دہلی کی عدالت میں ٹی آر ایف کارکن کے خلاف چارج شیٹ داخل

نئی دہلی// نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کو جموں و کشمیر میں عسکری سرگرمیوں سے متعلق ایک معاملے میں ایک ملزم کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی۔
این آئی اے ترجمان بتایا کہ این آئی اے نے پولیس تھانہ پیر مٹھا جموں کے دائرہ اختیار میں تالاب کھٹیکاں علاقہ کے رہائشی فیصل منیر عرف علی بھائی پر لشکر طیبہ/ٹی آر ایف کے پاکستان میں مقیم کارندوں کے ساتھ مل کر بھارت میں عسکری کارروائیوں کے لیے اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی نقل و حمل اور سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے ، ” این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق،ملزم نے سرحد پار سے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر ہندوستان میں عسکری کارروائیوں کے لیے ان تنظیموں کے فعال ملی ٹینٹ کمانڈروں اور کارندوں کو ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی کھیپ پہنچانے کی سازش کی تھی”۔
انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ/ٹی آر ایف کے دیگر شریک ملزمان اور ہینڈلرز/آپریٹو کے ساتھ مل کر رچی گئی سازش کے ایک حصے کے طور پر، فیصل نے لشکر طیبہ/ٹی آر ایف کے لیے فعال کارکن طور پر کام کیا تھا اور لشکر طیبہ کے کارندوں سے اس کی عسکری سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے ارادے سے فنڈز حاصل کیے تھے۔
این آئی اے ترجمان کے بیان کے مطابق،”فیصل اس کیس میں چوتھا شخص ہے جس کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ این آئی اے نے اس سے قبل ملزم ارسلان فیروز عرف ارسلان سوب، مزمل مشتاق بھٹ عرف حمزہ اور مدثر احمد ڈار کے خلاف بالترتیب 18 جون، 9 نومبر اور 17 دسمبر 2022 کوچارج شیٹ داخل کی تھی۔
بیان کے مطابق، تینوں ملزمان، جو لشکرِ طیبہ/ٹی آر ایف کے کارندوں کے کہنے پر اوور گراو¿نڈ ورکرز کے طور پر کام کرتے پائے گئے، ان پر قانون کی مختلف دفعات کے تحت فرد جرم عائد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا ،”تحقیقات کے دوران، یہ بات سامنے آئی کہ فیصل منیر لشکر طیبہ/ٹی آر ایف کے ایک فعال بالائی ورکر کے طور پر کام کر رہا تھا، اور اسلحہ/دھماکہ خیز مواد/فنڈز حاصل کرنے، اکٹھا کرنے اور سپلائی کرنے میں ملوث تھا۔ یہ مواد پاکستان سے بھارت میں عسکری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے سانبہ/کٹھوعہ کے بین الاقوامی سرحدی علاقے کے قریب ڈرون کے ذریعے ڈرون کے ذریعے بھیجے گئے/گرائے گئے تھے”۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ساتھیوں سے کنسائنمنٹس حاصل کرنے کے بعدسرحد کے اس پار موجود لشکر طیبہ/ٹی آر ایف کے کارندوں کی ہدایت پر ملزم فیصل منیر انہیں عسکری کارندوں اور ان کے بالائی ورکروں کو آگے کی ترسیل کے لیے اپنی رہائش گاہ پر ذخیرہ کرتا تھا۔
بیان کے مطابق،”این آئی اے کی خصوصی عدالت، پٹیالہ ہاو¿س میں پیر کو داخل کردہ ضمنی چارج شیٹ میں، این آئی اے نے فیصل پر آئی پی سی، آرمس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ، 1967 کی مختلف دفعات کے تحت فرد جرم عائد کیا ہے”۔