جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ کی بحالی ایک ’پختہ وعدہ‘، اس پر قائم رہیں گے: مودی

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا ہے کہ ان کی حکومت نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے ایک “پختہ وعدہ” کیا ہے اور اس پر قائم رہے گی۔
قومی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، وزیرِ اعظم مودی نے سرینگر کے ووٹر ٹرن آوٹ پر کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے خطے میں جمہوریت کو بڑھانے کیلئے این ڈی اے حکومت کے عزم کو دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی بحالی ایک “پختہ وعدہ ہے جو ہم نے کیا ہے اور ہم اس پر قائم ہیں، “ہم صحیح حالات پیدا کرنے کے لیے بہت محنت کر رہے ہیں تاکہ یہ جلدی سے ہو سکے”۔
مرکز نے اگست 2019 میں جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے دفعہ 370 کو منسوخ کر دیا اور سابقہ ریاست کو دو مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سرینگر، جو کبھی ہر قسم کے بنیاد پرست عناصر کا گڑھ ہوا کرتا تھا، کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آوٹ دیکھنے کو ملا۔ 13 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے میں سرینگر میں 36.7 فیصد ٹرن آوٹ ریکارڈ کیا گیا – جو 1996 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
مودی نے کہا، “گزشتہ پانچ سالوں میں جموں و کشمیر میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے مجھے بہت امید ملتی ہے کہ ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے صحیح راستے پر گامزن ہیں۔ ہم ایک ایسا جموں و کشمیر بنانا چاہتے ہیں جہاں تشدد تاریخ ہو، خوشحالی مقدر ہو۔ یہ کشمیر کے لیے ہماری طویل مدتی حکمت عملی ہے۔ ہماری خواہش یہ ہے کہ جموں و کشمیر AI (مصنوعی ذہانت) جیسی مستقبل کی ٹیکنالوجیز کا مرکز بننے کے ساتھ ثقافت، علم اور سیاحت کے مرکز کے طور پر اپنا قد دوبارہ حاصل کرے۔