منی لانڈرنگ معاملے میں سابق وزیر لال سنگھ کی باقاعدہ ضمانت منظور

عظمیٰ ویب ڈیسک

جموں// جموں کی ایک خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ گرفتار سابق وزیر لال سنگھ کو ہفتہ کو باقاعدہ ضمانت دے دی۔
ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن پارٹی (DSSP) کے چیئرمین سنگھ کو 7 نومبر کو جموں سے گرفتاری کے بعد عدالت نے 23 نومبر کو عبوری ضمانت دی تھی۔
سنگھ اپنی اہلیہ اور سابق رکن اسمبلی کانتا اندوترہ کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی ٹرسٹ کے خلاف کیس کے سلسلے میں وفاقی ایجنسی کے زیر تفتیش ہیں۔ چونکہ درخواست گزار نے ضمانت کی شرائط کی تعمیل کی ہے، اس لیے موجودہ درخواست میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔
پرنسپل سیشن جج سنجے پریہار نے تین صفحات پر مشتمل ایک حکم میں کہا، ”اس لیے، درخواست گزار کو دی گئی عبوری ضمانت کو باقاعدہ قرار دیا گیا ہے، یقیناً ای ڈی کی شکایت میں تمام شرائط زیر التواءرہیں گی، جن پر کاروائی جاری رہے گی”۔
منی لانڈرنگ معاملہ اکتوبر 2021 میں سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ سے شروع ہوا تھا جس میں 4 جنوری سے 7 جنوری 2011 کے درمیان زمین کی الاٹمنٹ میں مجرمانہ ملی بھگت کا الزام لگایا گیا، جس کے زریعے 100 کنال اراضی جموں و کشمیر زرعی اصلاحات ایکٹ 1976 کے سیکشن 14 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹرسٹ کو فائدہ پہنچانے کیلئے الاٹ کی گئی۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرسٹ نے 5 جنوری اور 7 جنوری 2011 کو تین گفٹ ڈیڈز کے ذریعے تقریباً 329 کنال اراضی کے متعدد ٹکڑے حاصل کیے۔