اگر عوام نےعزم کیا تو سال 2047 تک ہندوستان ترقی یافتہ ملک ہوگا: مودی

یواین آئی

وارانسی// وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ اگر 140 کروڑ شہریوں نے ملک کو آگے لے جانے کا عزم کیا تو سال 2047 تک یقینا ہندوستان ترقی یافتہ ملک ہوگا۔

وارانسی میں وکست بھارت سنکلپ یاترا پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا’ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لئے ہر شہری کو اپنی ذہن سازی کرنی ہوگی اور عزم کرنا ہوگا اور ایک بار اگر من بنا لیا گیا اور تو پھر منزل دور نہیں ہے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور دیگر وزراء اس موقع پر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ وکست بھارت سنکلپ یاترا ملک کا کام ہے۔یہ کسی پارٹی کا کام نہیں ہے اور جو بھی یہ کام کررہا ہے وہ نیک کام کررہا ہے۔وہ لوگ جو احاطے میں بیٹھے ہیں انہیں مان لینا چاہئے کہ وہ اپنی باری کو کھورہے ہیں۔مودی نے کہا کہ متعدد حکومتیں آئیں۔متعدد اسکیمیں بنائی گئیں اور بہت ساری چیزیں کی گئیں۔ لیکن میں نے جو محسوس کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے اہم کام جس پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے وہ یہ کہ ان اسکیموں کو فائدہ ان افراد کو ملے جس کے لئے وہ بنائی گئی ہیں۔اس مقصد کو حاصل کریں جس کے لئے ان اسکیمات کو وضع کیا گیا اور وہ بروقت بغیر کسی پریشانی کے مستحق تک پہنچنی چاہئے۔

انہوں نے کہااگر پردھان منتری آواس یوجنا ہے تو جھونپڑیوں اور کچے مکانوں میں رہنے والوں کے مستقل مکانات بنائے جائیں۔ اور اس کے لیے وہ حکومت کے چکر نہ لگائیں بلکہ حکومت کو قدم آگے بڑھانا چاہئے اور کام کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب سے عوام نے انہیں کام سونپا ہے تقریباً 4 کروڑ خاندانوں کو مستقل مکان مل چکے ہیں۔ “ابھی بھی کبھی کبھار اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ کہیں کوئی شخص چھوٹ گیا ہے۔ اس لیے ہم نے ملک بھر میں گھومنے کا فیصلہ کیا اور مستفیدین سے سرکاری اسکیموں کے بارے میں رائے لینے کا فیصلہ کیا کہ انہیں کیا ملا۔کس طرح انہوں نے یہ حاصل کیا آیا انہوں نے اس کے حصول میں کوئی دقت یا پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا وکست بھارت سنکلپ یاترا میرا امتحان ہے۔ میں آپ لوگوں سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا توقع کے مطابق کام ہوا ہے۔ کیا یہ کام ان لوگوں کے لئے کیا گیا ہے جن کے لئے اسے بنایا گیا تھااور کیا جو کام ہونا چاہیے تھا وہ پورا ہوا یا نہیں؟۔مودی نے کہا کہ کچھ مستفیدین سے تبادلہ خیال کے دوران وہ ایسے افراد سے ملے جنہیں آیوشمان کارڈ کے ذریعہ سنگین بیماری کا علاج ملا ہے۔ اس کے لئے مجھے دعائیں ملیں لیکن سرکاری ملازم اور افسران جو فائلوں پر اسکیم بناتے ہیں اور فنڈز بھی تقسیم کرتے ہیں، یہ سن کر اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ لوگوں کو فوائد مل رہے ہیں۔ ان کے کام کرنے کا جوش کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اسی لئے اسی لئے ابھی تک جہاں بھی یہ سنکلپ یاترا نکالی گئی ہے اس نے سرکاری ملازمین و افسران پر مثبت اثر ڈالا ہے اور وہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے وکست بھارت سنکلپ یاترا کی قوت کا احساس ہے۔مودی نے کہا وکست سنکلپ یاترا سے کیا فرق پڑے گا۔لیکن ہماری ایک بہن نے کہا کہ اس نے غریب اور امیر کے فرق کو ختم کردیا ہے۔جب ایک غریب شخص کہتا ہے کہ رسوئی گیس ملنے کے بعد غریب اور امیر کا فرق مٹ گیا تو یہ بڑی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر شخص یہ محسوس کرے کہ ریلوے، اسپتال دفتر میرا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ملک میرا ہے۔اور جب یہ جذبہ پیدا ہوگا تو ملک کے لئے کچھ کرنے کے جذبے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جب لوگوں کو سرکاری اسکیمات کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو ان کو لگتا ہے کہ یہ ان کا حق ہے۔اور جب 140 کروڑ افراد شہریوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ملک کے لئے آگے بڑھنے کا صحیح وقت ہے۔

مودی نے کہا کہ یاترا یہ بڑا خواب ہے اور عزم جسے ہمیں اپنی کوششوں سے پورا کرنا ہے۔بیج جو آج بوئی جارہی ہے وہ ‘ وٹ ورچھ’ شکل میں برآمد ہوگی۔اور ملک سال 2047تک ترقی یافتہ ہوگا اور ہمارے بچوں کا اس کا پھل ملنا شروع ہوجائےگا۔اس سے قبل وزیر اعظم نے سرکار کی مختلف اسکیمات پر بنائی گئی ایک نمائش کا دورہ کیا اور مستفیدین سے بات چیت کی۔