منشیات دہشت گردی معاملہ: مزید 6 ملزمان کے خلاف چوتھی ضمنی چارج شیٹ داخل

عظمیٰ ویب ڈیسک

جموں// ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے ) جموں نے دہشت گردی کی فنڈنگ سے متعلق ایک کیس میں مزید 6 ملزمان کے خلاف چوتھی ضمنی چارج شیٹ داخل کی ہے، جس سے اس معاملے میں ملوث ملزمان کی کل تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔
ایجنسی کے ایک ترجمان نے کہا کہ محمد شریف چیچی، فاروق احمد جنگل، اور سیف دین جنہیں ایس آئی اے نے حال ہی میں گرفتار کیا تھا، ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967، نارکوٹک ڈرگ سائیکو ٹراپک سبسٹانس ایکٹ (این ڈی پی ایس ایکٹ) اور بھارتی قانون کی مختلف دفعات کے تحت مجرمانہ سازش، حزب المجاہدین، ممنوعہ عسکری تنظیم کیلئے فنڈز جمع کرنے سے متعلق کیس میں چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایس آئی اے جموں نے 10 لاکھ روپے کی رقم بھی ضبط کی ہے اور بینک کھاتوں میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ کو منجمد کیا ہے جو پاک مقبوضہ کشمیر سے منشیات کی سمگلنگ کے زریعے حاصل ہونے والی رقم تھی۔ دیگر 3 ملزمان حمید اللہ کھوڑو، فاروق احمد شال اور جاوید احمد چالکو، تمام حزب المجاہدین جنگجووں، اپنی گرفتاری سے بچ رہے ہیں اور اس وقت پاکستان میں مقیم ہیں۔
ایس آئی اے ترجمان نے مزید کہا کہ ملزمان پاک مقبوضہ کشمیر سے ہیروئن کو اوڑی، ہتھلانگہ، بارہمولہ میں سمگل کرنے اور جموں میں ہیروئن کی مزید نقل و حمل اور فروخت کرنے میں ملوث تھے تاکہ بھاری رقم حاصل کی جا سکے جسے ممنوعہ عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے بالائی ورکروں تک پہنچائی جائے۔ ملک کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی کو چیلنج کرنے کیلئے ملک مخالف سرگرمیوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کو مزید تقسیم کرنے کیلئے اسے بینکنگ چینلز میں جمع کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایس آئی اے جموں نے چوتھی چارج شیٹ داخل کر کے اور گرفتاریاں کر کے عسکری سرگرمیوں کے چینلز میں بھاری رقم کو داخل ہونے سے روکا ہے۔
ملوث ملزمان کے خلاف ایس آئی اے کے کریک ڈاون نے ہمارے بہت سے نوجوانوں کی زندگیوں کو خراب ہونے سے بچایا ہے۔
ایس آئی اے ترجمان نے کہا کہ کل ملزمان کے خلاف سیکشن 82/83 کے تحت جائیداد قرق کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ منشیات کا ایک منظم سنڈیکیٹ ہے جس میں فاروق احمد نائیکو دبئی سے کام کر رہا تھا، محمد رفیق نجار، مبشر مشتاق فافو، عینز احمد صیام، محمد شریف چیچی، فاروق احمد جنگل، سیف دین، جو پاکستان سے کام کرنے والے حزب المجاہدین کے دہشت گردوں فاروق احمد شال، حمید اللہ کھوڑو، طارق احمد ملہ اور جاوید چلکو کے ساتھ سازش رچنے کے بعد منشیات کو بھارتی حدود میں گھسایا اور مزید منشیات کو جموں منتقل کیا تاکہ دہشت گردی میں استعمال کرنے کیلئے بھاری رقوم جمع کی جائیں اور عسکری سرگرمیوں اور علیحدگی پسندوں کی مالی معاونت کی جا سکے۔