این سی، پی ڈی پی نے 370 کا معاملہ اٹھایا لیکن عام عوام لاتعلق: ڈاکٹر جتیندر

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ کشمیر پر مرکوز علاقائی سیاسی جماعتیں نیشنل کانفرنس (این سی) اور پی ڈی پی اپنی انتخابی مہم میں دفعہ 370 کا مسئلہ مسلسل اٹھا رہی ہیں، حقیقت یہ ہے یہ کہ وادی کشمیر میں عام عوام اس مسئلے سے لاتعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے لوگ جاری انتخابی عمل کا حصہ بننے اور بھارت کی ترقی کے سفر کے ایک حصے کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں۔
مشہور “اوپن” میگزین کے ایڈیٹر راجیو دیش پانڈے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وادی کشمیر میں انتخابات حقیقی معنوں میں جمہوریت کے تہوار کا جشن ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ رائے دہندگان کا بھاری ٹرن آوٹ دفعہ 370 یا کشمیر کے لیے نام نہاد خصوصی حیثیت کی خواہش رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے خود غرض نعروں اور بیان بازی سے بندھے رہنے کے بجائے کشمیر کو بھارت کی ترقی کی کہانی کا حصہ بنانے کے لیے لوگوں کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کو جاتا ہے۔ انہوں نے کامیابی کے ساتھ جنکس کو توڑا اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ جموں و کشمیر بالخصوص وادی کشمیر کے لوگوں نے جمہوری امنگوں کو اتنی ہی اہمیت دی جتنی کہ کہیں اور دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کہ بارہمولہ لوک سبھا حلقہ میں ووٹر ٹرن آوٹ تقریباً 59 فیصد تھا، اننت ناگ-راجوری حلقہ کے پولنگ میں اس کے زیادہ ہونے کی امید ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کیا کہیں گے، ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران جب کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی برسراقتدار تھیں۔ وہ تو ٹھیک سے الیکشن بھی نہیں کروا سکے، اس کھلے عام انتخابی مہم کو تو چھوڑیں جس کا مشاہدہ آج ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی طرف سے پیدا کردہ ماحول ہے کہ آج اپوزیشن لیڈر بھی وادی میں بڑی عوامی ریلیاں نکال کر عیش و عشرت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ بی جے پی نے وادی کے حلقوں میں اپنی پارٹی کے امیدوار کیوں نہیں کھڑے کیے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ایسی پارٹی کے لیے جس کا نعرہ ”نیشن فرسٹ“ ہے، ملک کے بہترین مفاد کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ امیدوار کوئی بھی ہو، انہوں نے کہا کہ مودی کی قیادت والی بی جے پی کی جیت انتخابی مہم اور ووٹنگ دونوں کے لیے عام لوگوں کے بڑے پیمانے پر ٹرن آوٹ میں واضح طور پر نظر آتی ہے، جو کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ناقابل تصور تھا اور ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ ”مودی ہے تو ممکن ہے“۔