317153

فضا میں یہ کیا ہے سب ؟ ہوا اور کچھ نہیں
وسیلۂ حیات کے ! بِنا اور کچھ نہیں
دوڑاتا ہے خون کو یہ کرتا ہے بات بھی
دکھاتا ہے قلب کی صدا اور کچھ نہیں
مجھے بھی کوئی سُنے میں کچھ چاہتا بھی تھا
مِلا حل کہ میں کروں دعا اور کچھ نہیں
یہ پیر و فقیر ڈاکٹر نام ہے فقط!
شفا میں دعا ہی ہے دوا اور کچھ نہیں
جہاں سے سکون مٹ گیا نام ہے فقط
ہمارے عمل کی ہے سزا اور کچھ نہیں
ذرا غور سے تو دیکھ شاداںؔ زمین پر
دکھاتی ہے آئینہ ! سوا اور کچھ نہیں

شاداںؔ رفیق
اُوڑی ، بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛8491982514

تجھ سے ہر اک بات کا حساب لوں گا میں
تمام دل کے سوالوں کے جواب لوں گا میں
تو مجھ سے بچھڑ گیا تو کیا ہی غم کروں
بیٹھے بیٹھے ہی اُردو کی کتاب لوں گا میں
میری عادت ہے یاس و غم میں جینے کی
تو معصوم ہے تیرا سارا عذاب لوں گا میں
وہ تیرا مجھ سے پیماں شکنی کرنا، جاناں
امید نہ تھی ہاتھ میں شراب لوں گا میں
تُو میرے لئے اک خلفشار ہی بن کے رہا
تیرے بغیر ہر ظالم سے انقلاب لوں گا میں
تیرا دل ٹوٹ گیا ہے ٹکڑوں میںمعراجؔ
ان سے ہر اک ٹکڑے کا حساب لوں گا میں

معراج نذیر ڈار
ریشی پورہ، زینہ پورہ،شوپیان
موبائل نمبر؛7889562643

غم نہ ہو کوئی اگر کٹ جائے زندگی کیسے
یہی تو آسرا جینے کا ہے بے بسی کیسے

چوٹ کھا کر میں واقف ہوا اپنی اوقات سے
فقیروں کو شہنشاہوں سے دوستی کیسے

نفرت ہے جس کا پیشہ اس کا دھرم کہاں
دل اور وفا کا دشمن وہ آدمی کیسے

رکھ کے من میں کھوٹ جو جپتا ہے مالا بھی
سوچتا ہے پاپ کیا، یوں بندگی کیسے

سنبھل کر بات کرنا بزم میں ان کی تم سعیدؔ
وہ کر گیا احسان تُم پر تو یہ دل لگی کیسے

سعید احمد سعیدؔ
احمد نگر سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9906726380