کشتواڑ کی ڈھوکوں میں سیزنل اساتذہ خانہ بدوش بچوں کو تعلیم دیں گے: ڈپٹی کمشنر

کشتواڑ// گھر کی دہلیز پر تعلیم فراہم کرنے کے مقصد کے ساتھ، ضلع انتظامیہ کشتواڑ نے ضلع کے دور دراز علاقوں اور عاضی جھونپڑیوں میں رہائش پذیر “سکول سے باہر خانہ بدوش بچوں” کے لیے سیزنل اساتذہ کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کشتواڑ ڈاکٹر دیونش یادو نے کہا کہ چیف ایجوکیشن آفیسر اور ضلع کے تمام زونل ایجوکیشن آفیسرز کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ منعقد کی گئی تھی جس میں سیزنل اساتذہ کی تیاریوں، سیزنل مراکز میں ان کی تعیناتی کے حوالے سے بات چیت کی گئی ۔ ڈاکٹر یادو نے کہا،”ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہینڈ آو¿ٹ شکل میں 15 سے 20 یادداشتوں کے مواد کو سیزنل اساتذہ کے لیے تیار کیا جائے تاکہ وہ سکولوں میں اس طرح کے محدود علمی استعمال کو انتہائی موثر انداز میں استعمال کر سکیں”۔

چیف ایجوکیشن آفیسر کشتواڑ پرہلاد بھگت نے تمام متعلقہ افسران بشمول دہلی کے مہمان فیکلٹی کم ماہرین کو سیزنل اساتذہ کی آئندہ تعیناتی کی تیاری اور سکولوں میں ان کے جاری انرولمنٹ کے عمل کے علاوہ فاو¿نڈیشن لٹریسی اور نمبریسی پر ان کی آنے والی تربیت کے بارے میں آگاہ کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے سیزنل اساتذہ کو صحیح نقطہ نظر کے ساتھ تحریک دینے اور انہیں مناسب تدریسی مواد سے آراستہ کرنے پر بھی زور دیا۔

نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی فاونڈیشن لٹریسی اینڈ نیومریسی اور نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے ماہر تعلیم و ماہرین دیشا کاوا اور جیشری گوئل نے بھی ان خانہ بدوش بچوں کو پڑھانے کے دوران ان اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے بارے میں افسران کے ساتھ خیالات کا اظہار کیا اور اس کے مطابق ضلع انتظامیہ کی کوششوں سے ان موسمی اساتذہ کے لیے ورچوئل اور آف لائن دونوں طرح سے دو روزہ تربیتی پروگرام اگلے دو دنوں میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں دہلی کے ماہرین تعلیم محکمہ کے ساتھ مل کر سیزنل اساتذہ کو تربیت دیں گے اس سے پہلے کہ وہ باضابطہ طور پر ڈھوکوں میں تعینات کئے جائیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا،”شیڈیولڈ ٹرائب کمیونٹی کے 1400 سے زیادہ ‘سکول سے باہر بچے’ مرکزی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نے سکولوں میں داخلہ لے لیا ہے جو کہ کمیونٹی سکول سے باہر غریب بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے حوالے سے ایک غیر معمولی قدم ہے”۔