این آئی ٹی سرینگر کے طالبعلم کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے پر مقدمہ درج

File Image

عظمیٰ ویب ڈیسک

سرینگر// سری نگر کے حضرت بل علاقے میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) میں زیرِ تعلیم ایک طالب علم کے خلاف سوشل میڈیا پرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے منگل کو بتایا کہ انہیں آج شام اطلاع ملی کہ کچھ طلباءاین آئی ٹی کیمپس میں احتجاج کر رہے ہیں۔ چھان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک طالب علم نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کیا تھا، جو اس کا اپنا نہیں تھا بلکہ ایک YouTuber نے پوسٹ کیا تھا، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔
اُنہوں نے کہا،”رجسٹرار کی طرف سے فوری مداخلت کی گئی جنہوں نے اس معاملے پر طالب علم کو آگاہ کیا۔ اس دوران، ہمیں رجسٹرار کی طرف سے ایک مکتوب موصول ہوا جس میں قانونی کارروائی کے لیے زور دیا گیا”۔
پولیس افسر نے کہا،”ہمیں اطلاع موصول ہوئی ہے اور قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں”۔
ذرائع نے بتایا کہ مظاہرین نے غیر مقامی طالب علم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جسے کالج حکام نے فارغ کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ طلباءنے شہر کے نگین علاقے میں واقع ادارے کے دونوں دروازے بند کر دیے اور کیمپس کے اندر نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔
اس سے قبل بھی ادارے میں طلباءکے درمیان تناﺅ رہا ہے۔ قبل ازیں، سال 2016 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کی ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کے بعد مقامی اور غیر مقامی طلباءکے درمیان جھڑپوں نے انسٹی ٹیوٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جب کچھ مقامی طلباءنے بھارت کی ہار کا جشن منانے کیلئے پٹاخے پھوڑے تو باہر کے طلباءنے احتجاج کیا جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں تھیں۔