زمینوں سے بے دخلی کا حکم غریبوں کا نوالہ چھین لے گا: تاریگامی

جموں//پی اے جی ڈی کے ترجمان اور سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے جموں و کشمیر کے ریونیو ریکارڈ میں مختلف عنوانات کے تحت رجسٹرڈ اراضی سے لوگوں کو بے دخل کرنے کے حکومتی اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا،”انتظامیہ دیہی علاقوں کی غریب عوام کا ذریعہ معاش تباہ کرنے پراتر آئی ہے، کیا یہ ’’اچھے دنوں‘‘ کا آغاز ہے؟ انتظامیہ جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ زمین ترقیاتی مقاصد کے لیے حاصل کی جا رہی ہے لیکن حقائق اس کے دعوؤں کے برعکس ہیں”۔
تاریگامی نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت نے اپنی تمام تر مشینری کو غریبوں کو کاہچرائی وغیرہ کے نام سے درج اراضی سے محروم کرنے کے لیے متحرک کر دیا ہے۔ حکومت کے حالیہ حکم کے بعد جو لوگ اس زمین پر منحصر ہیں ، بے گھر اور بے روزگار ہو جائیں گے۔
اُنہوں نے کہا،”سرکاری اراضی” کو واپس لینے کے نام پر حکومت لوگوں کی زمینیں چھین کر اسے پرائیویٹ لینڈ بنا کر لوگوں کو مفلوج کرنے کی مذموم کوششیں کر رہی ہے۔اس اقدام سے نہ صرف ہزاروں لوگ گھروں سے محروم ہوں گے بلکہ بہت سے کاشتکار بھی زریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
تاریگامی نے کہا کہ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد، غیر مقامی لوگوں کو خطے میں سرمایہ کاری کرنے پر اکسانے کے لیے اراضی قوانین کا ایک نیا سیٹ متعارف کرایا ہے جس سے یہاں کے لوگوں میں اپنی زمین غیر مقامی افراد کے ہاتھوں بیچے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ریونیو حکام کو 31جنوری تک سٹیٹ لینڈ واپس لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے لوگوں کے خدشات سچ ہو رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے بے روزگاری جیسے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے غریبوں کی زمینیں واپس لینا شروع کر دی ہیں۔ اس اقدام کے خلاف لڑنے کے لیے غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا چاہیے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ سی پی آئی (ایم) زبردستی اراضی کے حصول پر فوری طور پر روک لگانے اور حالیہ حکم نامے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔سی پی آئی (ایم) رائے عامہ کے تمام حلقوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ متحد ہو کر انتظامیہ کے ایسے تباہ کن اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں۔