کٹھوعہ ٹرین معاملہ: ابتدائی تحقیقات میں ڈرائیور، سٹیشن ماسٹر قصور وار ٹھہرائے گئے

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی//جموں توی-پٹھانکوٹ سیکشن میں کٹھوعہ (جموں) سے اُچی بسی سٹیشن (پنجاب) تک تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مال بردار ٹرین کے بغیر ڈرائیور کے چلنے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں ٹرین ڈرائیور اور سٹیشن ماسٹر کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔
ریلوے کے پانچ سینئر عہدیداروں کے دستخط شدہ مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں واقعہ میں ملوث مختلف افراد کے بیانات درج کئے گئے ہیں، جن میں ظاہر ہوا ہے کہ ڈرائیور اور کٹھوعہ کے سٹیشن ماسٹر نے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ لوکو پائلٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہینڈ بریک لگا کر ٹرین کے انجن اور تین ویگنوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ اس نے لوکو کے پہیوں کے آگے لکڑی کے دو پچر بھی لگائے تاکہ وہ حرکت نہ کر سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تاہم، جب ٹرین کو اُچی بسی پر روکا گیا تو متعلقہ سٹیشن ماسٹر نے معائنہ کیا جس کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی اور پتہ چلا کہ ویگن کے ہینڈ بریکس لاگو پوزیشن میں نہیں تھے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ کٹھوعہ کے سٹیشن ماسٹر نے، جو ڈیوٹی پر تھے، صبح 6 بج کر 05 منٹ سے 7 بج کر 10 منٹ تک ٹرین کو ٹھیک سے نہیں کھڑا کیا۔ ریلوے حکام نے کہا کہ معمول کے مطابق، سٹیشن ماسٹر کو یہ چیک کرنا ہوگا کہ آیا بریک صحیح طریقے سے لگائی گئی ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دیگر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کہ ریل حرکت نہ کرے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایک ڈویژنل میٹریل ٹرین (DMT) تھی جو تعمیراتی اور دیگر مقاصد کیلئے ریلوے کا سامان لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ 53 ویگنوں کے ساتھ کٹھوعہ جنکشن پر کھڑی تھی اور اس میں کوئی بریک وین (گارڈز کوچ) نہیں تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صبح 5 بج کر 20 منٹ کنٹرول روم نے سٹیشن ماسٹر سے کہا کہ وہ ڈرائیور سے ٹرین کو جموں لے جانے کو کہے لیکن ڈرائیور نے انکار کر دیا کیونکہ ٹرین میں کوئی گارڈ کا کوچ اور گارڈ نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق کنٹرول روم نے ڈرائیور کو ٹرین بند کرنے، اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے اور جموں جانے کیلئے ٹرین لینے کو کہا۔ ڈرائیور نے صبح 6 بجے کے قریب سٹیشن ماسٹر کو چابیاں سونپیں اور جموں کے لیے روانہ ہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرین صبح 6 بجے سے صبح 7 بج کر 10 منٹ تک بغیر پائلٹ کے رہی، اس سے پہلے کہ وہ نیچے گراوٹ کی وجہ سے خود چلنا شروع ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق، سٹیشن ماسٹر کو لوکو پائلٹ کو ٹرین کو بغیر پائلٹ کے چھوڑنے کے لیے تحریری طور پر لکھ کر دینا تھا لیکن رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوکو پائلٹ نے بھی لوڈ سٹیبلائزنگ رجسٹر میں کوئی اندراج نہیں کیا اور نہ ہی وہاں اپنا نشان لگایا۔
اطلاعات کے مطابق، فیروز پور ڈویژن کے ڈویژنل ریلوے مینیجر، جس کے تحت کٹھوعہ-جموں توی سیکشن آتا ہے، نے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر ریلوے کے چھ اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
رابطہ کرنے پر، شوبن چودھری، جنرل مینیجر، ناردرن ریلوے (این آر) نے بتایا، “فی الحال میں افسران کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے بارے میں کوئی بیان نہیں دے سکتا کیونکہ مزید تحقیقات جاری ہے”۔
ایک سرکاری ریلوے کمیونیکیشن کے مطابق، بغیر ڈرائیور والی ٹرین 70 سے 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلی، آٹھ سے نو سٹیشنوں کو عبور کیا اور 75 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اس سے پہلے کہ اسے ریت اور لکڑی کے بلاکس جیسے راستے میں رکاوٹیں ڈال کر اُچی بسی پر روکا گیا۔