جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں زیرِ التواءفوجداری مقدمے میں ملوث شخص کو سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی

عظمیٰ ویب ڈیسک

سرینگر// سپریم کورٹ نے ایک شخص کو ضمانت یہ نوٹ کرتے ہوئے دے دی ہے کہ اس کی ضمانت کی درخواست جموں و کشمیر اور لداخ کے ہائی کورٹ میں بغیر کسی فیصلے کے چھ ماہ سے زیر التواءہے۔
بار اینڈ بنچ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے جہیز سے متعلق معاملے میں موت میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک شخص کو ضمانت دے دی ہے، جس کی درخواست ضمانت جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ میں مہینوں سے بغیر کسی فیصلے کے زیر التوا تھی۔
جسٹس بی آر گوائی، راجیش بندل اور سندیپ مہتا نے مشاہدہ کیا کہ ملزم (ضمانت کے درخواست گزار) تقریباً آٹھ سال سے جیل میں بند ہے۔ عدالت نے اس خراب رفتار کا بھی نوٹس لیا جس سے اس کے خلاف فوجداری مقدمہ چل رہا تھا۔ ہائی کورٹ میں اُس کی ضمانت کی درخواست زیر التوا ہونے کے باوجود عدالت نے اسے ضمانت دینے کی کارروائی کی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا، ”درخواست گزار تقریباً آٹھ سال سے جیل میں بند ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جس رفتار سے مقدمہ چل رہا ہے، ہم ہائی کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود ضمانت دینے پر آمادہ ہیں“۔
ضمانت کے درخواست گزار نے اس شکایت کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ اس کی ضمانت کی درخواست ہائی کورٹ میں بغیر کسی فیصلے کے چھ ماہ سے زیر التوا ہے۔ جب اس معاملے کی پہلی بار سپریم کورٹ نے سماعت کی تو بتایا گیا کہ ضمانت کی عرضی مئی 2023 سے ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
30 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ضمانت کی درخواست پر جلد سے جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔
سپریم کورٹ نے کہا، “ہم اس رفتار کی تعریف نہیں کریں گے جس رفتار سے ہائی کورٹ ایک شہری کی ذاتی آزادی سے متعلق معاملے میں نمٹ رہی ہے۔ ضمانت کے معاملے کا جلد سے جلد فیصلہ کیا جانا چاہیے”۔
تاہم ضمانت کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا رہی۔ جبکہ یہ معاملہ 23 فروری کو ہائی کورٹ میں درج تھا لیکن وقت کی کمی کے باعث اس پر سماعت نہ ہو سکی اور اسے ملتوی کر دیا گیا۔
اس کے پیش نظر سپریم کورٹ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی اجازت دے دی۔