اوڑی میں ایل او سی پر تین در اندازوں کی ہلاکت بڑی کامیابی:فوج

File Photo

یو این آئی

سری نگر//بارہمولہ کی 19 انفنٹری کے جی او سی میجر جنرل اجے چند پوریا نے اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر گذشتہ روز تین در اندازوں کی ہلاکت کو بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مہلوکین کی تحویل سے چینی ساخت کےایم 16 ہتھیار ملنا ایک غیر معمولی باز یابی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اس نئی پیشرفت کا جائزہ لیں گے۔موصوف جی او سی نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ اوڑی سیکٹر میں ایل او سی پر در اندازی کی کوشش کرنے کے دوران تین در اندازوں کی ہلاکت سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’مہلوکین کی تحویل سے چینی ساخت کی ایم16 ہتھیاروں کا ملنا ایک غیر معمولی باز یابی ہے اور سیکورٹی فورسز اس نئی پیشرفت کا جائزہ لیں گے‘۔
مسٹر چند پوریا نے کہا کہ اوڑی کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ راجوری کے اکھنور سیکٹر اور گریز کے ٹنگڈار سیکٹر میں اس نوعیت کے واقعات پیش آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی کے متعلق ارادوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جو ایک تشویش ناک امر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹلی جنس رپورٹس کے مطابق 120 جنگجو سر حد پر مختلف لانچنگ پیڈس پر در اندازی کرنے کی تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پع سیکورٹی گرڈ کسی بھی چلینج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔
موصوف جی او سی نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ہوشیاری کی سطح ہر گذرتے دن کے ساتھ مستحکم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے در اندازی میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مایوسی کے عالم میں زیادہ سے زیادہ جنگجوؤں کو اس طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شمالی کشمیر کے قصبہ اوڑی کے کمل کوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر در اندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تین در اندازوں کو مار گرایا گیا۔