شادی بیاہ میں خرافات کیوں؟

وادیٔ کشمیر جہاں پہلے ہی نامساعد حالات اور سیاسی بے چینی سے دوچار ہے وہیں دوسری جانب سماج میں پنپ رہی نِت نئی رسومات ایک نیا دردِ سر بن رہی ہیں۔ہمارا معاشرہ اس قدر بے جا رسومات میں دھنس چکا ہے کہ اب اُن سے باہر نکلنا محال لگتا ہے۔خوشی سے لے کر غمی اور پیدائش سے لے کر موت تک ہمارا ہراہم عمل رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔نتیجے کے طور پر سماج میں اس قدر برائیاں پنپ رہی ہیںجن کا تصور بھی ماضیٔ قریب میں رونگٹے کھڑا کردیتا تھا۔شادی بیاہ کو ہی لے لیجیے،ہم نے اس مقدس اور پاک رشتے کو اس قدر رسومات کہ نذر کردیا ہے کہ آج نکاح انتہائی مشکل اور بدفعلی نہایت آسان بن چکی ہے۔دیگر عوامل کی طرح دینِ اسلام نے نکاح میں بھی آسانی رکھی ہے لیکن ہماری کج عقلی کہ ہم نے اس آسانی کو اس قدر پیچیدہ بنا لیا کہ اب ایک انسان کی جوانی کا سورج بھی غروب ہوجاتا ہے لیکن نکاح اُس کا خواب بن کرہی رہ جاتا ہے۔ کسی ایک ف

حضرت فضہؓ

معمولی واقعہ مگر غیر معمولی درس:علامہ مجلسی اور شیخ صدوق نے جناب سلمانِ فارسی سے نقل شدہ ایک روایت کتب ِ احادیث میں رقم کی ہے جس کے مطابق رسولِ اکرمؐ کو امیرالمومنین اور لختِ جگر حضرت زہراؑ اور حسنین ؑنے یکے بعد دیگرے دعوت کی۔ اور حضرتِ رسولِ اکرم ان حضرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے مسلسل چند ایک روزخانہ زہراء ؑ تشریف لے گئے۔ آخری روز کھانا کھانے کے بعد جب آنحضرتؐخانہ ٔ فاطمہ ؑسے روانہ ہونے لگے تو دیوڑھی پر حضرتِ فضہ ؓنے عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ کل یہ کنیز شہنشاہِ رسالت ؐکو دعوت پہ بلاتی ہے ،امید ہے کہ تشریف لاکر عزت افزائی فرمائیں گے۔ رسولِ رحمت ؐنے بخوشی دعوت قبول فرمائی۔ اگلے روز مقررہ وقت پر جب حضورِ اکرمؐ جناب فاطمہؑ کے گھر میں وارد ہوئے تو سب نے آکر استقبال کیا۔ مگر آپ کی بغیر اطلاع اور اچانک تشریف آوری کا سبب جب اہلبیت اطہارؑ نے دریافت کی توفرمایا آج ہم فضہ ؓکے مہمان ہیں۔

وجود ِزن سےہے تصویرکائنات میں رنگ

 آج سویرے جب فون ہاتھ میں لیا اور حسب معمول فیس بک کھولا۔ بی بی سی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک مغربی سفید فام خاتون اور فحش فلموں کی مشہور ڈائریکٹر porn ویب سائٹس کو ہینڈل کر کے زناہ کو کس قدر فروغ دے رہی ہے۔ اس خاتون کا ماننا ہے کہ یہ دنیا صرف جنسی لذت کے لیے ہی بنائی گئی  ہے اور وہ جنسی آوارگیوں کو عام کرنا چاہتی ہے۔ اسی طریقے کی ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں کوششیں ہورہی ہیں جن سے سماجی برائیوں جیسے شراب نوشی،زناہ، اختلاط مرد و زن اور بھی کئی ساری بدکاریوں کو تقویت ملتی ہے۔  دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ سمندر کی تہہ سے لیکر آسمان کی بلندیوں کو چھو لینے والا انسان ہی تو ہے۔ ایک آدھ صدی پہلے کس نے سوچا تھا کہ میں آسمانی راستوں کے ذریعے ساری دنیا کا سفر بہت ہی مختصر مدت میں انجام دے سکوں۔ کس نے سوچا تھا کہ میں لاکھوں میل دور اپن

دورِ جدید کی ساسیں

ماضی میں ہرساس کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی بہو گھریلو کام کاج پر زور دے لیکن بدلتے دور اور نت نئی ٹیکنالوجیز نے جہاں عوام کی زندگی آسان کی ہے، وہیں ساسوں کے رویے اور سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ آج کی ساس اپنی بہو پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے اسے سپورٹ کرتی نظر آتی ہے اور ہر معاملے میں اس کا ساتھ دینے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ شاپنگ کے لیے جائیںیا پارلر، معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آتی ہے کہ ساس اور بہو ہر جگہ ایک ساتھ ہوتی ہیں اور وہ بھی خوش باش یعنی ایک سیٹ پربہو تو دوسری سیٹ پر ساس بیٹھی نظر آتی ہے۔ بدلتے وقت نے ساس بہو جیسے رشتے کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ آج کی ساس پہلے کی نسبت پڑھی لکھی اور سمجھدار ہے، وہ بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے ہر گْر سے واقف ہے۔ آج کی سلجھی ہوئی ساس اس بات پر جلتی کڑھتی نہیں کہ بہو بیٹے کے کتنے پیسے خرچ کروارہی ہے یا گھر کو وقت نہیں دے رہی وغیرہ وغیرہ۔ ماض

تازہ ترین