عوام بھاجپا کے پراکسی امیدواروں کو مسترد کریں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

عظمیٰ ویب ڈیسک

جموں// جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اتوار کو کہا کہ 5اگست2019کو بی جے پی نے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر چھین لیا اور یہاں کے عوام پر ڈاکہ زنی کی۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ بھاجپا والے اپنے فیصلے سے متعلق کافی دعوے کرتے پھرتی لیکن اصل حقیقت تب سامنے آگئی جب بھاجپا نے یہاں پارلیمانی انتخابات میں اپنے اُمیدوار میدان میں نہیں اُتارے۔ لیکن بھاجپا میدان میں برابر اپنی پراکسیوں کیلئے کام کررہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ عوام ان پراکسیوں کو بھی مسترد کریں۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے مینڈھر میں چناوی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج ہماری زمینوں کو خطرہ لاحق ہے، ہمارے لوگوں کو جنگلات کے حقوق سے محروم کیا گیا، جنگلاتی اراضی کے نام پر عوام کو بے گھر کیا جارہاہے اور یہ سلسلہ 2016سے شروع ہوا۔ آج ہمارے بچے بے روزگار ہیں اور باہری امیدواروں کو یہاں نوکریاں فراہم کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھاجپا خطہ پیرپنچال کے لوگوں کو مذہب، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں لگی ہوئی ہے، میں اس خطہ کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر حال میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور فرقہ پرست اور تفرقہ ڈالنے والے عناصر کے جانسے میں نہ آئے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے صدیوں پُرانے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کیا جارہاہے اور یہاں جعلی لیڈروں، نقلی سیاستدانوں اور نقدی سیاسی جماعتوں کی تشکیل دی جارہی ہے ، جو پس پردہ انہی لوگوں کے آلہ کار ہیں جنہوں نے ملک و قوم کو تفرقہ بازی، پریشانی اور مایوسی میں الجھایا ہے۔ یہ سیاسی بہروپئے وہی ہیں جنہوں نے اس قوم کو مختلف صورتوں میں اور مختلف اوقات میں اپنے حقیر ذاتی مفادات کیلئے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ عوام بھاجپا کی اے ، بی، سی اور ڈی ٹیموں اور ان کے جانسوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،ریاست کی خصوصی پوزیشن اور انفرادی شناخت اور پہچان کو ختم کرنے کیلئے یہی بہروپئے ذمہ دار ہیں، جو ہمیشہ ریاستی دشمنوں کے آلہ کار رہے ہیں۔
اس شناخت اور اندرونی خودمختاری اور پھر سے حاصل کرنے کی جدوجہد جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس جیسی ہی مخلص جماعت کرسکتی ہے۔ لہٰذا ریاست جموںو کشمیر کی بحالی، اندرونی خودمختاری اور ریاست کی باعزت حصولیابی کی جدوجہد اور آئینی اور قانون حکمرانی کے حصول، جمہوری حقوق اور جمہوری اداروں کی بحالی، عوامی اعتماد کی بحالی اور تیز تر اقتصادی و سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے موجودہ پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے نامزدہ امیداروں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔