کوئی بھی ذاتی مفاد قوم اور وطن کی محبت سے بڑا نہیں ہوتا: فاروق عبداللہ

یو این آئی

سرینگر// پارٹی سے وابستہ لیڈران، عہدیداران اور کارکنان کو آنے والے چیلنجوں کیلئے کمربستہ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ہمیں ہر حال میں مستعد، پُرعزم اور ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی صورت میں دشمن کے مذموم ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے

سری نگر میں پارٹی لیڈرا ن اورعہدیداران کے ساتھ ملاقات کے دوران نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام ایک مشکل ترین اور نازک دور سے گزر رہے ہیں، ایک غیر جمہوری نظام میں لوگوں کے احساسات، جذبات اور اُمنگوں کو روندا جارہاہے۔ ہماری شناخت، انفرادیت اور اجتماعیت کے علاوہ تاریخی اہمیت کو مسخ کیا جارہاہے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کیلئے بھاجپا اور اس کے درپردہ پراکسی سازشوں میں مصروف ہے۔تاہم مجھے اُمید ہے کہ جموں کشمیر کے عوام ماضی کی طرح نیشنل کانفرنس کو اپنا بھر پور تعاون اور اشتراک دیتی رہے گی اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بے شمار موقعہ پرست اور ابن الوقت سیاست دانوں کو کام پر لگایا ہوا ہے، جن سے کشمیریوں کی آواز کو بے وزن اور مستقبل میں ووٹوں کو تقسیم کرنے کا کام لیا جائے گا۔

لوگوں کو کشمیر دشمن عناصر سے ہوشیار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایسے عناصر کو پہچان کر اُن کو مسترد کرنا ضروری ہے جنہوں نے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرنے کیلئے بھاجپا کو دپردہ تعاون اور اشتراک فراہم کیا۔

نیشنل کانفرنس کے صدر نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ آنے والے انتخابات کیلئے پوری طرح تیا راور کمربستہ رہنے کے ساتھ ساتھ عوامی رابطہ مہم سرعت لانے کی ضرورت ہے اور اس دوران لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات کو اُجاگر کرنے کے علاوہ اُن کے ہر دکھ سکھ میں پیش پیش رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی ہی طاقت کا سرچشمہ ہے اور سرداری عوامی کا حق ہے اور نیشنل کانفرنس آج بھی اس اصول پر قائم و دائم ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی سے وابستہ افراد سے کہا کہ کوئی بھی ذاتی مفاد قوم اور وطن کی محبت سے بڑا نہیں ہوتا ہے اور زور دیا کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو آپ کے ضمیر اور وفاداریوں کو خریدنے کی کوشش کریں، ایسے عناصر کی وجہ سے ہی جموں وکشمیر کی خصوصیات کی لوٹ کھسوٹ ممکن ہوپائی۔