مارچ میں جی ایس ٹی کی آمدنی 1.78 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ

یو این آئی

نئی دہلی// گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی آمدنی مارچ 2024 میں 1.78 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رہی ہے اور یہ مارچ 2023 میں جمع کیے گئے 1.60 لاکھ کروڑ روپے سے تقریباً 11.5 فیصد زیادہ ہے اور یہ مالی سال 2023-24 دوسری سب سے بڑی رقم ہے۔
فروری 2024 میں جی ایس ٹی کی آمدنی 1,68,337 کروڑ روپے تھی۔ مارچ 2024 مالی سال 2023-24 کا 10 واں مہینہ ہے جب جی ایس ٹی کی وصولی 1.60 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رہی ہے۔ مئی 2023 اور اگست 2023 میں جی ایس ٹی کی وصولی 1.60 لاکھ کروڑ روپے سے تھوڑی کم رہی تھی۔ موجودہ مالی سال میں یہ اپریل میں سب سے زیادہ 1,87,035 کروڑ روپے تھی۔ رواں مالی سال میں اوسط ماہانہ جی ایس ٹی کی وصولی 1.68 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
پیر کو وزارت خزانہ کے جاری کردہ جی ایس ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2024 میں کل جی ایس ٹی کی وصولی 1,78,484 کروڑ روپے رہی ہے۔ اس میں سی جی ٹی 34532 کروڑ روپے، ایس جی ایس ٹی 43746 کروڑ روپے، آئی جی ایس ٹی 87947 کروڑ روپے ہے، جس میں درآمدات پر جمع کیے گئے 40322 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ 12259 کروڑ روپے جی ایس ٹی معاوضہ ٹیکس کے طور پر، جس میں درآمدات پر جمع کیے گئے 996 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
باقاعدہ تصفیہ کے تحت حکومت نے سی جی ایس ٹی میں سے 43264 کروڑ روپے، ایس جی ایس ٹی میں 37704 کروڑ روپے دیئے ہیں۔ اس طرح کل ملاکر سی جی ایس ٹی 77,796 کروڑ روپے اور ایس جی ایس ٹی 81,450 کروڑ روپے رہا۔
مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں مجموعی جی ایس ٹی کی وصولی 20.18 لاکھ کروڑ روپے رہی ہے، جو پچھلے مالی سال کی اسی مدت میں جمع کی گئی رقم سے 11.7 فیصد زیادہ ہے۔