انتخابات کے پیش نظر راجوری، پونچھ سیکورٹی سخت، ایل او سی پر ہائی الرٹ

عظمیٰ ویب ڈیسک

پونچھ// اننت ناگ-راجوری لوک سبھا حلقہ پر انتخابات کے پیش نظر راجوری اور پونچھ اضلاع میں بالخصوص لائن آف کنٹرول کے ساتھ سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پرامن اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کی خاطر اضافی تین سو پیرا ملٹری فورسز کی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ جموں میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر الیکشن کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اننت ناگ-راجوری پارلیمانی نشست پر پر امن اور شفاف انتخابات کے لئے سیکورٹی ایجنسیوں اور سیول انتظامیہ نے سبھی تیاریاں مکمل کی ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ پیرا ملٹری فورسز کی تین سو کمپنیوں کے ساتھ ساتھ فوج ، بی ایس ایف اور سی آر پی ایف کے دستوں کو بھی جگہ جگہ تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس ، فوج اور بی ایس ایف کے سینئر عہدیداروں کی ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی جس دوران پر امن الیکشن کے حوالے سے کئے جارہے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر پونچھ اور راجوری اضلاع سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔
اننت ناگ راجوری پارلیمانی نشست پر 7مئی کو ووٹنگ ہونی تھی تاہم خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 25مئی تک الیکشن کو موخر کردیا۔
اس سیٹ میں پلوامہ ، شوپیاں ، اننت ناگ ، کولگام ، راجوری اور پونچھ اضلاع کے بیشتر علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ راجوری اور پونچھ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران چار دہشت گردانہ حملے ہوئے جس کے پیش نظر دونوں اضلاع میں سیکورٹی کے فقید المثال انتظامات کئے گئے ہیں۔
سال 2023میں راجوری ، پونچھ اور ریاسی اضلاع میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان کئی انکاونٹر ہوئے جبکہ دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں ایک سال کے دوران 54افراد مارے گئے جن میں 19سیکورٹی فورسز کے اہلکار اور 28ملی ٹینٹ شامل ہیں۔
چار مئی کوکو پونچھ میں ہندوستانی فضائیہ کی گاڑیوں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک جوان جاں بحق جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔
اننت ناگ راجوری پارلیمانی حلقے میں 18.30لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں جن میں 8.99لاکھ خواتین شامل ہیں۔
اننت ناگ لوک سبھا سیٹ میں کل ملا کر 18اسمالی حلقے شامل ہیں جن میں اننت ناگ ضلع میں سات ، راجوری میں چار ، کولگام اور پونچھ میں تین اور شوپیاں میں ایک شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور اپنی پارٹی کے ظفر منہاس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے۔