کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات میں جوش و خروش، لوگوں کی بھرپور شرکت

Huge gathering of people outside the Bakshi stadium Srinaagr Photo: Mubashir Khan

یو این آئی

سری نگر// وادی کشمیر میں منگل کو یوم آزادی کی تقریبات جوش و خروش کے ساتھ منائی گئیں ، گرمائی دارلخلافہ سری نگر میں واقع بخشی اسٹیڈیم میں امسال لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے کو ملا ۔
معلوم ہوا ہے کہ منگل کی صبح سے ہی وادی کے اطراف وا کناف سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سری نگر پہنچی جنہوں نے بخشی اسٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں منگل کو یوم آزدی کی تقریبات سخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ منائی گئیں۔ وادی میں یوم آزادی کی سب سے بڑی تقریب گرمائی دارالحکومت سری نگر میں واقع بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پرچم کشائی کی رسم ادا کی اور مرکزی نیم فوجی دستوں، جموں وکشمیر پولیس، ہوم گارڈس اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے دستوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مارچ پاسٹ کی سلامی لی۔
جموں وکشمیر انتظامیہ نے اس بار بھی یوم آزادی کی تقریبات میں اپنے ملازمین کی شمولیت کو لازمی قرار دیا تھا۔ حکومت نے اس حوالے سے جاری کردہ سرکولرس میں خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو تادیبی کارروائی کا انتباہ کیا تھا۔
یوم آزادی کی تقریبات کے احسن انعقاد اور ملی ٹینٹوں کی طرف سے حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے منگل کے روز وادی بھر میں سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ پر تھی۔ سری نگر میں یوم آزادی کی تقریب کو پر امن طریقے سے انجام دینے کے لئے ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا اور حساس علاقوں میں فقیدالمثال سیکورٹی بندوبست کیا گیا تھا۔
سری نگر کے حساس علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جگہ جگہ پر ناکے بٹھائے گئے تھے جن پر تعینات سیکورٹی اہلکار ہر آنے جانے والوں کی تلاشی اور ضروری پوچھ گچھ کرتے تھے۔
سری نگر کے سیول لائنز کے مختلف علاقوں خاص طور پر ڈل گیٹ، سونہ وار، ٹی آر سی کراسنگ، نمائش کراسنگ، تاریخی لال چوک، مائسمہ میں بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی تھیں۔
کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے بخشی اسٹیڈیم کے گردو نواح میں جموں و کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں پر شارپ شوٹرس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔
سیول لائنز علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے سینئر افسروں کو بھی گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا اور بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
وادی کے دیگر ضلع صدر مقامات میں بھی یوم آزادی کی تقاریب کے احسن انعقاد کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور صدر مقامات میں داخل ہونے والے پوائنٹس پر ناکے لگائے گئے تھے۔
سیکورٹی عہدیدار نے بتایا کہ جموں وکشمیر بھر میں یوم آزادی کی تقریبات کا پرامن انعقاد عمل میں آیا اور کسی بھی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
معمول کے برخلاف کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر موبائیل اور انٹرنیٹ سروس معطل نہیں کی گئی۔
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وادی کشمیر میں یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریبات شروع ہونے سے ختم ہونے تک موبائیل اور انٹرنیٹ سرویس معطل کی جاتی تھی۔