تازہ ترین

صنفِ نازک کا معاشرے سے سوال؟

آجکل اگرچہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زبردست کارنامے انجام دیتی ہیں اورہر وہ چیز ایجاد کرتی رہتی ہےجس سے اس تیز رفتار دور کےانسان کو راحت و سکون میسر ہوسکےلیکن جب یہی انسان، انسانیت اورانسانی بقا کا دشمن بن کر مہلک سے مہلک ترین ہتھیار تیار کرتا ہے تب اس ترقی اور ایسے سہولیات کا کیا معنیٰ رہ جاتا ہےاور پھر انسان یہی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کی آسمانوں پر کمندیں ڈالناوالا اور سمندروں کی تہہ تک پہنچنے والا اس دور کا انسان ابھی تک حقیقی انسان نہیں بن پایا ہے اور نہ ہی انسان ہونے کے ناطے انسانیت کے لئے وہ کام کرتا ہے،جس پر اُسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا ہواہے۔بغور دیکھا جائےتو کیا فائدہ اس ترقی کا جو نہ صرف اس زمین پر رہنے والے انسان بلکہ زمین پر موجود دیگر جانداروںکیلئے بھی وبالِ جان بن جائے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہےکہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ اُن اح

دیہی خواتین آج بھی ’’عزت گھر ‘‘سے محروم

مکمل صفائی اور بیت الخلاء کی دستیابی کے حصول کے لیے مرکز ی حکومت نے  2 اکتوبر 2014 کو سوچھ بھارت ابھیان مشن کا آغاز کیا تھا ۔اس کا مقصد 2019 تک ملک کوکھلے میں رفع حاجت سے پاک کرنا تھا۔خاص طور پر دیہی علاقوں کے لیے مکمل حفظان صحت کے حصول کے مقصد سے جس میں ہر گھر میںٹائلٹ بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس کا نام عزت گھر دیا گیا تھا۔اس کے لئے حکومت غریبوں کو مدد کرنے کے لئے سبسڈی بھی فراہم کرتی ہے۔ سوچھ بھارت ابھیان کی ویکیپیڈیا کے مطابق حکومت کے ذریعہ 2014 سے 2019 کے درمیان تقریباً 90 ملین بیت الخلاء کی تعمیر کے لیے سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔لیکن کیا یہ گراؤنڈ لیول پر بھی اتنی ہی کامیاب رہی جتنی رپورٹ میں بتائی جا رہی ہے؟اس سلسلے میں جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے بالاکوٹ گاؤں میں رہنے والی فزینہ کوثرسے جب سوچھ بھارت ابھیان کی ا سکیم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کچھ اس طرح جواب دیا '

’حجاب‘ عورت کی مضبوط ڈھال ہے

حجاب میرا وقار اور میرا افتخار ہے، حجاب میرے رب کی پسند ہے، حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور ہمارا حق بھی، یہ ایک تکریم ہے جو ہمارے رب نے ہمیں دی ہے یہ حجاب ہمارا وقار اور ہماری پہچان بھی ہے، جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ہر سال ’’4ستمبر‘‘ کو ساری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ یعنی 4ستمبر کو مصر سے تعلق رکھنے والی مروہ علی الشربینی کی دلسوز داستان رقم ہے، مروہ علی الشربینی کا جرم صرف اور صرف حجاب تھا، اس نے نہ صرف اپنی مذہبی آزادی بلکہ پوری مسلم اُمہ کی خواتین کے حقوق کے لیے جام شہادت نوش کیا، شہیدہ حجاب الشربینی مغرب کی انتہا پسندانہ رجحانات اور مسلمانوں کی مظلومیت کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ پردہ عورت کی عزت وقار کا محافظ ہے، اس کے لیے رحمت اور تحفظ کی ضمانت ہے، پردہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا نظام معاشرت ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے