دفعہ 370 سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کانگریس اور ڈی ایم کے کا موقف خطرناک: کرن رجیجو

File Photo

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو ’انڈیا بلاک‘ پارٹنرز کانگریس اور ڈی ایم کے کے رہنماوں کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی آئینی مراعات کی منسوخی کو برقرار رکھنے والے سپریم کورٹ کے حالیہ تاریخی فیصلے پر ان کے ‘توہین آمیز’ ریمارکس پر تنقید کی۔
پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں لوک سبھا میں کارروائی کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے، رجیجو نے ایکس پر اپنے سرکاری ہینڈل سے پوسٹ کیا اور کہا، “یہ نہ صرف سپریم کورٹ پر توہین آمیز تبصرہ ہے بلکہ اس کے پیچھے کا مقصد ہمارے ملک کے اتحاد کے لیے بہت خطرناک ہے”۔
مرکزی وزیر کے ذریعہ شیئر کردہ ویڈیو کلپ میں، ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ محمد عبداللہ اور کانگریس کے رکن وینوگوپال راجیہ سبھا کے فلور پر دفعہ 370 کی منسوخی سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سنے گئے، جس سے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے ساتھ گرما گرم تبادلہ ہوا۔ ارکان نے کہا ، “وہ اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کا مذاق نہیں اڑ سکتے”۔
مرکزی وزیر نے پوسٹ میں کہا،”بھارت اپنے تنوع کیلئے جانا جاتا ہے لیکن اگر ہم کانگریس اور ڈی ایم کے کے ایجنڈے کو کامیاب ہونے دیتے ہیں تو بھارت ٹوٹ جائے گا۔ اظہار رائے کی آزادی خود ارادیت کیلئے نہیں ہے“۔
ڈی ایم کے ممبر کے دفاع میں آتے ہوئے، کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال کو کلپ میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا، “رکن کو اس کے بارے میں بات کرنے کی آزادی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلے پر تنقید کا بھی پورا حق رکھتا ہے“۔
ڈی ایم کے کے ایم پی محمد عبداللہ نے ایوان بالا میں جموں و کشمیر سے متعلق دو مسودہ قانون پر بحث کے دوران کہا، “ہر نسل کو حق خود ارادیت حاصل ہے جو کشمیر کے لوگوں کو اپیل کرتا ہے”۔
ڈی ایم کے ایم پی کے ریمارکس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے، دھنکھڑ نے کہا، “یہ نامناسب ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ معزز ممبر بات کر رہے ہیں… آپ فیصلے کا مذاق نہیں اڑا سکتے“۔
دھنکھر نے وینوگوپال کو خبردار کیا، “یہ (فریڈم آف سپیچ) آپ کو یہ لائسنس نہیں دیتا کہ آپ جو کچھ محسوس کریں وہ کہیں۔ آپ کو بہت زیادہ جوابدہ ہونا پڑے گا۔ آپ کو جوابدہ ہونا پڑے گا”۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز کی طرف سے ریاست کی جانب سے لیا گیا ہر فیصلہ قانونی چیلنج کا شکار نہیں ہو سکتا۔