اقتصادی مجرموں سے 1.8 ارب ڈالر کے اثاثے برآمد : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

یو این آئی

نئی دہلی// معاشی مجرموں اور بھگوڑے افراد سے 1.8 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے برآمد کر لیے گئے ہیں نیز وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اقتصادی مجرموں کا قانون لانے کے بعد گزشتہ تقریبا چار سالوں میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت 2014 سے اب تک مجرموں کے سے 12 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے اثاثے ضبط کرنے میں مدد ملی ہے۔

اس بات کا انکشاف آج مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس و ٹکنالوجی نے کیا۔ پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہاں سی بی آئی ہیڈکوارٹرمیں منعقدہ ایک تقریب میں ممتاز سی بی آئی افسران کو ہندوستانی پولیس تمغوں سے نوازنے کے بعد پہلے ’’بین الاقوامی یوم پولیس تعاون‘‘ کے موقع پر اپنے افتتاحی خطاب میں یہ بات کہی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں مجرموں اور مفرور افراد کی حوالگی میں کافی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اکتوبر 2022میں ہندوستان کی 90 ویں انٹرپول جنرل اسمبلی کی میزبانی کے بعد۔

انھوں نے کہا کہ اس سال اب تک 19 مجرم / مفرور ہندوستان لوٹے ہیں ، پچھلے سالوں میں اوسطا تقریبا 10 مجرم / مفرور ہندوستان لوٹے ہیں جن میں سے 2022 میں 27 اور 2021 میں 18 مجرم واپس لائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ مجرموں / مفرور افراد کا ہندوستان واپسی میں نمایاں اضافہ اکتوبر 2022 میں دہلی میں منعقدہ 90 ویں انٹرپول جنرل اسمبلی کے بعد سے ہندوستان اور دیگر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کا نتیجہ ہے ، جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 2018 میں اقتصادی مجرم ایکٹ کے نفاذ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت جارحانہ طریقے سے اقتصادی مجرموں کا تعاقب کر رہی ہے اور اقتصادی مجرموں اور مفروروں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں سے بھاری اثاثوں کی بازیابی اور ضبطی کے بارے میں مطلع کر رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ انوکھا اتفاق ہے کہ کل جی 20 سربراہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے اور عملے کی وزارت نے گروگرام ، رشی کیش اور کولکاتہ میں اینٹی کرپشن ورکنگ گروپ کے اجلاسوں پر تبادلہ خیال کیا ہے اور تین ترجیحی شعبوں یعنی معلومات کے تبادلے کے ذریعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون ، اثاثوں کی بازیابی کے میکانزم کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات پر عمل درآمد، نیز اینٹی کرپشن حکام کی سالمیت اور تاثیر میں اضافہ کرنا جیسے میدانوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد دلایا کہ یہ وزیر اعظم مودی ہی تھے جنہوں نے 2018 میں جی -20سربراہ اجلاس میں مفرور اقتصادی مجرموں کے خلاف کارروائی اور اثاثوں کی بازیابی کے لیے نو نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا اور خوشی کا اظہار کیا تھا کہ ورکنگ گروپ کے ذریعہ فیصلہ کن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 16 دسمبر، 2022 کو ،7 ستمبر کا دن، 2023 سے شروع ہونے والے پولیس تعاون کے بین الاقوامی دن کے طور پر منانے کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی۔اس قرارداد میں بین الاقوامی جرائم بالخصوص بین الاقوامی منظم جرائم کی روک تھام اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مختلف شعبوں میں عالمی، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 7 ستمبر کو ہر سال منانے کے لیے منتخب تاریخ اس تاریخ سے مطابقت رکھتی ہے جب انٹرپول کے پیش رو انٹرنیشنل کرمنل پولیس کمیشن (آئی سی پی سی) کا قیام 1923 میں عمل میں آیا تھا۔

وزیر موصوف کو بتایا گیا کہ پولیس تعاون کے افتتاحی بین الاقوامی دن کا ایک خاص موضوع پولیسنگ میں خواتین کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔ انٹرپول 2023 میں اپنی صد سالہ سالگرہ منا رہا ہے اور 195 رکن ممالک کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا پولیس ادارہ ہے۔

مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کی مختصر تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد دلایا کہ 1941 میں اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ کے طور پر حکومت ہند کے وار اینڈ سپلائی ڈپارٹمنٹ سے متعلق لین دین میں رشوت اور بدعنوانی کے معاملوں کی تحقیقات کے مینڈیٹ کے ساتھ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کو 1963 میں ہندوستان کے ایک مکمل اینٹی کرپشن باڈی کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

وزیر موصوف نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ 2023 سی بی آئی کا ڈائمنڈ جوبلی سال ہے اور اپنے قیام کے 60 سالوں میں سی بی آئی ہندوستان کی اہم تفتیشی اور انسداد بدعنوانی ایجنسی کے طور پر ابھری ہے اور داخلی طور پر رشوت ستانی اور بدعنوانی سے لے کر ریاستوں اور آئینی عدالتوں کے ذریعہ سونپے گئے سنسنی خیز اور پیچیدہ اقتصادی جرائم، اور بینکاری فراڈ معاملوں کی تحقیقات کو سنبھالنے کے لیے ایک قابل ادارے کے طور پر ابھری ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت داری کی وجہ سے اس بیورو نے عاملہ، عدلیہ، مقننہ اور عام آدمی کا اعتماد حاصل کیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کسی بھی ادارے کے لیے اصل کسوٹی عوام کا اعتماد جیتنا ہوتا ہے اور انھوں نے مزید کہا کہ سی بی آئی نے نہ صرف عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے بلکہ تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی ، اقتصادی اور تکنیکی ماحول کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے اس نے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال، انسانوں کی اسمگلنگ، منشیات، جنگلی حیات، ثقافتی املاک، اور ڈیجیٹل اسپیس میں جرائم سے متعلق تحقیقات کو سنبھالنے کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ بھی قائم کیے ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جرائم سے لڑنے کے بنیادی اصول کبھی تبدیل نہیں ہوں گے اور مجوزہ فریم ورک میں مضبوط بین الاقوامی پولیس تعاون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دنیا بھر کی پولیس ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب ہم 21 ویں صدی میں جرائم سے لڑنے اور سلامتی کے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں تو یہ ایک رہنما اصول ہونا چاہیے۔

بعد ازاں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی بی آئی افسروں کو پولیس تمغوں سے نوازا اور ایوارڈ یافتہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے سی بی آئی اور اس کے افسروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔