بد عنوانی معاملہ: ستیہ پال ملک کے معاون کی رہائش گاہ سمیت نو مقامات پر سی بی آئی کی تلاشی

دہلی// جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک سے پوچھ گچھ کے ہفتوں بعد، مبینہ بدعنوانی کے ایک معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے دہلی، جموں و کشمیر اور راجستھان میں نو مقامات پر چھاپے مار کر تلاشی کاروائیاں انجام دیں، یہ تلاشی ستیہ پال ملک کے نجی پریس سیکرٹری کے گھر پر بھی لی گئیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ مقدمہ انیل امبانی کی قیادت والی ریلائنس جنرل انشورنس میں شامل انشورنس سکیم میں بے ضابطگیوں کے الزامات سے متعلق ہے۔ ملک کی جانب سے اس معاملے میں رشوت دینے کی کوشش کے دعوﺅں کے الزامات کے بعد یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ سی بی آئی نے ستیہ پال ملک سے ان کی رہائش گاہ پر تقریباً پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی۔ سات مہینوں میں یہ دوسرا موقع تھا کہ مختلف ریاستوں کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دینے والے ملک سے سی بی آئی نے پوچھ گچھ کی۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ ستیہ پال ملک اب تک اس کیس میں ملزم یا مشتبہ نہیں ہیں۔

ستیہ پال ملک کا کہنا ہے “یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سی بی آئی اس معاملے میں شکایت کنندہ کو ہی ہراساں کر رہی ہے۔ وہ (سنک بالی) بغیر کسی سرکاری تنخواہ کے جموں و کشمیر میں میرے پریس ایڈوائزر / سکریٹری تھے “۔

وضاحت طلب کرنے کے لئے سی بی آئی کے حالیہ نوٹس کے بعد، ملک نے بتایا تھا، “سی بی آئی حکام نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ کیا میں ان دنوں میں سے ایک دن دہلی میں ہوں گا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں 23 اپریل کو دہلی آوں گا۔ وہ سکیموں پر کچھ وضاحت طلب کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے مجھے اکبر روڈ پر واقع ان کے گیسٹ ہاو¿س جانا پڑا”۔

انہوں نے کہا،”سی بی آئی مجھ سے انشورنس سکیم کے معاملے پر کچھ وضاحتیں طلب کرنا چاہتی تھی جسے میں نے جموں و کشمیر کے گورنر کے طور پر اپنی مدت کے دوران منسوخ کر دیا تھا۔ سرکاری ملازمین کے لیے انشورنس سکیم کو ملازمین کی جانب سے تنقید اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ جس سکیم کے لیے ملازمین سے 8,500 روپے (فی ملازم سالانہ) اور 20,000 روپے ریٹائرڈ ملازمین (فی ملازم سالانہ) سے لینے تھے، اس کی منصوبہ بندی درست طور پر نہیں کی گئی تھی۔ یہ ایک غلط اقدام تھا، اس لیے میں نے اسے منسوخ کر دیا”۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2021 میں، ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دو فائلوں کو کلیئر کرنے کے لیے 300 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی جس میں ایک آر ایس ایس لیڈر اور انشورنس سکیم سے متعلق تھی۔ مارچ 2022 میں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا تھا کہ ستیہ پال ملک کی طرف سے لگائے گئے الزامات سنگین ہیں اور انتظامیہ نے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے”۔