نفرت پھیلانے والوں سے کون سی محبت بانٹی راہول گاندھی نے:بھاجپا

File Image

یواین آئی

نئی دہلی//بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو ناکام قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ یاترا کا سیاسی مقصدکامیاب نہیں ہوا اور محبت کے نعرے کو لےکر گاندھی پوری یاترا میں ’ نفرت زہر بجھے سامانوں ‘ کواسٹیج دیتے رہے۔
بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر سدھانشو تریویدی نے پارٹی کے مرکزی دفتر میں یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی بھارت جوڑویاتراسیاسی مقصد سے متاثر تھی، لیکن اسی مقصد میں ناکام دکھائی دی ہے۔ اپنے آ پ کو قائم کرنے کی جدوجہد سے محروم رہی۔
انہوں نے کہا،”جنوبی ہندوستان میں کیرالہ سے شروع ہوکرتمام طرح کے کارناموں سے گزرتی ہوئی کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی کی مبینہ بھارت جوڑو یاتراختم ہو گئی۔ یہ لوگ نہ تومہاتما گاندھی کی ریاست میں گئے اور نہ ہی پنڈت نہروکی ریاست میں گئے “۔
ڈاکٹر تریویدی نے گاندھی پر طنزکرتے ہوئے کہاکہ یہ یاترا مبینہ طور پرنفرت لے کرگئی جب کہ وہ خود کہتے ہیں کہ یاترا کے دوران نفرت کہیں نہیں دکھی۔ کانگریس بھارت جوڑو کی بات کرتی ہے اور اس سے بڑی بدبختی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر راہل گاندھی کی یاتراکے مستقل ساتھی کنہیا کمار تھے جن کا تعلق ٹکڑے ٹکڑے گروپ سے رہا ہے۔انہوں نے کہا،”سیاسی مقصدسے متاثر ’ بھارت جوڑو یاترا‘ کیرالہ سے شروع ہوئی ، جہاں کانگریس کے لیڈرپاترا کے ساتھی بنے، جنہوں سڑک پربیف پارٹی کی تھی ، پھر پادری جارج پونیایاترا کے ساتھی بنے ، جنہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کی زمین کو ناپاک مانتے ہیں۔ تمل ناڈو میں راہل گاندھی ایس پی ادے کمار سے ملے،جو تمل علاحدگی پسندانہ بیان دے چکے ہیں۔
تمل ناڈو میں ایک اداکار سے ناکام لیڈر بنے کمل ہاسن کوانٹریودیتے ہیں جہاں گاندھی کو ’نیشن وداے کنفیوژ وژن ‘یعنی ایک بھرم دکھائی دینے والا ملک کہتے ہیں۔
میدھا پاٹکرنے گاندھین ودگنس کہا، انہی بھی بلاتے ہیں۔ یاترا دہلی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ آ جائیے۔ پھرکشمیر جاتے ہیں اور سرجیکل اسٹرائیک والا بیان دگوجے سنگھ بولتے ہیں پھران سے مائک ہٹا دیا جاتا ہے “۔
انہوں نے سوال کیا،” آخر نفرتی زہر بجھے سامانوں کو لے کرکون سی محبت کی مہم چلا رہے تھے راہل گاندھی238“۔
بی جے پی ترجمان نے کہاکہ ”بھارت جوڑو یاترا کے علاوہ یاد دلا دیں کہ بھارت توڑو کب ہوا تھا۔ جب بھارت کے دو ٹکڑے ہوئے۔ کشمیر بن گیا، پنجاب گیا اور بنگال بھی چلا گیا۔
آج اگر مسٹر راہل گاندھی کشمیر میں جھنڈالہرانے میں کامیاب ہو رہے ہیں تو صرف اس لئے کیو نکہ ہمارے کنوینرنے اپنی جان گنوائی اور ہمارے وزیر اعظم 2019 میں کشمیرکو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اگر بھارت جوڑو کی بات کرتی ہے توبڑی افسوس کی بات ہے،ان کی ایک پالیسی رہی ہے-بانٹے آنگن اور گلیارے، بانٹے مندر اور گرودوارے، گاو¿ں -گاو¿ں اور کھیت کھیت میں تم نے ذات پات کی مواد بانٹ دی اورایک ووٹ کی خاطرتم نے ملک کی بنیاد بانٹ دی۔