شادی بیاہ میں خرافات کیوں؟

وادیٔ کشمیر جہاں پہلے ہی نامساعد حالات اور سیاسی بے چینی سے دوچار ہے وہیں دوسری جانب سماج میں پنپ رہی نِت نئی رسومات ایک نیا دردِ سر بن رہی ہیں۔ہمارا معاشرہ اس قدر بے جا رسومات میں دھنس چکا ہے کہ اب اُن سے باہر نکلنا محال لگتا ہے۔خوشی سے لے کر غمی اور پیدائش سے لے کر موت تک ہمارا ہراہم عمل رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔نتیجے کے طور پر سماج میں اس قدر برائیاں پنپ رہی ہیںجن کا تصور بھی ماضیٔ قریب میں رونگٹے کھڑا کردیتا تھا۔شادی بیاہ کو ہی لے لیجیے،ہم نے اس مقدس اور پاک رشتے کو اس قدر رسومات کہ نذر کردیا ہے کہ آج نکاح انتہائی مشکل اور بدفعلی نہایت آسان بن چکی ہے۔دیگر عوامل کی طرح دینِ اسلام نے نکاح میں بھی آسانی رکھی ہے لیکن ہماری کج عقلی کہ ہم نے اس آسانی کو اس قدر پیچیدہ بنا لیا کہ اب ایک انسان کی جوانی کا سورج بھی غروب ہوجاتا ہے لیکن نکاح اُس کا خواب بن کرہی رہ جاتا ہے۔ کسی ایک ف

حضرت فضہؓ

معمولی واقعہ مگر غیر معمولی درس:علامہ مجلسی اور شیخ صدوق نے جناب سلمانِ فارسی سے نقل شدہ ایک روایت کتب ِ احادیث میں رقم کی ہے جس کے مطابق رسولِ اکرمؐ کو امیرالمومنین اور لختِ جگر حضرت زہراؑ اور حسنین ؑنے یکے بعد دیگرے دعوت کی۔ اور حضرتِ رسولِ اکرم ان حضرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے مسلسل چند ایک روزخانہ زہراء ؑ تشریف لے گئے۔ آخری روز کھانا کھانے کے بعد جب آنحضرتؐخانہ ٔ فاطمہ ؑسے روانہ ہونے لگے تو دیوڑھی پر حضرتِ فضہ ؓنے عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ کل یہ کنیز شہنشاہِ رسالت ؐکو دعوت پہ بلاتی ہے ،امید ہے کہ تشریف لاکر عزت افزائی فرمائیں گے۔ رسولِ رحمت ؐنے بخوشی دعوت قبول فرمائی۔ اگلے روز مقررہ وقت پر جب حضورِ اکرمؐ جناب فاطمہؑ کے گھر میں وارد ہوئے تو سب نے آکر استقبال کیا۔ مگر آپ کی بغیر اطلاع اور اچانک تشریف آوری کا سبب جب اہلبیت اطہارؑ نے دریافت کی توفرمایا آج ہم فضہ ؓکے مہمان ہیں۔

وجود ِزن سےہے تصویرکائنات میں رنگ

 آج سویرے جب فون ہاتھ میں لیا اور حسب معمول فیس بک کھولا۔ بی بی سی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک مغربی سفید فام خاتون اور فحش فلموں کی مشہور ڈائریکٹر porn ویب سائٹس کو ہینڈل کر کے زناہ کو کس قدر فروغ دے رہی ہے۔ اس خاتون کا ماننا ہے کہ یہ دنیا صرف جنسی لذت کے لیے ہی بنائی گئی  ہے اور وہ جنسی آوارگیوں کو عام کرنا چاہتی ہے۔ اسی طریقے کی ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں کوششیں ہورہی ہیں جن سے سماجی برائیوں جیسے شراب نوشی،زناہ، اختلاط مرد و زن اور بھی کئی ساری بدکاریوں کو تقویت ملتی ہے۔  دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ سمندر کی تہہ سے لیکر آسمان کی بلندیوں کو چھو لینے والا انسان ہی تو ہے۔ ایک آدھ صدی پہلے کس نے سوچا تھا کہ میں آسمانی راستوں کے ذریعے ساری دنیا کا سفر بہت ہی مختصر مدت میں انجام دے سکوں۔ کس نے سوچا تھا کہ میں لاکھوں میل دور اپن

دورِ جدید کی ساسیں

ماضی میں ہرساس کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی بہو گھریلو کام کاج پر زور دے لیکن بدلتے دور اور نت نئی ٹیکنالوجیز نے جہاں عوام کی زندگی آسان کی ہے، وہیں ساسوں کے رویے اور سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ آج کی ساس اپنی بہو پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے اسے سپورٹ کرتی نظر آتی ہے اور ہر معاملے میں اس کا ساتھ دینے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ شاپنگ کے لیے جائیںیا پارلر، معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آتی ہے کہ ساس اور بہو ہر جگہ ایک ساتھ ہوتی ہیں اور وہ بھی خوش باش یعنی ایک سیٹ پربہو تو دوسری سیٹ پر ساس بیٹھی نظر آتی ہے۔ بدلتے وقت نے ساس بہو جیسے رشتے کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ آج کی ساس پہلے کی نسبت پڑھی لکھی اور سمجھدار ہے، وہ بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے ہر گْر سے واقف ہے۔ آج کی سلجھی ہوئی ساس اس بات پر جلتی کڑھتی نہیں کہ بہو بیٹے کے کتنے پیسے خرچ کروارہی ہے یا گھر کو وقت نہیں دے رہی وغیرہ وغیرہ۔ ماض

ابن ِ آدم کا شکار بنت ِ حوا

مرد وخواتین ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیںاور دونوںکے وجود کا ایکدوسرے کے بغیر تصور بھی نہیں کیاجاسکتا لیکن ’پدرانہ ذہنیت ‘رکھنے والے ہمارے معاشرے کے اندر عصر ِ حاضر میں بھی صنف ِ نازک خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہی۔آج بھی بنت ِ حوامتعدد اقسام کے تشدد کاشکار ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہرسال انڈیا میں کوئی نہ کوئی تشدد کا معاملہ میڈیا کے ذریعے زیادہ منظر ِ عام پر آتا ہے لیکن سرکاری اعدادوشمار اور کئی غیر سرکاری انسانی حقوق تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے تیار کردہ رپورٹوں میں انڈیا سے متعلق جوانکشاف کئے گئے ہیں وہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔یہ کہاجارہا ہے وہ ملک جہاں پر بیٹیوں کی پوجاکی جاتی ہے، وہ اُن کے لئے محفوظ نہیں۔ ان دنوں ملک بھر میں ریاست اُترپردیش کے گاؤں ہاتھرس میں اجتماعی عصمت دری اورقتل کا معاملہ موضوع ِ بحث ہے۔ اس سے قبل سال 2019کوریاست تلنگانہ میں میں لیڈی ڈاک

رعنا ایوب …عزم و ہمت کا عملی پیکر

ایک دور تھا جب صحافی سماج کا آئینہ دار ہوا کرتا تھا ،قلم آزاد ہوا کرتا تھا، سچ کو سچ لکھا جاتا تھا اورجھوٹ کو جھوٹ ،حق ببانگ دہل بیان کیا جاتا تھا،مظلوموں کو انصاف دلانے والے زیر عتاب نہیں لائے جاتے تھے۔اُس دور کاصحافی دیدہ زیب لباس نہیں پہنتا تھا ، بڑی گاڑیوں میں نہیں چلتا تھا؛ لیکن ایک زندہ دل رکھتا تھا، ایک جگر رکھتا تھا۔تنخواہیں کم ہوتی تھیں لیکن صفت بے نیازی و غنی سے متصف ہوتا تھا۔ حاکم وقت کے کھنکتے سکوں کا اسیر نہیں تھا۔صحافت ایک پیشے سے زیادہ جنون تھی۔ اب وہ دن تقریباً ہوا ہوگئے۔ صحافت اب میڈیا سے میڈیا ہائوسز میں تبدیل ہوگئی۔ ایک نفع بخش تجارت بن چکی ہے۔ آج کی صحافت عوام کی آواز نہیں چڑھتے سورج کی پجارن ہے۔ برسر اقتدار جماعت کے کوٹھے کی رقاصہ ہے۔ پونجی پتیوں اور ساہوکاروں کی داشتہ ہے۔ اسے مطلب ہے تو صرف اپنے بزنس سے، چاہے اس کے لیے ملک و قوم کو سولی پے ٹانگنا پڑے، چاہے اس

حضرت فضہؓ

 حضرت بلالؓ اور حضرت فضہؓ کامرزبوم بردہ فروشی کیلئے بہت ہی مشہور تھا۔ اس ملک یعنی حبشہ کے انسانی وسائل (Human Resources)  کا عمومی مصرف بردہ فروشی تھا۔انسانی تاریخ میں غلامی کی ثقافت کو جو فروغ ملا، اس میں یہ افریقی ملک یعنی ایتھوپیا مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ معاشی طور پر قدرے مستحکم اقوام وممالک زنجبار(جو حبشہ کا ایک اور نام ہے)کو سیاہ فام غلاموں کی کان سمجھتے تھے۔ یہاں سستے داموں قوی ہیکل اور سخت کوش غلام میسر ہوا کرتے تھے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قبل ِاسلام عرب معاشرے کا مستکبرانہ اجتماعی مزاج غریب ترین اور مستضعف ترین خطہ زمین سے تعلق رکھنے والے افراد کو کس نظر سے دیکھتاہوگا۔ اس لحاظ سے دور جہالت میں ہر دو افراد(حضرت فضہ ؓ اور حضرت بلالؓ )کا مقدر صرف اور صرف پیوند زمین ہونا قرار پاتا۔ مگر اسلام کی غلام پروری اور غریب نوازی نے انہیں انسانی تقدس کے ایسے خلع

شوہر اور بیوی

انسان ہمیشہ اور ہر دور میں اصول اور قوانین کی زنجیروں سے جکڑکر ہی انسانیت سے ہمکنار رہا ہے۔ اگر اسے ہر معاملے میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تو ہر سماج میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘کا قانون نافذ ہوتا۔ یہ دْنیا ایک جنگل کی صورت میں تبدیل ہوجاتی۔ جس میں طاقتور بلا پوچھے کمزور کونگل لیتا۔ انسانی خواہشات کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا۔ پس انسانی زندگی کے ہر شعبے میں کچھ اصول و ضوابط مقرر ہوئے جن کو نظر انداز کرنا نہ صرف کسی بھی فرد کی زندگی کا توازن بگاڑ دیتاہے۔بلکہ سماجی سطح پر اصول و اقدار کی خلاف ورزی کے اثرات ظاہر ہو ہی جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنسی احتیاج کے لئے ازدواجی قانون بنا ہے، اس قانون کی مخالفت جنسی بے راہ روی اور نظامِ قدرت کے خلاف جنگ پر محمول سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جنسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے واسطے اگر قانون ازدواج نہ ہوتا تو کیا نظام دنیا میں خلل

عارفہ خانم شیروانی

 غیر جانبداری اور عدم طرفداری صحافت کا سب سے اہم اور بنیادی اصول ہے۔صحافت صرف خبر رسانی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ رائے عامہ ہموار کرنے کا اہم ترین وسیلہ ہے۔صحافت عوام اور حکومتی مشینری کے درمیان پل کا کام کرتی ہے۔صحافت عوام کی آواز بن کر حکومت سے سوال کرتی ہے اور عوام کی آوازحکومت کے گوش گزار کرتی ہے۔صحافت نے ہردور میں ظلم و جبرکے خلاف آوازبلند کرنے میں نمایاںکرداراداکیا۔جمہوریت کے اس چوتھے ستون کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے اکبرالہ آبادی نے کہا تھا  ؎ کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو  دنیا میں ہر چیزکے اندر مثبت و منفی دونوں طرح کی خصوصیت ہوتی ہے۔ کسی بھی چیز کے فائدے اورنقصان کی ذمے داری اس کے استعمال کرنے والوں پرعائد ہوتی ہے۔ کچھ یہی حال صحافت کا بھی ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے کس طرح استعمال کیا

بنت ِحوا کی قبا چاک

اگر انسانی معاشرے کو ایک گاڑی سے تشبیہ دی جائے تو مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔معاشرتی استحکام کے لئے لازم ہے کہ گاڑی کے دونوں پہیوں میں توازن ہو اور دونوں کے حقوق و فرائض کا یکساں تحفظ ہو ورنہ یہ معاشرہ شدید بگاڑ کا شکار ہوگا اور اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ فطرتی بنیادوں پر عورت کو اپنی منفرد خواص کے باعث نوع انسانی میں نمایاں احترام اور مقام و حیثیت حاصل ہے۔ عورت کو جہاں ماں،بہن ،بیٹی،بیوی کی صورت میں عزت اور اعلی مقام دیا جاتا ہے وہیں عورت کو معاشرے میں شدید ظلم و جبر اور جنسی تشدد سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خواتین کے ساتھ زیادتیاں مختلف طریقہ سے ان کا استحصال ان کی عفت و عصمت کو تار تار کرنے کے واقعات وغیرہ ہر صبح اخبارات کی زینت ہوتے ہیں ۔کسی بھی زبان کا کوئی بھی اخبار ہو یا کسی بھی علاقہ ،ضلع اور ریاست سے نکلنے والا اخبار وہاں کی مقامی

بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت

بیٹیاں سب کو مقدر میں کہاں ہوتی ہیں گھر جو خدا کو پسند ہو وہاں ہوتی ہیں اسلام میں بیٹیوں کو بہت اہمیت حاصل ہے۔بیٹیاںجہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں وہیں والدین کیلئے جہنم سے نجات کا باعث اور جنت کے حصول کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ) ۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔نہ ہی مرد عورت کے بغیر مکمل ہے اور نہ ہی عورت مرد کے بغیر کامل ہے۔ یعن

چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فُغاں میری

پورے ملک میں 27ستمبر کو یومِ دختران کے طور منا یاگیا۔اس حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مقررین لچھے دار تقریریں کرتے ہیں اور پھر نشستند،گفتند اور برخواستند۔یومِ دختران کے نام پر معصوم کلیوں کی اہمیت اور عظمت پر زور دیا جاتا ہے،لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے حوالے سے بہتر ماحول فراہم کرانے کی وکالت کی جاتی ہے،جنسی زیادتوں کا قلع قمع کرانے کی سفارش کی جاتی ہے اور جنسی تفاوت کی روک تھام کے لئے لوگوں میں بیداری مہم شروع کرانے کی اپیلیں بھی کی جاتی ہے۔ گویا یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسو ںسے ایسے ہی چلتا آرہا ہے جسکے نتیجے میں چند خو بصورت عنوانات تر تیب دے کر لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے لئے چند خوبصورت اصطلا حات معرض وجود میں لاکر یوم دختران کا بستر گول کیا جاتا ہے۔کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود بھی بیچاری یہ دختر مظلومیت کے قید خانے میں سسک رہی ہے۔ ملکی حالات پر نظر دوڑائیں تومعل

گھر کی صفائی بھی، ڈپریشن میں کمی بھی!

  میری کونڈو ’ڈی کلٹرنگ‘ کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ گھر کی تمام اشیا کو نظم و ضبط سے رکھنے اورفالتوسامان کو ٹھکانے لگانے کے لیے بہترین مشورے دینے کی وجہ سے ہردلعزیز ہیں۔ میری کونڈو صرف گھر کی صفائی، نظم وضبط یا ڈی کلٹرنگ کو ہی فروغ نہیں دیتیں بلکہ وہ جذباتی نکتہ نگاہ سے بھی خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔ جاپان کی اس مشہور مصنفہ کی ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے انسٹاگرام فیڈز سے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔  شاید یہی وجہ ہے کہ صفائی کی اہمیت کے حوالے سے انسٹاگرام پرکلینز اسپو(cleanspo)کے نام سے ایک مہم بھی دیکھنے میں آئی، جس میں خواتین نے اپنے گھر وںمیں کی جانے والی صفائی، فالتو سامان کو ٹھکانے لگانے اور ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے اپنے تجربات تصاویر کے ساتھ شیئر کیے۔ ’’ٹائڈنگ اَپ وِد میری کونڈو‘‘ کے نا م سے نیٹ فلکس پر شوکرنے

غالب کاسُخن اور وجودِزن

 دنیا میں ہر بڑے شاعر اور ہر بڑے فلسفی کا اپنا ندازِبیاں اور اسلوب ہوتاہے، پر مرزا غالبؔ جیسا اندازِ بیاں رکھنے والا سخنور نہ کبھی پیدا ہوا اورشاید نہ کبھی ہوگا۔ مولانا حالیؔ نے مرزا کو بہت قریب سے دیکھاتھا، وہ لکھتے ہیں کہ غالب بہت وسیع اخلاق کے مالک تھے، جو شخص بھی ان سے ملنے جاتا وہ اس سے بہت خندہ پیشانی سے ملتے اور جو شخص ایک بار ان سے مل لیتا تو اسے ہمیشہ مرزا سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہو جاتے تھے۔ ان کی خوشی میں خوش اور ان کے غم میں غمگین ہو جاتے تھے۔ اس لیے ان کے دوست ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مضمون میں ہم نے غالب کی اس شاعری کی جستجو کی جو انہوں نے صنف ِ نازک کیلئے کی ہے۔ دراصل ان کے داخلی اور خارجی معاملات اس قدر دگرگوں تھے، اس لیے اپنے محبوب کیلئے بھی انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے سخن طرازی کی اور ایسے انداز بیاں سے کی کہ ہمیں

خواتین اپنا کاروبار کیسے شروع کریں؟

اپنا کاروبار شرو ع کرناکوئی آسان کام نہیں، مضبوط اعصاب کے مالک افراد بھی نروس ہوجاتے ہیں۔ تاہم، اگرآپ ہمت کرچکی ہیں اور اس سلسلے میں پْرجوش بھی ہیں تو آپ کو انٹرپرینیورشپ کی رولر کوسٹر پر بیٹھنے سے پہلے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ فیملی کی سپورٹ سب سے پہلے تو اپنی فیملی سے صلاح و مشورہ کریں (بالخصوص اگر آپ شادی شدہ ہیں) کیونکہ ایسے میں آ پ کو ان کی سپورٹ کی ضرورت زیادہ ہوگی۔ ہوسکتا ہے جب آپ کو میٹنگز اٹینڈ کرنی ہوں توگھر کا کوئی فرد آپ کے بچوں کو دیکھ لے یا آپ کا شوہر خیال کرتے ہوئے ہاتھ بٹائے تاکہ آپ اضافی کام کرسکیںاور سب سے بڑھ کر یہ کہ گھر والوں کے علم میں سب کچھ ہونا چاہئے تاکہ آپ زندگی کے نشیب و فراز سیگزریں تو وہ آپ کے ساتھ ہوں۔سب سے اہم بات یہی ہے کہ اپنا کاروبار کرنے کے جذبے میں اپنی فیملی کو نظر انداز نہ کریں۔ گھر والوںکے ساتھ مل بیٹھنے کیلئے وقت نکالیں، آخر

صنف ِ نازک کی عصمت داؤ پر کیوں؟

رواں ماہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعہ نے ایک مرتبہ پھرعیاں کر دیا کہ آج اکیسویں صدی میں بھی صنف نازک کی عفت و عصمت محفوظ نہیں ہے۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون لاہور سے گوجرنوالہ کی جانب اپنے دو بچوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہی تھی کہ موٹر وے پر اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوا۔ اسی اثنا ء میں چند درندہ صفت انسان موٹروے پر وارد ہوئے اور بندوق کی نوک پر خاتون اور اس کے بچوں کو پاس ہی ایک جگہ لے جاکر وہاں خاتون کی اپنے دو بچوں کے سامنے اجتماعی عصمت دری کی۔اس واقعہ نے پوری دُنیا بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ہر سو احتجاجی صدائیں بلند ہوئی۔ابھی اس واقعے کو زیادہ دن نہ ہوئے تھے کہ بھارتی ریاست تامل ناڑو میں ایک اسی سالہ بزرگ خاتون کی عصمت کو تارتار کیا گیا۔ ان دو واقعات کو چھوڑ کر بھی آئے روز اس طرح کی دل دہلانے والی خبروں سے اخبارا

شیر خوار بچوں کی صحت کیلئے خصوصی ٹِپس

مائیں بچوں کی صحت کے لیے ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ایسے میں اگر بات ہو شیر خوار بچوں کی صحت کی تو ان کی فکر میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔معمولی بیماریوں یا تکلیف کے لیے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا یا دوائیں کھلانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ برسوں سے آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں سے استفاہ حاصل کیا جائے۔ بچوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے چند احتیاطی تدابیر اورگھریلو ٹوٹکے درج ذیل ہیں۔ طاقت کے لیے جائفل کو تین گلاس پانی میں آٹھ سے دس منٹ تک اْبالیں اور اس پانی کو بچوں کے دودھ میں استعمال کریں۔بچوں کی جسمانی مضبوطی کے لیے اور ان کی ہڈیاں مضبوط کرنے کے لیے تیل اور دودھ کی کریم سے بچوں کا مساج کریں۔چھوٹے بچوں پر موسمی بیماریاں جلد اثر انداز ہوتی ہیں۔لہٰذا انہیں نزلہ ،زکام سے محفوظ رکھنے کے لیے زعفران کو پانی میں بھگو دیں اور یہ پانی ان کے سینے پر لگائیں۔چھوٹے

بے قید شادیاں…یرغمال نکاح خواں

جموںوکشمیرمیں شادی بیاہ کا سلسلہ اپنے جوبن پر ہے اور جب تک اس کائنات ہست و بود میں سانس باقی ہے یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔کیونکہ اس کے ساتھ نسل انسانی کی بقا ء اور نئے خاندانوں کا وجود وابستہ ہے ،غور سے دیکھا جائے تو آدم ؑو حوا  ؑکی تخلیق کے ساتھ ہی نظام تزویج عمل میں آیا تھا اور جنت کی مبارک زمین پر انہیں رشتہ ازدواج کی ڈوری میں باندھ کر نسل انسانی کے پھیلائو کا آغاز ہوا تھا۔گو جنت میں یہ مبارک عمل عملایا گیا لیکن ذریت زمین پر آکر پیدا ہوئی۔اسلام نے نکاح کی اہمیت کو جابجا اجاگر کیا ہے اور یہ سارے انبیا ء کی سنت بھی رہی ہے ،یہی بات قرآن نے یہ کہہ کر بیان کی ہے کہ (اے محمد ؐ)ہم نے آپ سے پہلے بھی یقیناً رسول ؑبھیجے اور اْنہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا (الرعد۔38)اور نبی رحمتؐ نے اپنے مقدس ارشادات میںاس اہم معاملہ کی افادیت اور ضرورت کو خاص انداز میں واضح فرمایا کہ اے نوجو

اُستاد کا رشتہ محترم اور مکّرم

انسان دنیا میںکبھی بھی تنہا وقت نہیں گزارتا،وہ کئی رشتے ناطوںکے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ رشتوں کاتعلق خون سے ہوتا ہے جبکہ بہت سے رشتے ناطوں کا تعلق روحانی ،اخلاقی اور معاشراتی طور پر قائم رہتا ہے۔انہی میں سے ایک رشتہ اْستاد کا بھی ہے۔اْستاد کو معاشرے میں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے۔اسلام میں ہی نہیں بلکہ باقی مذاہب میں بھی اْستاد کا رْتبہ والدین کے رْتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے،کیونکہ دنیامیں والدین کے بعد اگر کسی بچے کی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ معلم یعنی اْستادپر ہوتی ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ انسان تو وہ ہے جو صاحبِ علم یا طالبِ علم ہے اوریہ تو اْستاد ہی ہے جو ہمیں دنیا میں جینے اور زندگی گزارنے کی تربیت ،اہمیت اور افادیت سے واقف کراتا ہے گویا اْستاد ہی کسی بھی قوم کے نونہالوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کے ضامن ہیں۔ایک بچے کی پہلی کتاب اْستاد اور پہلا سیلیبس اْ

کوروناکا رونا نہ روئیں

کہ ہاں زندہ ہوں میں، زندہ لاش بن کے تو جیتا بھی، تو میں بھی ہارا ہوں خاک بن کے  حضرات! کورونا(آگے سے کرونا) سے آج کون واقف نہیں۔ شاید ہی کوئی ہوگاجسے اس بارے میںپتہ نہ ہو۔ حیرت اس بات سے ہے کہ اس لفظ کا مطلب کروُن (Crown) ہے۔ جسے اردو میں تاج اور ہندی میں مُکٹ کہتے ہیں۔ مجھے اس سے پریشانی نہیں کہ اسے اتنا اعزازی نام کیوں دیا گیا۔ تاج یا کروُن نام سنتے ہی انسانی دماغ میںبادشاہ، حکومت، سلطنت جیسے نام ضرور گھومتے ہیں۔ مگر یہاں میں بتاتی چلوںکہ جہاں تاج و حکومت پانے کے لئے ماضی میں خون کی ندیاں بہائی گئی وہیں اس تاج (کرونا) کو آج کی تاریخ میں پانے کی کسی کونہ حسرت ہے نا کوئی تمنا۔ جب کوئی بھی امید وار سامنے نہ آیا تو وائرس کے ایک خاندان نے اس نازک موڑ پہ دنیا کی باگ ڈورسنبھالی جو بعد میں کرونا نام کی حکومت کہلائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ان کے آپسی اتحاد کی وجہ

تازہ ترین