سوپور میں 4 بچوں کے والد کی پراسرار حالت میں لاش بر آمد

عظمیٰ ویب ڈیسک

سوپور// شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ کے زلورہ گاوں میں جمعہ کو ایک 48 سالہ شخص پراسرار حالات میں مردہ پایا گیا جب کہ اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے حکام سے معاملے کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح، تھانہ بومئی کے دائرہ اختیار میں آنے والے زلورہ گاو¿ں کے ریاض احمد میر (48) کے اہل خانہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی کیونکہ ریاض احمد میر گھر سے لاپتہ ہو گیا تھا۔
اُنہوں نے بتایا کہ شکایت ملنے کے بعد پولیس پارٹی نے اس کی تلاش شروع کی جس کے بعد اس کی لاش گھر کے قریب پراسرار حالات میں پائی گئی، ریاض کی لاش پانی سے بھری چھوٹی خندق سے برآمد ہوئی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ لاش کو ضروری طبی طریقہ کار کے لیے سب ضلع ہسپتال سوپور لے جایا گیا۔ جہاں سے بعد میں اسے آخری رسومات کے لیے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
ریاض احمد میر کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ رات 12 بجے کے قریب گھر سے نکلا، انہوں نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ ان کی رہائش گاہ پر موجود مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ریاض، چار بچوں کا والد – تین بیٹیاں اور ایک بیٹا- بہت عاجز، متقی اور پرہیز گار تھا۔
اُنہوں نے بتایا کہ ریاض نے کسی بھی حال میں انتہائی اقدام (خودکشی) نہیں اٹھایا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ قتل کا معاملہ ہے، جس کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا،”اپنے خاندانی تناو (اہلیہ کے ساتھ جھگڑے) کے باوجود، ریاض اپنی بیٹیوں، ایک بیٹے کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند تھا اور ان کی حفاظت اور خدشات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔ وہ ایک متقی اور مذہبی آدمی تھا، جب بھی وہ اذان دیتا (نماز کے لیے) پڑوسی روتے تھے”۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ریاض پر چند روز قبل اس کے سسرال والوں نے حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندانی مسائل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ اُنہوں نے الزام لگایا،”اس کی گردن پر بھی واضح نشانات تھے”۔
رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ ریاض کے پڑوسیوں نے ڈپٹی کمشنر بارہمولہ اور ایس ایس پی سوپور سے اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت کرنے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
دریں اثنا، محکمہ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک کیس درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ وہ اس کیس کو حل کرنے کے قریب ہیں۔ تفصیلات بعد میں شائع کی جائیں گی۔