جموں و کشمیر میں موسلا دھار بارشیں، معمولات زندگی بری طرح سے متاثر

عظمیٰ ویب ڈیسک

سرینگر// جموں و کشمیر میں سردی ایک بار پھر لوٹ آئی ہے کیونکہ وادی بھر میں ہونے والی تازہ اور بھاری بارشوں نے پیر کو درجہ حرارت میں کمی لائی جب کہ ماہر موسمیات نے اگلے دو دنوں تک الگ تھلگ مقامات پر ہلکی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
دن بھر ہونے والی بارش نے جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر اور وادی کے دیگر حصوں میں معمولات زندگی کو متاثر کیا۔
ماہرِ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 4 سے 6 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرینگر شہر اور کشمیر کے دیگر میدانی علاقوں میں اس دوران بھاری سے بہت زیادہ بارش ہو سکتی ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ڈاکٹر مختار احمد نے تفصیلی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آج رات سے موسم کی صورتحال میں بتدریج بہتری کا امکان ہے تاہم 16 سے 17 اپریل کو موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ چند مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 اور 19 اپریل کو عام طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ ہلکی بارش اور برفباری (اونچائی تک) کئی مقامات پر گرج چمک کے ساتھ، 18 ویں رات سے 19 اپریل کی دوپہر م اور شام کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 20 سے 25 اپریل تک موسم عام طور پر خشک رہے گا جبکہ دوپہر کے وقت گرج چمک کے ساتھ بارش کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
محکمہ موسمیات نے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے، جس میں کاشتکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 16 اپریل تک کھیت کے کام کو روک دیں۔
حکام نے بتایا، “چند نشیبی علاقوں میں عارضی طور پر پانی جمع ہونے کی توقع ہے اور زمین کھسکنے، مٹی کے تودے گرنے اور پتھراؤ کا بھی امکان ہے”۔
مزید، شدید بارش کی وجہ سے سرینگر جموں قومی شاہراہ بند ہو گئی ہے جو متعدد مقامات پر پتھراؤ کی اطلاع کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند رہی۔
محکمہ ٹریفک نے کہا، “احتیاطی اقدام کے طور پر قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیاہے، موسم کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد، ملبہ کو صاف کر دیا جائے گا اور ٹریفک کو اس کے مطابق چلنے دیا جائے گا”۔