تازہ ترین

انسان ہی چیزوں کاانتخاب کرتا ہے

 پھول ایک شے ہے۔اس کا نام انسان نے ہی منتخب کیا ہے۔اسی طرح بہت سے ایسے نام ہیں جن کا انتخاب حضرت انسان نے کیا ہے۔کچھ چیزوں کے نام ظاہری اور کچھ چیزوں کے نام باطنی رکھے گئے ہیں۔ اُردو زبان میں جذبات و احساسات کے بھی نام آتے ہیں،یعنی انسان کے ہی منتخب شدہ ناموں میں سے کچھ کو ہم دیکھ سکتے ہیں اور کچھ کو محسوس کرتے ہیں۔اب یہ انسان پر ہی منحصر ہے کہ وہ اِن سب چیزوں کا انتخاب اپنی زندگی میں کیسے کرتا ہے۔جیسا کہ پھول، اسکا انتخاب خوشی ، شادی بیاہ کی مجلس یا پھر رنج و غم کی گھڑی یاکسی کی موت ہونے پرکیا جاتا ہے۔شادی پر کرے تو اِن پھولوں کی مہک سے محبت چھلکتی ہےاوریہ پھول انسان کو پیارے لگتےہیں اور اگر مرنے پر ہھولوں کا انتخاب کرے تو انہی پھولوں سے انسان کو نفرت ہوجاتی ہےاوران کی خوشبو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ آ گ:  انسان اگر اپنے لفظوں میں لگائے تو ہر کوئی جھُلس جاتا ہے، کوئی رشتہ نہی

اساتذہ ٔ کرام کی شخصیت

ایک عظیم ، پاکیزہ اور معتبر شخصیت کو استادکہتے ہیں۔یہ وہ شخصیت ہے جس کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے، جس سے ایک صحت مند معاشرے اور صحت مند سوسائٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔ لیکن اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو بھی سچی لگن اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی انسانیت کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتی ہے۔ مشہور مفکر کا قول ہے "There is no alternative of hard labour, and there is no shortcut way to achieve success." اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 5 ؍ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس خاص دن کا تعین کرنا ضروری نہیں، بلکہ ایک طالب علم اپنی کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہی بات ہوتی ہے کہ یہ کامیابی اساتذہ کرام کی ہی دین ہے۔ ایک طالب علم کی کامیابی کا سہرا اس کے والدین اور اساتذہ کرام کے سر جاتا ہے۔ ہر

صنفِ نازک کا معاشرے سے سوال؟

آجکل اگرچہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زبردست کارنامے انجام دیتی ہیں اورہر وہ چیز ایجاد کرتی رہتی ہےجس سے اس تیز رفتار دور کےانسان کو راحت و سکون میسر ہوسکےلیکن جب یہی انسان، انسانیت اورانسانی بقا کا دشمن بن کر مہلک سے مہلک ترین ہتھیار تیار کرتا ہے تب اس ترقی اور ایسے سہولیات کا کیا معنیٰ رہ جاتا ہےاور پھر انسان یہی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کی آسمانوں پر کمندیں ڈالناوالا اور سمندروں کی تہہ تک پہنچنے والا اس دور کا انسان ابھی تک حقیقی انسان نہیں بن پایا ہے اور نہ ہی انسان ہونے کے ناطے انسانیت کے لئے وہ کام کرتا ہے،جس پر اُسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا ہواہے۔بغور دیکھا جائےتو کیا فائدہ اس ترقی کا جو نہ صرف اس زمین پر رہنے والے انسان بلکہ زمین پر موجود دیگر جانداروںکیلئے بھی وبالِ جان بن جائے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہےکہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ اُن اح

دیہی خواتین آج بھی ’’عزت گھر ‘‘سے محروم

مکمل صفائی اور بیت الخلاء کی دستیابی کے حصول کے لیے مرکز ی حکومت نے  2 اکتوبر 2014 کو سوچھ بھارت ابھیان مشن کا آغاز کیا تھا ۔اس کا مقصد 2019 تک ملک کوکھلے میں رفع حاجت سے پاک کرنا تھا۔خاص طور پر دیہی علاقوں کے لیے مکمل حفظان صحت کے حصول کے مقصد سے جس میں ہر گھر میںٹائلٹ بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس کا نام عزت گھر دیا گیا تھا۔اس کے لئے حکومت غریبوں کو مدد کرنے کے لئے سبسڈی بھی فراہم کرتی ہے۔ سوچھ بھارت ابھیان کی ویکیپیڈیا کے مطابق حکومت کے ذریعہ 2014 سے 2019 کے درمیان تقریباً 90 ملین بیت الخلاء کی تعمیر کے لیے سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔لیکن کیا یہ گراؤنڈ لیول پر بھی اتنی ہی کامیاب رہی جتنی رپورٹ میں بتائی جا رہی ہے؟اس سلسلے میں جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے بالاکوٹ گاؤں میں رہنے والی فزینہ کوثرسے جب سوچھ بھارت ابھیان کی ا سکیم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کچھ اس طرح جواب دیا '

’حجاب‘ عورت کی مضبوط ڈھال ہے

حجاب میرا وقار اور میرا افتخار ہے، حجاب میرے رب کی پسند ہے، حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور ہمارا حق بھی، یہ ایک تکریم ہے جو ہمارے رب نے ہمیں دی ہے یہ حجاب ہمارا وقار اور ہماری پہچان بھی ہے، جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ہر سال ’’4ستمبر‘‘ کو ساری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ یعنی 4ستمبر کو مصر سے تعلق رکھنے والی مروہ علی الشربینی کی دلسوز داستان رقم ہے، مروہ علی الشربینی کا جرم صرف اور صرف حجاب تھا، اس نے نہ صرف اپنی مذہبی آزادی بلکہ پوری مسلم اُمہ کی خواتین کے حقوق کے لیے جام شہادت نوش کیا، شہیدہ حجاب الشربینی مغرب کی انتہا پسندانہ رجحانات اور مسلمانوں کی مظلومیت کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ پردہ عورت کی عزت وقار کا محافظ ہے، اس کے لیے رحمت اور تحفظ کی ضمانت ہے، پردہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا نظام معاشرت ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے

ٹیکنالوجی کی دنیا اور خواتین

دنیا بھر میں اس وقت بہت سے ادارے قائم کیے جارہے ہیں، جو نوجوانوں کو کیریئر کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی یہ ادارے خواتین کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں کہ وہ ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں کیونکہ مردوں کی طرح خواتین میں بھی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی تعلیم کا فروغ اہمیت کاحامل ہے، تاکہ وہ اس بنا پر ٹیکنالوجی کے میدان اور اس تیز رفتار دورمیں اپنا کردار نبھا سکیں گی۔ ایسینچر اینڈ گرلز (Accenture and Girls)میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ادارے جینڈ ر گیپ (Gender Gap)نے جو اعداد وشمار جمع کیے تھے اس میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ کمپیوٹنگ کی فیلڈ میں صنفِ نازک کی تعداد 2025ء تک 22فیصد یا اس سے بھی کم ہوسکتی ہے اوراگر حالات یہی رہے تو مختلف شعبوں میں خواتین کی تعداد تو کم ہوگی ہی مگر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔

شادی سے پہلے وزن کیسے کم کیا جائے؟

اب جبکہ ہمارے یہاںسرما کی سردیوں کے ساتھ ہی شادیوں کا موسم اختتام کو پہنچا ہے توکیوں نہ آنے شادیوں کے موسم میںمنعقدہ شادیوں سے پہلے لی جانے والی سب سے بڑی ٹینشن کا ذکر کیا جائے۔ ہاں!اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو یقیناً آپ سمجھ گئی ہوںگی کہ کس ٹینشن کا ذکر کیا جارہا ہے۔ لہنگا فٹ ہونے کی ٹینشن، آستینوں میں بازو زیادہ بھاری لگنے کی ٹینشن یا پھر میک اَپ میں آنٹی والا لُک آنےکی ٹینشن۔ ظاہر ہے کہ ایک مکمل اور خوبصورت دلہن کیلئے نہ صرف بہترین لباس، خوبصورت جیولری اور دلکش انداز لازمی تصور کیا جاتا ہے بلکہ ایک آئیڈیل ویٹ (وزن ) بھی ضروری ہے اور اس خواہش کی تکمیل کیلئے شادی سے پہلے ہر دلہن کے سر پر وزن کم کرنے کی دھن سوار ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کو بھی اسی صورتحال کا سامنا ہےتو شادی سے کم ازکم 6سے 8ہفتے پہلے ایکٹو ہوجائیے، کن عوامل کے ذریعے وزن میں کمی کی جاسکتی ہے، یہ ہم آپ کو بتائیں گے۔ با

والدین کے ساتھ حسن سلوک

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک:خدمت گزاری اور اطاعت و فرمانبرداری اولاد کی اولین ذمہ داری ہے انسان اپنے ماں باپ کی چاہے کتنی ہی خدمت کر لے مگر وہ ان کا بدلہ اتار ہی نہیں سکتا ہے۔سعادت مندی کی بات یہ ہےکہ اولاد والدین کی خدمت کرتی رہے اور اسے اپنی خوش قسمتی اور سعادت سمجھےاور اللہ کا شکر ادا کرتا رہے ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے، ان میں سے کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں اور کسی کو بیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے۔ غرض رشتے بنا کر اللہ نے انکے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں۔ ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کرنا ضروری ہے۔ لیکن والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنی بندگی اور اطاعت کے فورا بعد ذکر فرمایا، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔(ترجمہ) ’’اور تیرا رب فیصلہ کر چک

مقالاتِ حالیؔ۔ایک نادر ذخیرہ

سرزمین ہندوستان کو یہ عظمت اور رفعت حاصل ہے کہ اس کی درتی پر ایسے بلند و بالا شخصیات نے جنم لیاہے، جن کی ہمہ گیری مسّلم ہے اور جن کی پزیرائی دیر پا ہے۔ ماضی قریب کے ایسے ہی نفوس قدسیوں اور رجحان سازوں میں مولاناالطاف حسین حالیؔ کی شخصیت ایسی ہے جنھوں نے فکر و خیال میں انقلاب پیدا کیا اور آئندہ نسلوں کے لیے نشان راہ چھوڑ گیا جو انہیں اصل منزل کا پتہ دیتا رہا۔’’مسدس حالی‘‘ کے خالق مولانا حالیؔ اپنے زمانے کے ان نامور اصحاب میں سے ہیں جو مسلمانوں کی زبوں حالی پر خون کے آنسوں رو کر انہیں اس پستی سے نکالنے کی ہرممکنہ کوشش انجام دیتے تھے۔وہ بیک وقت سلیس اور سادہ بیان شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم تنقیدی سونچ کے مالک بھی ہیں۔ادبیات کی دنیا میں وہ جہاں ایک بڑی پہچان اور شناخت رکھتے ہیں وہیں  وہ ایک اچھی خاصی سیرت کے مالک بھی ہیں۔مولوی عبدالحق ان کی شخصی عظمت کا ا

مستقبل کی فکر نہ کوئی لائحہ عمل!

اس میں دورائے نہیں کہ ذمہ داری کا احساس کرنے والے نوجوان ہی ترقی کی مناز ل عبور کرتے ہیں۔ وہ اپنے کام کو اہمیت دیں، ذمہ داری کے ساتھ اپنے مستقبل کا تعین کرتے ہوئے اپنا کام دیانت داری سے سر انجام دیں، تو مستقبل کے بہترین معمار اور حقیقی قائد بن سکتےہیں۔ یہ بات صرف لفظوں کی حدتک ہی محدود نہیں بلکہ برطانیہ سے لے کر یورپ تک انگریزی تاریخ اور قرطبہ سے لے کر غرناطہ تک کی اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔  اسپین کے شہر قرطبہ کے نوجوان اپنی تعلیم، تدریس اور فنون لطیفہ میں مشغول رہتے تھے ،مگر جب انہوں نے ستی اور کاہلی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تو پھر وہ زوال دیکھا کہ پورے اسپین میں قابل نوجوان ملنا محال ہوگئے۔ برطانیہ اور یورپ میں شیکسپئر، ویلیم وڈز ورتھ، ورجنیا ولف، ارسطو، نیوٹن، اسٹیفن ہاکنگ‘ سمیت علم واداب سے وابستہ ہزاروں افراد کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نوجوانی میں ان کے ہاتھوں م

معاشی مسائل سے خواتین پر پڑنے والے اَثرات

ہندوستانی معاشرہ میں گھر یلو ماحول کا اثر سب سے زیادہ خواتین پر پڑتا ہے کیوں کہ ان کا زیادہ تر وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے ۔گھر کا ماحول اگر پرسکون ہوتا ہے تو اس کے اثرات عورتوں کی زندگی پر مثبت پڑ تے ہیں اور اگر گھر کا ماحول کشیدہ ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ خواتین پر ہی پڑتا ہے ۔جہاں تک گھر کے ماحول کو خوشگوار ہونے کا سوال ہے، اس میں بےشک گھر کا معاشی پہلو بہت نمایاں کردار ادا کرتا ہے ۔اگر معاشی طور پر کوئی بھی گھرانا مستحکم ہوتا ہے یا کم سے کم اتنی آمدنی ہو جاتی ہے  کہ امور خانہ داری اور ضروریاتِ زندگی کا خرچ آرام سے پورا ہو جاتاہو،تب تو ٹھیک ہے ورنہ دھیرے دھیرے گھریلو زندگی مشکل ہونے  سے گھر میں ایک طرح سے تناؤ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، جس کے بُرے اثرات عورتوں کی صحت اور ذہن پر پڑ تے ہیں ۔پھر بیماری اور ڈاکٹر وں کا چکّر پریشانی میں مزید اضافہ کا سبب بن

گُجر بکروال خواتین میں حفظانِ صحت کے مسائل

حکومت ہند مختلف وزارتوں کے ذریعے ماہواری کی حفظان صحت کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزارت صحت اور خاندانی بہبود (ایم ایچ ایف ڈبلیو) 2011 سے تولیدی بچوں کی صحت کے پروگرام کے حصے کے طور پر10سے 19 سال کی عمر کی لڑکیوں میں ماہواری کی حفظان صحت کو فروغ دینے کی اسکیم پر عمل کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ راشٹریہ کشور سواستھ کاریہ کرم کے تحت اس اسکیم کے بڑے مقاصد نوعمر لڑکیوں میں ماہواری کی حفظان صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانا، نوعمر لڑکیوں کی طرف سے اعلی معیار کے سینیٹری نیپکن تک رسائی اور استعمال کو بڑھانا اور ماحول دوست انداز میں سینیٹری نیپکن کے محفوظ تصرف کو یقینی بنانا ہے۔16 -2015 سے، سینیٹری نیپکن کی خریداری اور ماہواری کی حفظان صحت کے لیے آئی ای سی/ بی سی سی کی سرگرمیوں کو قومی صحت مشن ریاستی پروگرام کے نفاذ کے منصوبوں (پی آئی پیز) کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظ

ہم کس سمت میں جارہے ہیں!

آج ہر ذی شعور انسان یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی آخر ہمیں کس سمت لے کرجارہی ہے، جس طرح فضا میں آلودگی بڑھنے کے اسباب میں ہم نے جانا کہ بے دریغ درختوں کو کاٹنا، دھواں، ہر طرف غلاظت کے ڈھیر ، بے ہنگم شور نے ذہنوں کو پراگندہ کردیا اور صاف تازہ ہوا کا راستہ روک کر شہر کو آلودگی کی نذرکردیا ہے ۔گذشتہ برسوں میں اپنی زندگی کو آرام دہ بنانے اور سہولت کے نام پر ہم نے خود اپنے لیے کس قدر مشکلات پیدا کرکے اپنی ہی صحت وسلامتی کو نہ صرف خطرے میں ڈالا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مسائل پیدا کردئیے ہیں۔  ہماری لاپروائی اور بے حسی نے ایک ایسا معاشرہ پیدا کردیا جہاں لوگ مصیبت میں مدد کرنے کے برعکس باقی دنیا کو باخبر کرنے کے لیے وڈیو وائرل کرنے میں زیادہ پُرجوش ہوتے ہیں۔ ہر شخص کرائم رپورٹر بنتا جارہا ہے۔ ہر وقت جرائم ، قتل وغارت ، زیادتی ہراساں کرن

آج کی دُلہن اور ہمارامعاشرہ

تجھ کو سجایا جاتا ہے بس اپنے مقصد کے لئے اے بنتِ ہوا زرا غور کر تیرا وجود کیا ہے؟ ایک زمانے کی بات ہے جب ہمارے سماج میں بہت کم لوگ تعلیم یافتہ ہوا کرتے تھے۔ _خاص کر لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اجازت نہ ملتی تھی مگر پھر جہالت کا دور ختم ہوا۔ تعلیم عام ہونے لگی اور ہمارے سماج کے ہر ایک فرد کو تعلیم حاصل کرنے پہ زور دیا گیا۔ غرض یوں ہے اس جدید دور میں جہاں تعلیم عام ہو گئ مگر انسان کی سوچ اَن پڑھ ہونے لگی۔ ہم سب مادہ پرستی کے شکار ہونے لگے۔ بےحیائی اور بے راہ روی نے ہمارے سماج کے اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہر ایک شخص اپنے اصولوں پہ اپنی مرضی کے مطابق جینے کی سوچ پیدا کرنے لگا۔ خاص کر ہماری شادیاں غیر مذہبی طور پر انجام دی جاتی ہے۔ جہاں ہماری دلہن کو سجایا جاتا ہے، بس اس خاطر کہ وہ انٹرنیٹ internet اور سوشل میڈیا social media کی زینت

ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن

حال ہی میں ورلڈ اردو ایسو سی ایشن ،نئی دہلی کے چئیرمین پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور ان کی ٹیم کی ان تھک محنت اور کوشش سے چار نئے ڈیجٹیل پلیٹ فارم کا افتتاح کیا گیا ، جس کے تحت ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن سنٹر کا قیام ،آن لائن اردو لر ننگ پر وگرام ،آن لائن رسالہ ترجیحات اور ای بک پبلی کیشن کا آغاز کیا گیا  ۔ اردو سے محبت کر نے والوں کے لئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے ۔  مجھے جب 2014 میںجواہر لعل نہرو یو نیورسٹی دہلی کے زیر ِ اہتمام منعقد ہونے والی اردو کانفرس میں" 21ویں صدی میں اردو جر نلزم "پر مقالہ پڑھنے کے لئے دہلی آنے کی دعوت دی گئی تو میرا خیال تھا کہ انڈیا میں اردو پر کیا ہی بات ہو گی اور کیا ہی اس کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہوگا ۔ مگر وہاں جا کر مجھے خوشگوار حیرت ہو ئی کہ جے این یو والے اردو کے بارے میں ہم پاکستانیوں سے کہیں زیادہ پر عزم اور پر جو ش ہیں ۔ ہا

انسان اور حیوان میں فرق

اللہ نے اس جہاں میں بے شمار مخلوقات پیدا کئےہیںاور ہر ایک کے لئے جینے کے الگ الگ طریقے دئےہیں،ہر مخلوق کےاندر خواہشات ،تمنائیں ،جذبات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے ،اُڑنے ،رینگنے،تیرنےاور رہنے سہنے کے طور طریقےبھی الگ الگ رکھے ہیں۔اگرچہ ہر مخلوق  ایک دوسرے سے مختلف ہےلیکن اُن کا انحصار ایک دوسرے پر ہی رکھا ہے۔اس کائنات پر رہنے والےحیوانات، درندوں ، پرندوںاور چرندوں پر نظر ڈالیںیا دریائوں اور سمندروں میں رہنے والے چھوٹے بڑے آبی جانوروں یاباریک کیڑے مکوڑوںکو دیکھیں توبخوبی پتہ چلتا ہے کہ بیشتر جاندار ایسے ہیںجن کی زندگی کا انحصاراپنے ہی حدود میں رہنے والے دوسرے جانداروں کی زندگیوں پر ہوتا ہے۔جہاں کسی کی زندگی پیڑ پودوں اور گھاس پھوس پر منحصر ہے وہیں ہر طاقتور درند و پرند کی زندگی کا دارومدار اپنے سے چھوٹے اور کمزور جاندار وں کی زندگیوں پر ہی ہے۔یہ صورت حال نہ صورت حال نہ صر

عورت۔ تخلیق کار کی ایک شاہکار تخلیق

 وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں عورت صنف نازک ہے جس کی حفاظت بے حد ضروری ہے ۔ چنانچہ اگر یہ پردے میں رہے تو اس کی حفاظت آسان ہوجاتی ہے۔پردہ اور پردے کی غرض و غایت ظاہر عمل کی پہچان ہے۔ یعنی جو چیز پردے میں رہ کر محفوظ ہے گویا اس کو کسی چیز کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔یہی بات میں ان دانشوروں ، شاعروں اور ادیبوں سے کہنا چاہتی ہوں جو سماجی اعتبار سے سرگرم اور فعال واقع ہوئے ہیں اور سماج میں جن کا اثر ورسوخ ہے ۔ اگر وہ پردے کی وکالت کریں گے تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر سماج پر ہوگا ۔ بقول علامہ اقبال   ؎ لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی  ڈھونڈ  لی قوم نے فلاح کی راہ روش مغربی ہے مد نظر وضع مشرق کو جانتے گناہ یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ہم نے اسلامی طرز حیات سے زندگی گزارنے کا

ایک ہاتھ میں ڈگری، دوسرے میں ہنر

بلاشبہ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی آداب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہےجس نے ارسطو کو فلسفے کا بادشاہ بنادیا،جس نے سائنس کو ’نیوٹن‘ جیسا شخص دیا۔ وہی تعلیم ابولکلام آزاد، علامہ اقبال اور کئی بڑے قائدین کے عروج وکمال کا سبب رہی،تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صرف وہی اقوام دنیا میں اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں، جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ۔موجودہ دور میں تعلیم اور ہنر کو کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی میں جو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہی میں نہیں ہمارے ملک میں بھی ماضی میں اس کی نہایت واضح اور روشن مثال ہیں۔جہاں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی صلاحیتوں اور رجحانات کو بھانپ کر بچوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور وہ اپنے رجحانات کے مطابق پیشہ اختیار کرتے

میرا فخر، میرا غرور اور میر ا محافظ ہے حجاب

حجاب میرا وقار اور میرا افتخار ہے، حجاب میرے رب کی پسند ہے، حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور ہمارا حق بھی، یہ ایک تکریم ہے جو ہمارے رب نے ہمیں دی ہے ،یہ حجاب ہمارا وقار اور ہماری پہچان بھی ہے جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ہر سال ’’4ستمبر‘‘ کو ساری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ یعنی 4ستمبر کو مصر سے تعلق رکھنے والی مروہ علی الشربینی کی دلسوز داستان رقم ہے۔ مروہ علی الشربینی کا جرم صرف اور صرف حجاب تھا، اس نے نہ صرف اپنی مذہبی آزادی بلکہ پوری مسلم اُمہ کی خواتین کے حقوق کے لیے جام شہادت نوش کیا۔ شہیدہ حجاب الشربینی مغرب کی انتہا پسندانہ رجحانات اور مسلمانوں کی مظلومیت کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ پردہ عورت کی عزت وقار کا محافظ ہے، اس کے لیے رحمت اور تحفظ کی ضمانت ہے، پردہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا نظام معاشرت ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے

اَساتذہ کرام کی شخصیت ۔ حقیقت کے آئینے میں

استاد کی شخصیت ایک عظیم ، پاکیزہ اور معتبرکہلاتی ہے۔یہ وہ شخصیت ہے جس کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے جس سے ایک صحت مند معاشرے اور صحت مند سوسائٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔ لیکن اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو بھی سچی لگن اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی انسانیت کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتی ہے۔ مشہور مفکر کا قول ہے : "There is no alternative of hard labour, and there is no shortcut way to achieve success." اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 5 ؍ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس خاص دن کا تعین کرنا ضروری نہیں، بلکہ ایک طالب علم اپنی کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہی بات ہوتی ہے کہ یہ کامیابی اساتذہ کرام کی ہی دین ہے۔ ایک طالب علم کی کامیابی کا سہرا اس کے والدین اور اساتذہ کرام کے سر جاتا ہ