دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر ایک محفوظ ترین جگہ بن گئی ہے:امت شاہ

Photo: Mir Imran

یو این آئی

راجوری//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر ایک محفوظ ترین جگہ بن گئی ہے کیونکہ ملی ٹنسی سے متعلق واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جنگجوؤں اور علاحدگی پسندوں کے خلاف پائیدار مہم ثمر آور ثابت ہوئی ہے اور آج یہاں کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر کی بجائے لیپ ٹاپ ہیں موصوف وزیر داخلہ نے ان باتوں کا اظہار منگل کو راجوری میں ایک بڑے عوامی جلسے کے خطاب کے دوران کیا۔
اس موقع پر ان کے ساتھ سٹیج پر جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ اور رکن پارلیمان جگل کشور بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا،’جو لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر دفعہ370ہٹایا گیا تو خون کی ندیاں بہہ جائیں گی ان کو جموں وکشمیر میں ہونے والے ملی ٹنسی سے متعلق واقعات کے اعداد و شمار دیکھنے چاہئے‘۔
ان کا کہنا تھا،’جموں وکشمیر میں ہر سال ملی ٹنسی سے متعلق 4767 واقعات رونما ہوتے تھے لیکن دفعہ370 کی تنیسخ کے بعد ان اعداد و شمار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اس نوعیت کے صرف721 واقعات پیش آئے ہیں‘۔
شاہ نے کہا کہ ما بعد پانچ اگست 2019 جموں وکشمیر میں سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جو اب ہر سال137 تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں اور علاحدگی پسندوں کے خاتمے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے چلائی جانے والے پائیدار مہم ثمر آور ثابت ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’اس مہم کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جموں وکشمیر محفوظ ترین جگہ ہے وزیر اعظم جموں وکشمیر کے نوجوانوں تک پہنچے اور آج ان کے ہاتھوں میں پتھر نہیں بلکہ لیپ ٹاپ ہیں اور یہ نوجوان ملک کے نوجوانوں کے ساتھ ہر شعبے میں مقابلہ کر رہے ہیں‘۔
امت شاہ نے گجر، بکروال اور پہاڑی طبقے کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جموں وکشمیر میں ان تین خاندانوں، جنہوں نے حکومت اپنے آپ، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک محدود رکھی ہے، کی ہر الیکشن میں شکست کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا: ’ان تین خاندانوں نے 70 برسوں تک یہاں خاندانی راج کیا اور عام لوگوں کو جمہوریت کے لئے ترسایا۔
ان کا کہنا تھا: ’آج یہاں لوگوں کو گرام پنچایت ہے، ضلع پنچایت اور تحصیل پنچایت ہے جو گذشتہ70 برسوں کے دوران نہیں ہوا کرتا تھا‘۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کو 87 ارکان اسمبلی اور 6 ارکان پارلیمان تک محدود رکھا گیا تھا جبکہ گجر، بکر وال اور پہاڑی طبقوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ غلام نبی کھٹانہ کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرکے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بات ثابت کر دی کہ وہ سماج کے تمام طبقوں کو نمائندگی دینے کے لئے پر عزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر میں 56 ہزار کروڑ روپیوں کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے یہاں کے نوجوانوں کو روز گار کے موقعے میسر ہوں گے۔
شاہ نے کہا کہ رشوت جو یہاں گذشتہ 70 برسوں کے دوران عروج پر تھی، کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے ہم نے انٹی کورپشن بیورو بنایا۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر سرکاری تعطیل رکھنے کے اعلان کی سراہنا کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار سری نگر سے شارجہ راست پروازیں چالو کی گئیں اور سری نگر میں شبانہ پروازوں کا آپریشن بھی شروع کیا گیا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار سال رواں کے ماہ اول سے 1.62 کروڑ سیاحوں نے یہاں کے سیاحتی مقامات کی سیر کی۔
انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کو گجر، بکروال اور پہاڑی طبقوں کو نمائندگی دینے کے لئے تشکیل دیا گیا جو بصورت دیگر ایک خواب ہی تھا۔
ان کا لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہنا تھا: ’یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ آپ لوگوں کا استحصال کیا‘۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی سرکار جموں و کشمیر کو تمام طبقوں گجر، بکروال اور پہاڑی سمیت نئی بلندیوں تک لے جانے کے لئے پُر عزم ہیں۔