دہلی کے چلڈرن ہسپتال میں آگ لگنے سے 7 نوزائیدہ بچوں کی موت

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// مشرقی دہلی کے وویک وہار میں بچوں کے ایک ہسپتال میں زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے 7 نوزائیدہ بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
دہلی فائر سروسز (ڈی ایف ایس) کے حکام نے بتایا کہ شاہدرہ کے بچوں کے ہسپتال میں ہفتہ کی رات آگ بھڑک اٹھی۔
ڈی ایف ایس کے سربراہ اتل گرگ نے بتایا کہ بارہ نوزائیدہ بچوں کو طبی سہولت سے بچایا گیا لیکن ان میں سے سات کی موت ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ پانچ بچے دوسرے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ آگ بیبی کیئر نیو بورن ہسپتال اور اس سے ملحقہ عمارت میں گزشتہ رات تقریباً 11.30 بجے لگی۔
بچوں کو دیگر لوگوں کی مدد سے ہسپتال سے نکال کر دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ افسر نے بتایا کہ چھ بچوں کو مردہ قرار دیا گیا، ایک کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جی ٹی بی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ہسپتال کے مالک نوین کیچی کے خلاف کارروائی شروع کی جارہی ہے۔
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے واقعہ کو ‘دل دہلا دینے والا’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے اس حادثے میں اپنے معصوم بچوں کو کھو دیا۔ حکومت اور انتظامیہ کے اہلکار موقع پر زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف ہیں۔
اس بات کا عزم کرتے ہوئے کہ جو بھی اس لاپرواہی کا ذمہ دار ہے اسے بخشا نہیں جائے گا، کیجریوال نے کہا کہ واقعہ کی وجہ کی جانچ کی جارہی ہے۔
دریں اثنا، وزیر صحت سوربھ بھردواج نے کہا، “انتہائی افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ میں نے سکریٹری [صحت] سے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے بارے میں اپ ڈیٹ کریں۔ مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا۔ غفلت برتنے والے یا کسی غلط کام میں ملوث پائے جانے والوں کے لیے سخت ترین سزا کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘