کشتواڑ میں سرگرم ملی ٹینٹوں کے اہلِ خانہ نے گھر پر ترنگا لہرایا

عاصف بٹ

کشتواڑ// ضلع کشتواڑ میں سرگرم جنگجووں کے اہلِ خانہ نے یوم آزادی کے موقع پر اپنے گھروں پر ترنگا لہرایا اور قو م سے بھی ترنگا لہرانے کی اپیل کی۔
ضلع کشتواڑ میں سب سے زیادہ عرصے سے سرگرم جنگجو جہانگیر سروڑی کے گھروالوں نے ترنگا لہرایا۔جہانگیر کے بیٹے عدنان عادل نے اپنے والد سے گھر واپس آنے کی اپیل کی۔ اُس نے کہا کہ میں اپنے والد کو بہت یاد کرتاہوں اور وہ جلد واپس گھر آئیں۔ میں ویٹرنری ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ محمد امین عرف جہانگیر سروڑیA++ کٹیگری کا ملی ٹنٹ ہے جو گزشتہ پچیس سالوں سے ضلع کشتواڑ کے اندر سرگرم ہے اور اس پر لاکھوں روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔ جہانگیر سروڑی متعدد مرتبہ سیکورٹی فورس کے ساتھ ہوئے تصادم میں بچ نکلا جبکہ گزشتہ کی سالوں سے سیکورٹی فورسز کو اسکے بارے میں کچھ علمیت نہیں ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ جہانگیر مڑواہ ، دچھن و پاڈر کے بالائی علاقہ جات میں سرگرم ہے۔
اسی دوران مدثر کے اہلِ خانہ نے بھی اپنے گھروں پر ترنگالہرایا۔اور اپنے بیٹے سے گھر واپس انے کی اپیل کی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ سال 2018 سے ضلع کشتواڑمیں سرگرم A++کٹیگری کے ملی ٹنٹ مدثر حسین عرف مدثر ولد طارق حسین ساکنہ ٹنڈر دچھن جس پر 20لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔
والدین نے یوم ازادی کے موقعہ پر اپنے گھر ٹنڈر میں ترنگالہریا۔اس موقع پر مدثر کی والدہ پروینہ بیگم نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ وہ واپس گھر اے اورسرینڈر کرے۔ سرکار وپولیس اسے واپس لانی چاہتی ہے ہم نے بہت کوشش کی تھی لیکن ہمیں اسکے بارے میں کچھ بھی پتہ نہ چل سکا۔
مدثر کے والد طارق حسین نے بتایا کہ ہم نے اپنے گھر پر ترنگا لہرایا اور میں پوری قوم کو دعوت دیتا ہو کہ ہر گھر پر ترنگا لہرائیں۔ مدثر غلط راستے پر ہے اور غلط اشاروں پر چلتا ہے ہم نے بڑی کوشش اسے ڈھونڈنے میں کی لیکن ہمیں اسکے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکاہم سرکار سے التجا کرتے ہیں اسے ڈھونڈکر واپس لائیں۔
مدثر کے والد نے بتایا کہ سال 2018میں بہارویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد پلمبر کی ٹرینگ کے لیے کشتواڑ بھیجاتھا لیکن وہ اسکے بعدگھر واپس نہ آیا۔ اگرچہ ہم نے بڑی کوشش کی،اب ہم سرکار سے اسے واپس لانے کی اپیل کرتے ہیں۔