مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا: فاروق عبداللہ

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا دفاع کیا۔ اُنہوں نے مرکزی وزیرِ داخلہ کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ بتادیں کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں نہرو پر “دو بڑی غلطیوں” – مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ لے جانا -اور پورے جموں و کشمیر قبضے میں لئے بغیر جنگ بندی کا اعلان- کا تذکرہ کیا اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لارڈ ماو¿نٹ بیٹن اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی تجویز دی تھی کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں جانا چاہئے۔
عبداللہ نے کہا،”اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، لارڈ ماو¿نٹ بیٹن اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی مشورہ دیا تھا کہ اس کو اقوام متحدہ میں جانا چاہیے…“ ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پونچھ اور راجوری بھی پاکستان چلے جاتے اگر فوج کو خطوں کو بچانے کے لیے نہ ہٹایا جاتا۔
اُنہوں نے مزید کہا، “اس وقت پونچھ اور راجوری کو بچانے کے لیے فوج کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پونچھ اور راجوری بھی پاکستان چلے جاتے…“۔
لوک سبھا کے ایک ہنگامہ خیز اجلاس میں، شاہ نے یہ کہتے ہوئے سرخیاں بنائیں کہ اگر جواہر لعل نہرو نے صحیح قدم اٹھایا ہوتا تو پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) آج بھارت کا اٹوٹ حصہ ہوتا۔
امت شاہ نے جواہر لعل نہرو کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور کے فیصلوں کو، خاص طور پر جنگ بندی کے اعلان اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو شامل کرنے کو، تاریخی غلطیوں کے طور پر سمجھا جنہوں نے جموں و کشمیر کو اہم مصائب سے دوچار کیا۔
جموں و کشمیر ریزرویشن (ترمیمی) بل اور جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل پر لوک سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے شاہ نے کہا کہ اگر نہرو نے صحیح قدم اٹھایا ہوتا تو خطہ کا ایک بڑا حصہ واپس نہیں کیا جاتا اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہوتا۔
شاہ نے کہا،”میں اس لفظ (نہروین بلنڈر) کی حمایت کرتا ہوں جو یہاں استعمال کیا گیا تھا ۔ نہرو کے دور میں جو غلطی کی گئی اس کا خمیازہ کشمیر کو بھگتنا پڑا۔ ذمہ داری کے ساتھ، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جواہر لال نہرو کے دور میں جو دو بڑی غلطیاں ہوئیں، وہ ان کے فیصلوں کی وجہ سے ہوئیں، جس کی وجہ سے کشمیر کو برسوں تک بھگتنا پڑا“۔
شاہ نے کہا،”کشمیر کو نہرو کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ ایک یہ کہ جب ہماری فوج جیت رہی تھی اور جونہی پنجاب کے علاقے میں پہنچی تو جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا جنم ہوا۔ اگر جنگ بندی کا تین دن بعد (اعلان) کیا جاتا تو پاک زیرِ انتظام کشمیر بھارت کا حصہ ہوتا“۔