شہریت ترمیم قوانین ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے قبل جاری کیے جانے کا امکان

File Image

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آئے غیر دستاویزی غیر مسلم تارکین وطن کو تیزی سے شہریت دینے کیلئے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 (سی اے اے) کے قوانین 2024 کے لوک سبھا انتخابات کیلئے ماڈل ضابطہ اخلاق سے قبل جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
انتخابی شیڈول کے اعلان کے فوراً بعد ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (MCC) نافذ ہو جاتا ہے، جس کا امکان اگلے پندرہ دن میں ہو سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے سے قبل ہی سی اے اے کے قواعد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ جب سی اے اے کے قوانین جاری ہوں گے، مودی حکومت ستائے ہوئے غیر مسلم تارکین وطن – ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دینا شروع کر دے گی – جو بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے 31 دسمبر 2014 تک بھارت آئے تھے۔
سی اے اے دسمبر 2019 میں منظور ہوا تھا اور بعد میں اسے صدر کی منظوری مل گئی تھی۔ تاہم اس قانون پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ اس کے نفاذ کیلئے قوانین ضروری ہیں۔
پارلیمنٹ سے سی اے اے پاس ہونے کے بعد ملک کے کچھ حصوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہروں یا پولیس کی کارروائی کے دوران سو سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
وزارت داخلہ نے درخواست دہندگان کی سہولت کیلئے ایک پورٹل تیار کیا ہے کیونکہ پوری کارروائی آن لائن ہوگی۔
درخواست دہندگان کو اُس سال کو ظاہر کرنا ہوگا جب وہ سفری دستاویزات کے بغیر بھارت میں داخل ہوئے تھے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ درخواست دہندگان سے کوئی دستاویز نہیں مانگی جائے گی۔
قانون کے مطابق سی اے اے کے تحت ملنے والے فوائد تین پڑوسی ممالک کی غیر دستاویزی اقلیتوں کو دیے جائیں گے۔
27 دسمبر کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ کوئی بھی سی اے اے کے نفاذ کو نہیں روک سکتا کیونکہ یہ زمین کا قانون ہے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر اس معاملے پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔
کولکتہ میں پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ یہ سی اے اے کو نافذ کرنے کے لئے بی جے پی کا عہد ہے۔
ممتا بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی شروع سے ہی سی اے اے کی مخالفت کر رہی ہے۔
متنازعہ سی اے اے کو لاگو کرنے کا وعدہ مغربی بنگال میں گزشتہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا ایک بڑا پول پلک تھا۔ زعفرانی پارٹی کے لیڈر اسے ایک قابل فہم عنصر سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے بنگال میں بی جے پی کا عروج ہوا۔
پارلیمانی کام کے دستور العمل کے مطابق، کسی بھی قانون سازی کے لیے قواعد صدارتی منظوری کے چھ ماہ کے اندر تیار کیے جانے چاہیے تھے یا لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ماتحت قانون سازی کی کمیٹیوں سے توسیع طلب کی جانی چاہیے۔ 2020 سے، وزارت داخلہ قواعد و ضوابط کی تشکیل کیلئے پارلیمانی کمیٹی سے باقاعدہ وقفہ میں توسیع لے رہی ہے۔
دریں اثنا، گزشتہ دو سالوں میں، نو ریاستوں کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس اور ہوم سیکرٹریوں کو شہریت ایکٹ 1955 کے تحت افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے ہندووں، سکھوں، بدھسٹوں، جینوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دینے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ برائے 2021-22 کے مطابق یکم اپریل 2021 سے 31 دسمبر 2021 تک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ان غیر مسلم اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے کل 1414 غیر ملکیوں کو شہریت ایکٹ 1955 کے تحت رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے ذریعے بھارتی شہریت دی گئی۔
وہ نو ریاستیں جہاں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم اقلیتوں کو شہریت ایکٹ 1955 کے تحت رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے ذریعے بھارتی شہریت دی جاتی ہے، ان میں گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ، پنجاب، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، دہلی اور مہاراشٹر شا ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسام اور مغربی بنگال کے کسی بھی ضلع کے حکام کو، جہاں یہ مسئلہ سیاسی طور پر بہت حساس ہے، کو اب تک اختیارات نہیں دیے گئے ہیں۔