سماجی بے راہ روی کےسدِباب کی اَشد ضرورت

 دنیا میں کوئی بھی انسان یا کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے، جو بے حیائی اور بدکاری کو پسند کرتا ہو۔ مسلمان ہو یا کافر ، ہر کوئی اس چیز سے نفرت کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے دنیا میں بدامنی ، بے سکونی ،فتنہ و فساد اور لڑائی جھگڑے برپا ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ کیونکہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی اور نہایت بری راہ ہے‘‘ ۔ دین اسلام مرد و زن کے اختلاط کو کبھی قبول نہیں کرتا کیونکہ اس سے سماج میں لا تعداد برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ جب ایک انسان میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجائے تو وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا۔ جب انسان میں حیوانی صفت آجاتے ہیں تو پھر وہ غلط راستے اختیار کرکے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کرنا شروع کرتا ہے ۔ سورہ الاعراف میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کو حرام ٹھہرایا ہے خواہ پھر وہ کھلی ہو یا پوشیدہ ۔&nb

غلط سماجی روایتوں کا درد سہتی نوعمر لڑکیاں اور خواتین

ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کسی بھی ملک کی ترقی 21ویں صدی کا اہم حصہ ہے۔ ہندوستان نے بھی آسمان سے لیکر زمین تک کی گہرائیوں کی پیمائش کرنے کی کافی حد تک صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ سوشل میڈیا کے تقریباً تمام پلیٹ فارمز کی کمان ہندوستانیوں کے ہاتھ میں نظر آتی ہے۔ لیکن دوسرا رخ یہ ہے کہ اتنی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد بھی آج لوگوں کے ذہنوں سے حیض سے متعلق غلط فہمی کو دور نہیں کر سکے ہیں۔ اب بھی معاشرے میں اچھوت لفظ سے اِس کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس دوران نوعمر لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ یہ تصور شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں بہت گہرا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں کئی طرح کی اسکیمیں چلائی گئی ہیں لیکن آج تک حیض سے متعلق عوام کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی اسکیم سامنے نہیں آسکی ہے۔ مسلم بستیوں کے مقابلہ میں غیر مسلم علاقوں میں اس سے جڑی غلط فہمیاں زیاد

ہماری لاڈلی بیٹیاں اور آج کا ظالم معاشرہ

  خالق دو جہاں نے اس دنیا کو بہت خوب صورت بنایا ہے اور اس کی خوب صورتی کو مختلف چیزوں اور رشتوں میں چھپایا ہے۔ ان رشتوں میں سے ایک قدرت کا انمول تحفہ بیٹی ہے، مگر کچھ لوگ اس رحمت کو زحمت سمجھتے ہیں۔اولاد اللہ پاک کی اَن گنت نعمتوں میں سے بہت خاص نعمت ہے۔ اللہ کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ’’بیٹیاں اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہیں‘‘۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:’’جب اللہ پاک اپنے بندے پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو اِسے اولاد میں بیٹی دیتا ہے‘‘۔ آپؐ، صحابہ کرامؓ اور تابعین کے اپنی بیٹیوں، بہنوں، مائوں اور بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے واقعات ہم سب کے لیے روشن دلیل ہیں کہ اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور ان کو احترام و عزت دینا آج کے مسلمانوں کے لیے سب

کامیاب معاشرے کے لئے’تعلیم ِنسواں‘ ضروری

مردوں کی تعلیم ضروری تو ہے مگر   پڑھ جائے جو خاتون تو نسلیں سنوار دے  مفکرین کی رائے میں ’’مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے،جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے۔‘‘   میں اس رائے سے اتفاق رکھتی ہوںاور شاید آپ بھی۔مگر معاشرہ کے جولوگ اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے،وہ خواتین کے لیے بد خواہی کاپیش خیمہ بن رہے ہیں۔عورت اس کائنات کا جمال و شاہکار اور دلکش وجود ہے۔وہ گردش لیل ونہار کا ایک حسین اور کیف آور نغمہ ہے، جس کے دم سے حیات قائم ہے ۔عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونمانا ممکن ہے ۔بقائے حیات و معاشرے کا قیام واستحکام ،جسمانی وروحانی آسودگی عورت ہی کے باعث ہے۔عورت بیوی کی صورت میں خلوص ،وفاداری اور چاہت کا حسین افسانہ ہے ۔عورت بہن کی شکل میں اللہ تعا لیٰ کی بہترین نعمت ہے تو بیٹی کے روپ میں خدا کی رحمت ہے۔سچ تو یہ ہے

کسِ کسِ کا ذکر کیجئے کسِ کسِ کو روئیے

آہ ! یہ میرا ملک کن راہوں پر گامزن ہو گیا ہے ؟ جن پر چل کر سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ہمارا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے اس ماحول میں جہاں زمانہ طفل سے ہی" ہندو مسلم سکھ عیسائی ، آپس میں ہیں بھائی بھائی " کے نعرے سنتے رہے تھے ،وہیں آج ہندستان کی فضاء میں ہندو ،ہندوتو، اور ہندو ازم کے نعرے بلند ہیں ۔ ہندستان جسے ہمیشہ رنگ برنگے پھولوں کے گلدستے سے تشبیہ دی جاتی رہی ہے ،اس گلدستے سے تمام رنگوں کے پھولوں کو نوچ کر صرف بھگوا پھولوں سے سجانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے ،اس ملک میں روز ہی کوئی نہ کوئی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کو سن کر دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ع          کس کس کو یاد کیجیے کس کس کو روئیے           دن رات لوٹ مار ہے مزہب کے نام پر   جو ملک ہمیشہ سے سیکولرزم کی مثال تھا آج اسی

تعلیم و تربیت

اللہ تعالیٰ کا بے حد حمد و ثنا ،جس نے ہمیں اس دنیا میں لاکر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور بے شمار نعمتوں سے مالا مال کیا ۔ ان عظیم ترین نعمتوں میں ایک بڑی نعمت جہاں والدین کے لئے بچے ہیں وہاں بچوں کیلئے والدین۔والدین جو اپنے بچوںکو زندگی کے ہر موڈ پرساتھ دے کر انکا مستقبل روشن کرتے ہیں۔ اولادکی پرورش ،تعلیم و تربیت اور اُن کی اصلاح ِنفس والدین کی ذمہ داری ہے۔ والدین پر یہ ذمہ داری بھی لاگو ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے کریں،جس سے بچے کی زندگی میں کوئی اخلاقی بگاڑ اور کرداری نقص  نہ رہے، تاکہ وہ اپنےخاندان،اپنے معاشرے اور قوم و ملت کے لیے مفید ثابت ہوسکیں ۔دراصل تربیت کا مطلب ہی ہے اصلاح کرنا ،انسان سنوارنا، اسکو تمام بُرائیوںاورخرابیوں سے دُور رکھنا ہے ۔ بغوردیکھا جائے تو دنیا میں بہت سارے فنکار ، خوبصورت ، حسین و جمیل اور کافی مال و دولت رکھنے والے لوگ رہتے ہیں ۔ لیکن حسن و ا

بنتِ حوّا ہوں... دُکھ دے یا رسوائی

        ایک اچھی اور خوشحال زندگی کا تصور آرام دہ گھر آمدورفت کی سہولیات، موٹر گاڑی ،سکون و راحت کے نت نئے اسباب، اچھے اور خوبصورت ملبوسات من چاہی زندگی گزارنے کے بقدر آمدنی، معیاری اسکولوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت ہر کس و ناکس اس کی تمنا کرتا ہے۔ مرد ہو یا عورت ہر کسی کو اچھی اور خوشحال زندگی کی طلب ہوتی ہے۔ ہندوستان میں ایک بڑا طبقہ اُن افراد سے وابستہ ہے جو ایسی زندگی کی تمنا کرتے کرتے اپنی زندگی کے دن تمام کردیتے ہیں، اور ان کی خوشحالی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے، جبکہ سطح غربت اور اس سے بھی کم درجہ کی زندگی گزارنے والے بے شمار خاندان تو ایسے ہیں جن کو اپنی محدود ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے اپنی خواتین کو بھی روزانہ طرزِ اُجرت جیسے کاموں سے وابستہ کرنا پڑتا ہے یا پھر حساس ذمہ دار خواتین اپنی اور اپنے خاندان کی لازمی ضروریات کی تکمیل کے لیے خود ہی ایسے روزگ

عورت کوئی کھلونہ نہیں ؟

  قیس ابن عاصم نامی ایک شخص اپنی معصوم سی بچّی کو زندہ دفن کرنے کو تیار ہے،اس سے قبل وہ ا پنی 9بیٹیوں کو زندہ دفن کر چکا تھا،اس کے ہاتھ ان پھول سے بھی زیادہ نازک کلیوں کو ز ندہ دفن کرنے کے وقت نہ کانپے۔جبکہ اس کی لڑکی نے دفن ہونے کے وقت کہا ’’ابا آپ کی ڈارھی میں ریت لپٹی، اِسے صاف کرلے‘‘ اس وقت وہ معصوم خود گردن تک دفن ہو چکی تھی،لیکن دسویں لڑکی کو دفن کے وقت قیس ابن عاصم کے ہاتھ لرز رہے ہیںکیوں کہ ظلمت کی سیاہ چادر کو چاک کرنے اللہ کے حبیب ؐ روئے ارض پر عزت وعظمت کے ساتھ تشریف لا چکے ہیں۔ اب لڑکیاں دفن نہ ہو نگی،ما ئوں کی عزت ہوگی،یتیموں سے شفقت ومحبت،مظلوموں کی دادر سی ،کمزوروں کے، بیوائوں کے ہمدرد ،انسانیت کے محسن تشریف لا چکے ہیں، آپؐ کی آمد سے قبل عورتوں کی مظلومیت کا عالم، ایران میں باپ بیٹی کواپنے چمن سے جب رخصت کرتا تودس کوڑے مارتا اور وہی کوڑا د

اُمّت کا اسلامی تصّور

انسانوں کے درمیان نسل ،رنگ،زبان،علاقہ،قومیت اور دیگر چیزوں کے جو تعصبات پیدا ہوگئے ہیں،اسلام انھیں غلط قرار دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان اگر کوئی فرق ہو سکتا ہے تو وہ نسل، رنگ،زبان اور وطن کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقائد وافکار،عمل اور اخلاق کی بنیاد پر ہوسکتا ہے۔اسلام دنیا کے تمام نسلی اور قومی معاشروں کے برعکس ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے،جس میں انسانوں کے درمیان باہم رابطہ کی بنیاد پیدائش نہیں بلکہ ایک عقیدہ اور ایک اخلاقی ضابطہ ہو ۔ جو شخص بھی اس عقیدہ کو مانے اور اس اخلاقی ضابطہ پر عمل پیرا ہو، وہ اس معاشرہ میں شامل ہو سکتا ہے،خواہ وہ کسی نسل سے تعلق رکھتا ہویا کسی رنگ کا ہو اور کوئی بھی زبان بولتا ہو۔ اس معاشرہ میں شامل تمام انسانوں کے حقوق اور سماجی مرتبے یکساں ہوں گے ۔ ان کے درمیان کسی طرح کی اونچ نیچ، بھید بھاؤ اور تفاوت نہ ہوگا۔ قرآن کریم میں ایسے افراد

معاشرے میں حسد کا بڑھتا ہوا رُجحان !

 مسلم معاشرہ آج جن برائیوں کا شکار ہے، ان میں سب سے اہم اور خطرناک بیماری حسد ہے۔حسد نفسانی امراض میں سے ایک مرض ہے اور ایسا غالب مرض ہے جس میں حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جلتا ہے۔حتىٰ کہ حسد کا مرض بعض اوقات اتنا بگڑ جاتا ہے کہ حاسد محسود کو قتل کرنے جیسے انتہائی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتا۔حسد معاشرے میں بغض و عداوت اور نفرت کے بیج بوتا ہے ،اس لئے اسلام حسد کی تباہ کاریوں کو بیان کرتا ہے اور رشک کی تلقین کرتا ہے تاکہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔ دانشوروں نے کہا ہے کہ حسد ایک ایسی آگ ہے ،جس میں انسان خود جلتا ہے لیکن دوسروں کے جلنے کی تمنا بھی کرتا ہے۔اسلام انسان کو سیرت و کردار کی اس بستی سے اوپر اٹھاتا ہے اور اُن ساری خامیوں اور خرابیوں کو اس کے سینے سے نکال دیتا ہےجو معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں اور انسانوں کے دلوں کی کھیتی کو پیا

خواتین معاشرہ کا لازمی حصہ

 کوئی بھی معاشرہ یا سماج خواتین کی مداخلت اور شامل کئے بغیر ادھورا اور نا مکمل ہے۔اگرچہ قدرتی طور پر خواتین صنف نازک ہیں۔لیکن اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ خواتین ہر شعبہ میں کمزور اور ناتواں ہیں۔بلکہ بعض شعبوں میں خواتین مردوں سے بہتر اور فعال ہوتی ہیں۔ جس طرح مردوں کے لئے حقوق اور قوانین ہیں، اسی طرح خواتین کے بھی کچھ حقوق ہیں،ان کے لئے بھی کچھ قوانین ہیں۔ حقیقت میں کوئی بھی معاشرہ مرد و خواتین کی یکساں شراکت داری کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا ہے۔معاشرہ کی تشکیل بھی مرد اورخواتین سے ہی ہوتی ہے۔مرد کما کر لانے کا حق دار ہے اور عورت اس کمائی کو اچھے طریقے سے خرچ کرنے کی۔مرد گھر کے باہر کے تمام کاموں کا ذمہ دار ہے اور عورت گھر کے اندر کے تمام کاموں کی۔مرد اپنے بچوں کے طعام و قیام کے سا تھ ساتھ تعلیم کے اخراجات کاذمہ دار ہے۔لیکن عورت اپنے بچوں کے تمام اندرونی انتظامات کھانے ،پینے صفائی

نوجوانوں کو اپنا مستقبل خود بنانا ہوگا

 موجودہ دور میں جب ہر شخص آگے بڑھنا چاہتا ہے، اپنی زندگی کو پُرآسائش بنانا چاہتا ہے تو ہم کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں جبکہ راہیں تنگ اور وسائل محدود ہیں۔ تو ایسے میںکیاجائے  کہ آنے والے وقت کو اپنی گرفت میں لے کر تابناک اور روشن بناسکیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹیلنٹ ہونا ہی کافی نہیں ہے، اس کو وقت کے ساتھ ساتھ نکھارنا اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتے رہنا ہی ترقی کا سبب بنتا ہے ۔ نوجوان کو اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت اپنا راستہ خود تلاش کرنا ہوگا ، اپنا ذہن بدلنا ہو گا،اپنی سوچ بدلنی ہوگی ۔ منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو تلاش کر نا ہوگا اور حالات سے لڑنے کی بھی طاقت پیدا کرنی ہوگی۔نوجوان جب مثبت طرز فکر رکھیں گے۔ اپنے کام سے دیانت داری خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ نوجوانوں کی پریشانیوں کو ختم کرنے کے لیے بڑوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کہ یہ

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ ہندستان کے معروف اردو شاعر گذرے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ اردو شاعری غالب کے بغیر ادھوری ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ جس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ William Shakepeare کے بغیر انگریزی ادب نا مکمل ہے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کہ غالبؔ کے بغیر اردو ادب اور شاعری کا تصور ناممکن ہے۔ تاج محل کا شمار دنیا کے ہفت عجوبہ روزگار میں ہوتا ہے۔ جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد ہوتی رہتی ہے۔ تاج محل شہر آگرہ میں ہے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے کہ شہر آگرہ وہ شہر ہے جہاں اردوکے مایۂ ناز، باعث افتخار شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ ٢٧ دسمبر، ١٧٩٧ کو پیدا ہوئے۔ شہنشاہ شاہجہاں نے تاج محل جیسی خوب صورت عمارت بنواکر اپنی محبت کو دفن کرکے اسے ہمیشہ ہمیش کی زندگی بخشی۔  مرزا غالبؔ نہ تو کوئی شہنشاہ تھے اور نہ کسی شہنشاہ کے فرزند۔ محبت نے ان کے دل میں بھی ایسا ہی

ذہنی دباؤزندگی پر منفی اثر ڈالتا ہے

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسٹریس یا ذہنی دباؤ ہماری زندگیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ البتہ اکثر لوگ اسے عارضی نفسیاتی خلل تصور کرتے ہوئے نظرانداز کردیتے ہیں۔ ذہنی دباؤ ہماری کوئی بھی کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے علاوہ ہماری خوش و خرم اور صحت مند زندگی گزارنے کی استعداد بھی کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں تو آپ ہر قدم پر خود کو نہ صرف بیمار اور بدمزاج محسوس کرتی ہیں بلکہ آپ کو غصہ بھی زیادہ آتا ہے۔ تھکادینے والے روزمرہ معمولات اور حد سے زیادہ ذمہ داریاںاس صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیتی ہیں۔  ایسے میں یہ انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ زندگی گزارنے کے لیے ایسا راستہ اپنائیں، جس پر چلتے ہوئے آپ اپنے اسٹریس یا ذہنی دباؤ میں کمی لاسکیں۔ آج ہم آپ کے ساتھ کچھ مفید مشورے شیئر کررہے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنی مصروف زندگی می

صنف نازک پر ہورہاگھریلو تشدد!

کہا جاتا ہے کہ مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔بعض صورتوں میںیہ بھی کہا جاتا ہے کہ عورت وہ پچھلا پہیہ ہے، جس سے سارا زور لگا کر زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنا ہوتا ہے اور مرد وہ اگلا پہیہ ہے، جو اپنی شان و شوکت برقرار رکھنے کے لئے آگے رہنا پسند کرتا ہے۔ یہاں پر یہ بات کہنا بے جاہ نہ ہوگی کہ ایک کامیاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔یعنی کہ ایک عورت ایک مرد کوکامیابی دلانے کے ساتھ ساتھ اُس کے دکھ سکھ میں ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتی ہے۔ایک عورت کے بغیر اس کائینات کاوجود ناممکن ہے۔ بقول شاعر وجود ذن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ   اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوذ دروں  عورت جسے خدا تعالی نے اتنی اہمیت عطا کر کے اس دنیا میں بیجا  ہے، ایک گھرکو نہ صرف رونق بخشتی ہے بلکہ روشن کرتی ہےلیکن یہ عورت ہمیشہ سے کسی نہ کسی طرح کے گھریلو تشدد کا شکار ہوتی

گھر کی صفائی اور نظم وضبط؟

میری کونڈو ’ڈی کلٹرنگ‘ کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ گھر کی تمام اشیا کو نظم و ضبط سے رکھنے اورفالتوسامان کو ٹھکانے لگانے کے لیے بہترین مشورے دینے کی وجہ سے ہردلعزیز ہیں۔ میری کونڈو صرف گھر کی صفائی، نظم وضبط یا ڈی کلٹرنگ کو ہی فروغ نہیں دیتیں بلکہ وہ جذباتی نکتہ نگاہ سے بھی خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔ جاپان کی اس مشہور مصنفہ کی ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے انسٹاگرام فیڈز سے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صفائی کی اہمیت کے حوالے سے انسٹاگرام پرکلینز اسپو(cleanspo)کے نام سے ایک مہم بھی دیکھنے میں آئی، جس میں خواتین نے اپنے گھر وںمیں کی جانے والی صفائی، فالتو سامان کو ٹھکانے لگانے اور ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے اپنے تجربات تصاویر کے ساتھ شیئر کیے۔ ’’ٹائڈنگ اَپ وِد میری کونڈو‘‘ کے نا م سے نیٹ فلکس پر شوکرنے والی میری کونڈو

تکمیل دین کی پہچان ہے سچائی

اسلام میں جہاں محبت،قربانی،احساس ہمدردی،اُخوت ، اور عزت و احترام  کے جذبے دلوں میں پیدا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، وہیں مسلمانوں کو ایسےتمام برے کاموں سے سختی سے منع کیا گیا ہے جن کے وجہ سے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے۔ سچائی اور صداقت دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔یعنی حقیقت کے سوا کچھ بیان نہ کرنا بلکہ ایسی بات کہنا جسے کوئی جھٹلا نہ سکے۔سچا قول و فعل اور دُرست عمل عین صداقت ہے۔صداقت یعنی سچائی اللّٰہ ربّ العالمین کی بہترین صفت ہے۔ صداقت مومن کی پہچان ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سچ بولا اور دوسروں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے سخت منع فرمایا ۔اسلئے مکہ مکرمہ والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’الصادق‘‘کہہ کر پکارتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو صدق و حق گوئی سے معمور و معطر ہے ۔ دُنیا نے آج تک آپ صل

انسان ہی چیزوں کاانتخاب کرتا ہے

 پھول ایک شے ہے۔اس کا نام انسان نے ہی منتخب کیا ہے۔اسی طرح بہت سے ایسے نام ہیں جن کا انتخاب حضرت انسان نے کیا ہے۔کچھ چیزوں کے نام ظاہری اور کچھ چیزوں کے نام باطنی رکھے گئے ہیں۔ اُردو زبان میں جذبات و احساسات کے بھی نام آتے ہیں،یعنی انسان کے ہی منتخب شدہ ناموں میں سے کچھ کو ہم دیکھ سکتے ہیں اور کچھ کو محسوس کرتے ہیں۔اب یہ انسان پر ہی منحصر ہے کہ وہ اِن سب چیزوں کا انتخاب اپنی زندگی میں کیسے کرتا ہے۔جیسا کہ پھول، اسکا انتخاب خوشی ، شادی بیاہ کی مجلس یا پھر رنج و غم کی گھڑی یاکسی کی موت ہونے پرکیا جاتا ہے۔شادی پر کرے تو اِن پھولوں کی مہک سے محبت چھلکتی ہےاوریہ پھول انسان کو پیارے لگتےہیں اور اگر مرنے پر ہھولوں کا انتخاب کرے تو انہی پھولوں سے انسان کو نفرت ہوجاتی ہےاوران کی خوشبو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ آ گ:  انسان اگر اپنے لفظوں میں لگائے تو ہر کوئی جھُلس جاتا ہے، کوئی رشتہ نہی

اساتذہ ٔ کرام کی شخصیت

ایک عظیم ، پاکیزہ اور معتبر شخصیت کو استادکہتے ہیں۔یہ وہ شخصیت ہے جس کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے، جس سے ایک صحت مند معاشرے اور صحت مند سوسائٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔ لیکن اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو بھی سچی لگن اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی انسانیت کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتی ہے۔ مشہور مفکر کا قول ہے "There is no alternative of hard labour, and there is no shortcut way to achieve success." اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 5 ؍ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس خاص دن کا تعین کرنا ضروری نہیں، بلکہ ایک طالب علم اپنی کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہی بات ہوتی ہے کہ یہ کامیابی اساتذہ کرام کی ہی دین ہے۔ ایک طالب علم کی کامیابی کا سہرا اس کے والدین اور اساتذہ کرام کے سر جاتا ہے۔ ہر

صنفِ نازک کا معاشرے سے سوال؟

آجکل اگرچہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زبردست کارنامے انجام دیتی ہیں اورہر وہ چیز ایجاد کرتی رہتی ہےجس سے اس تیز رفتار دور کےانسان کو راحت و سکون میسر ہوسکےلیکن جب یہی انسان، انسانیت اورانسانی بقا کا دشمن بن کر مہلک سے مہلک ترین ہتھیار تیار کرتا ہے تب اس ترقی اور ایسے سہولیات کا کیا معنیٰ رہ جاتا ہےاور پھر انسان یہی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کی آسمانوں پر کمندیں ڈالناوالا اور سمندروں کی تہہ تک پہنچنے والا اس دور کا انسان ابھی تک حقیقی انسان نہیں بن پایا ہے اور نہ ہی انسان ہونے کے ناطے انسانیت کے لئے وہ کام کرتا ہے،جس پر اُسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا ہواہے۔بغور دیکھا جائےتو کیا فائدہ اس ترقی کا جو نہ صرف اس زمین پر رہنے والے انسان بلکہ زمین پر موجود دیگر جانداروںکیلئے بھی وبالِ جان بن جائے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہےکہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ اُن اح

تازہ ترین