ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ

ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی لخت جگر ہیں یہ وہ مبارک خاندان ہے کہ جس کااللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب نبی ؐکی رفاقت واعانت کے لئے انتخاب کیا۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے عرب کے اس معاندانہ اورمخالفانہ ماحول میں جہاں اپنے بھی غیر بن گئے تھے اورجان کے دشمن بن گئے تھے، دوجہاں کے سردارؐکے دامن سے اپنی وابستگی کی اورایک مخلص صدیق ہونے کا عملی ثبوت دیا اور پھر ساری زندگی اپنے محبوب کی پہرہ داری کی ۔گھر کی چاردیواری کے باہر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور ؐکے سفروحضرکے رفیق تھے جبکہ گھر میں صدیقہ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر عزیز کے لئے صدق و فا کا کامل نمونہ تھیں۔ روایات میں آ ہے کہ نکاح سے پہلے حضورؐنے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے سامنے کوئی چیز پیش کررہا ہے آپؐنے استفسار کیا کہ یہ کیا ہے

جدیدیت کے نام پر بے راہ روی اور بے ہودگی

 کسی زمانے میں درندوں کو پہچاننا آسان کام تھا۔لوگ درندوں کی شکل دیکھ کر پہچان جاتے تھے کہ یہ شیر ہے، چیتا ہے یایچھ ، لیکن اب درندے انسانوں کے درمیان رہتے ہیں،انسانوں کی سی بود و باش رکھتے ہیںاور انسانوں ہی پر حملہ آور ہیں۔ایک درندے وہ ہیں جو اپنے نوکیلے پنجوں،تیز دانتوں کے ذریعے بے گناہ انسانوں پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں اوردرندوں کی ایک ٹولی وہ بھی ہے جو انسانوں کے بھیس میں حیوانیت کا ننگا ناچ کرتی ہے،قوم کی بیٹیوں کو ہوس کا شکار بناتی ہے ۔میراماننا ہے کہ ان انسان نما حیوانوں سے وہ درندے لاکھ درجہ بہتر ہیں جنہیں اشرف المخلوقات ہونے کا دعویٰ تو نہیں،جو احساس و شعور سے عاری ہونے کے باوجود اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس قسم کی گھناؤنی حرکت تو نہیں کرتے،اپنی مادہ کا کسی درجہ احترام توکرتے ہیں ،مگر یہ انسان نما وحشی جانور انسانیت کی حدود کو پھلانگتے ہوئے بے حیا

ہر دن پیاری ماں کے لئے

ہرسال کی طرح اس سال بھی سال کے 365دنوں میں سے صرف ایک دن ماں کے لیے منایا جارہا ہے ، جوکہ ممتا جیسی ہستی کے لیے بہت ہی ناکافی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے کہ جسکی محبت میں کوئی ریاکاری، کوئی تصنع، کوئی بناوٹ اور کوئی دکھاوا نہیں ہوتا۔ ماں جو اپنی اولاد کی رازداں ہوتی ہے، ان کے دلوں کے بھید جانتی ہے۔ ان کی خوبیوں کو اجاگر کرتی، ان کی خامیوں، ان کی کوتاہیوں، کمیوں، کجیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے محض اس لئے کہ اولاد کی دل آزاری نہ ہو۔ وہ اولاد کی خوشی میں خوش، ان کے غم میں ان کی دل جوئی کرتی ہے۔ گرنے لگتا ہے تو تھام لیتی ہے۔ اولاد کی کامیابی پر خوشی سے نہال اور ناکامی پر دل گرفتہ ہو جاتی ہے۔ خدا تو خالق کائنات ہے، وہ سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ خالق دو جہاں کے بعد ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو لائق، نالائق، صالح، بد اعمال، اپنے سارے جگر گوشوں کے ساتھ یکساں پیار کرتی ہے۔ وہ اپنی اولاد سے پیار اس کی ڈگری، منص

ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ

 ام المومنینؓ کی جو اوالادیں پہلے شوہروں سے تھیں، ان میں مورخین دو اور بعض نے تین کا ذکر کیا ہے ۔ ان میں سے ایک لڑکے کا نام’ ہند‘ تھا۔ انہوں نے اسلام قبول کیا۔ بڑے فصیح اللسان تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اس طرح بیان کرتے تھے۔ کہ اوصاف انہی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ حضرت حسن ؓ کو ان سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں ماموں کہہ کرپکارتے تھے۔ ہند جنگ جمل میں حضرت علی ؓکی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ایک اور لڑکے کا نام طاہر تھا۔ انہیں رسول اللہ ﷺ نے یمن کا حاکم بناکر بھیجا تھا۔ خلافت صدیقی میں انہوں نے مرتدین کے خلاف جنگ میں نمایا ںکارکردگی دکھائی۔ ام المومنین ؓکے ایک لڑکے کا نام ہالہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ آرام فرمارہے تھے کہ ہالہ آگئے اور بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ جب بیدار ہوئے تو انہیں سینے سے لگا کر پیار کیا۔  ام المومنین کے ایک بھائی کا نا

مزیدار چکن کروسانٹ بنانے کی ترکیب

ماہ رمضان میں بننے والے پکوان عوام اور مقامات کے تنوع کی عکاسی کرتے ہیں، گوشت، سبزی، دالوں اور مٹھائی سمیت یہاں ہر طرح کے پکوان شوق سے کھائے جاتے ہیں، مگر رمضان کے دوران اکثر لوگوں کی پسند کچھ نمکین اور میٹھی چیزوں کے لیے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اس حوالے سے کروسانٹ پیسٹری کی ایک قسم ہے جو میٹھے یا نمکین ذائقوں میں تیار کی جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو مزیدار چکن کروسانٹ بنانے کی ترکیب بتا رہے ہیں۔ ڈو کے لئے آٹا: 2 کپ ،نمک: آدھا چائے کا چمچ،چینی: 1 کھانے کا چمچ، خمیر: 1 چائے کا چمچ،تیل: 4 کھانے کے چمچ،گرم دودھ: آٹے کی مقدار کے مطابق،گرم پانی: ایک چوتھائی کپ خمیر کے لیے، چکن فلنگ کے لئے چکن بون لیس: آدھا کلو، سویا سوس: 2 کھانے کے چمچ،لیموں کا رس: 1 کھانے کا چمچ،چلی سوس: 2 کھانے کے چمچ،زیرہ: آدھا کھانے کا چمچ،گرم مصالحہ پاؤڈر: ایک چوتھائی چائے کا چمچ،پیاز: 1 عدد کٹی ہوئی،لہسن پیس

ماہ ِرمضان ،لاک ڈائون اور خواتین کا رول

ماہ رمضان کابابرکت دوسرا عشرہ رواں دواں ہے۔ ہمارے یہاں تو رمضان کے ااتے ہی معمولات زندگی میں تبدیلی آجایا کرتی تھی۔مرد حضرات کی معمول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ااتی تھی البتہ خواتین کی معمولات مکمل تبدیل ہو جاتی تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رمضان کی اامد سے قبل ہی خواتین رمضان کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔لیکن ان دنوں کورونا وائرس کے باعث سب گھروں میں محصور ہو کر زندگی گزار ر ہے ہیں۔ اکثر مردوں کے کاروبار بند پڑا ہوا ہے، لہٰذا وہ بھی گھر پر وقت گزار رہے ہیں۔یہی وجہ ہے آج کل بعض گھروں میں گھریلو جھگڑوں کی خبریں بھی سننے کومل رہی ہیں ،جس کی وجہ سے کئی خواتین اور بچے بہت پریشان ہیں۔بہر حال اب جبکہ رمضان کا بابرکت مہینہ رواں دواں ہے تو سب گھرانوں کی توجہ روزہ رکھنے ،افطار کرنے اور عبادات کی طرف مبذول ہو چکی ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے طریقے رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے

خوبصورتی کیسے بڑھائیں!

 کئی گھریلو ٹوٹکے وقت کے ساتھ درست ثابت ہوتے رہے ہیں اور آج بھی پرکشش نظر آنے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان ہی میں سے چار ایسے ٹوٹکے مندرجہ ذیل ہیں جو آپ کی خوبصورتی کو مزید نکھارنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ آملہ آملہ صحت کے اعتبار سے متعدد اعتبار سے فائدہ مند ہے۔ پیکج آملہ پاؤڈر سے چائے بنائی جاسکتی ہے جس میں ویٹامن سی بڑی تعداد میں موجود ہوتا۔ ویٹامن سی کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے، انفکشنز سے دور رہتے ہیں اور جلد کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔جلد پر آملہ لگانے سے یہ ایک قدرتی ’سن بلاک ‘کا کام کرتا ہے اور جلد پر ایک تہہ بن جاتی ہے جو یو وی ریز سے بھی بچاتی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے آملہ کو باہر جانے سے 20 سے 30 منٹ قبل لگالیں۔ ملتانی مٹی ملتانی مٹی جلد کو متعدد قسم کی خرابیوں سے بچاتی ہے خصوصاً جن افراد کی چکنی جلد ہ

خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ

 پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدمصطفی ؐ کی نورچشم بیٹی اور شیر خدا حضرت علی ؓ کی اہلیہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھماکا یوم وفات3رمضان المبارک کو منایاگیا۔حضرت فاطمہؓ کی وفات 3 رمضان المبارک 11ہجری میں واقع ہوئی اور آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ آپ کی مبارک ذات میں اللہ نے کئی غیر معمولی نسبتیں جمع فرمائیں تھیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی اور چہیتی بیٹی بھی ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زوجہ بھی اور حسنین کریمین کی والدہ بھی۔اور آپ کو اللہ نے امت مسلمہ کی جملہ خواتین کیلئے اسوہ یعنی نمونہ کے طور پر نمایاں فرمایا۔ آپ کو فاطمہ، بتول، زھرا، طاہرہ، سیدۃ النسا ء کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔روایات کے مطابق فاطمہ آپ کو اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو مع اولاد آتش دوزخ سے دور رکھے گا۔ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ

تعلیم نسواں معاشرتی فلاح کی ضامن

متحد ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن منتشر ہو تو جاؤ مرو شور مچاتے کیوں ہو "اگر آپ ایک مرد کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں تو آپ یقینا کسی فرد واحد کی تعلیم کے ہی متمنی و خواستگار ہیں مگر جب آپ کسی صنف نازک کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک پوری قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہوتے ہیں۔" خواتین کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے تہذیب کا گہوارہ ہوتی ہیں اور ہر شعبے میں ان کی شراکت بہت اہم ہے۔ یہی خواتین ایسے بچوں کو جنم دیتی ہیں جو قوم و ملک کے لیے باعث فخر بنتے ہیں۔ اگر سادہ لفظوں میں کہیں تو عورت ہی کسی سماج کی معمار و قوم کی مستقل بنیاد ہوتی ہے۔ تعلیم کو اسلام نے بھی اور دنیاوی آئینوں نے بھی کسی انسان کا بنیادی حق قرار دیا ہے مگر آج بھی پڑھے لکھے سماج میں تعلیم نسواں کا فقدان دیکھ کر لگتا ہے کہ خواتین کو ابھی بھی اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہ

حوا کی بیٹیوں کے ساتھ سلوک

  انسان بھی عجیب ہے، اپنے غلط فیصلوں اوررویوں پر فطرت کا ٹیگ لگاتا ہے اور خودبری الزمہ ہوجاتا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا وہ تو عین فطرت ہے اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ اپنے غلط فیصلوں کو خدا کی مرضی کہہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے خدا کی بنائی ہوئی اس خوب صورت کائنات پر نظر دوڑائی جائے تو اس خدا کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے جو انسان سے ایک ماں کے مقابلے میں بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور یہ حقیقت روشن ہوکر سامنے آتی ہے کہ اتنی خوب صورت کائنات کا بنانے والا بدصورت فطرت کا خالق کیسے ہوسکتا ہے؟ فطرت کا ٹیگ لگانے کے جس عمل کی میں نے بات کی اس کا سب سے زیادہ شکار ہمارے معاشرے میں عورت ہوتی ہے۔ عورت جسے دین اسلام نے عزت دی، حقوق دیے، وہ اپنوں سے ہی آج حوا کی بیٹی کی عزت کو پیروں تلے روندا جا رہا ہے۔ کبھی اس کے دوپٹے کو تار تار کیا جاتا ہے۔ تو کبھی اس کی روح کو معاشر

عظیم مائیں عنقا ہورہی ہیں؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث، تفسیر و فقہ کی تعلیم جس طرح مردوں کے لیے فرض کفایہ ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی ہے۔علم دین کے حصول میں کسی بھی قسم کی خصوصیت اور امتیاز کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی طرح کا استثنیٰ برتا گیا۔ہمارے یہاں جگہ جگہ لڑکوں کو علم دین سکھانے اور مفسر و محدث بنانے کے لیے بڑی بڑی درسگاہیں اور دارالعلوم قائم کئے گئے ہیں۔ انوار الٰہی سے معمور اور منور ہونے کے لیے علماء کرام کی صحبت اور مجالس موجود ہیں، نیز مطالعہ اور معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے بہت سی لائبریریاں قائم ہیں۔ مختصر یہ کہ مردوں کے لیے سب کچھ ہے جہاں وہ خود کو پہچانیں اور اپنی زندگی کو خدا اوراْس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ڈھالیں اور دین کے تقاضوں کو سمجھیں۔ اس لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے اپنی استعد

اسلام ۔ضابطہ ٔ حیات کا راہنما | ہر شعبہ میں عادلانہ اور منصفانہ نظام دیا

 اسلام ایک مکمل دستور ہے۔ انسانی زندگی میں پیدائش سے لے کر آخری آرام گاہ تک جتنے بھی موڑ آسکتے ہیں اسلام نے ہر شعبہ میں راہنمائی کی ہے اور اسلام نے اپنے پیروکاروں کی راہ بری کرتےہوئے بے حد عادلانہ اور منصفانہ نظام پیش کیا ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ موت کے بعد آنے والے مسائل کا حل بھی بتایا ہے، جن میں سے ایک اہم مسئلہ اس کی املاک وجائیداد کی تقسیم کا ہے۔شریعت کے دیگر احکام کے مقابلے میں میراث کو یہ خصوصیت اور امتیاز حاصل ہے کے اللہ باری تعالیٰ نے بذات ِخود اس کی تفصیلات اور جزئیات ذکر کی ہیں۔ نماز ،روزہ کے احکام بھی اتنی تفصیل کے ساتھ ذکر نہیں کیے گئے جتنا ذکر میراث کا کیا گیا ہے اور سب سے اہم اور قابل ِغور بات یہ کہ میراث کو فریضت من اللہ اور حدود اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور اسی کی بناء پر شریعت میں قانونی میراث کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آج نام نہ

تاریخِ اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار

اسلام نے علم کی حوصلہ افزائی اور جہالت کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ طلب علم کے معاملے میں اسلام مرد وعورت کے بیچ کوئی تفریق نہیں کرتا۔جہاں ایک طرف اسلام مردوں کو طلب علم کی ترغیب دیتا ہے وہیں عورتوں کو بھی طلب علم پر ابھارتا ہے، تاکہ مرد اورعورت دونوں زندگی کی تاریک راہوں میں علم کے قندیل سے راستہ پا سکیں۔ تاریخ کے ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ دختران اسلام نے بھی دین کی خدمت کی اور علم کے فروغ میں نمایاں رول ادا کیا۔ تاریخ میں ایسی ایسی مفسرات ،ادیبات ،شاعرات، عالمات،وفاضلات پیدا ہوئیں جن کے علم ومرتبہ تک کتنے علماء بھی نہ پہنچ سکے، یہی وجہ ہے کہ اساطین علم و ادب نے ان معلمات کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ ذیل کے سطور میں ہم بطور نمونہ چند فاضلات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ ٭امام محمدبن شہاب الزہری ؓ نے عمر بنت عبدالرحمان بن سعد، فاطمہ الخزاعیہ، ہند بنت الحارث الفارسیہ ام عبداللہ الروسی سے کسب ف

زرین دورکی خواتین کا بے مثال کردار

�حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا: آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام برؔکہ تھا۔باپ کا نام ثعلبہ بن عمرو تھا۔بعض روایات میں ہے کہ آپ کا وطن مالوف حبشہ تھا۔کنیت اُم ایمن رضی اللہ عنہا مشہور تھی۔ حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کی کنیز تھیں اور بچپن سے ان کے پاس ہی رہتی تھیں۔ جب حضرت عبداللہ انتقال کر گئے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنے لگیں۔ جب وہ بھی فوت ہو گئیں تو حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگیں۔پہلا نکاح عبید بن زید سے ہوامگر جب وہ انتقال کر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی ہوتے ہی آپ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔حضرت اُم ایمن

عورت کا میدانِ عمل اس کا گھر

        عورت کا میدان کار اس کا گھر ہے البتہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد کے دائرہ کار جدا جدا ہے۔ عورت کا میدان عمل اس کا گھر ہے اور گھر سے باہر کی دنیا مرد کی آماجگاہ ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم ؐکی ازواجِ مطہرات کو قرآن نے ہدایت کی اور یہی ہدایت ان تمام عورتوں کے لئے ہے جو خدا اور رسولؐ پر ایمان رکھتی ہیں۔ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو‘‘ اسلام نے دو وجوہ سے عورت اور مرد کے دائرہ کار ایک دوسرے سے الگ رکھے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے دونوں کی عفت و عصمت کی حفاظت ہوتی ہے۔ جب بھی دونوں ایک میدان میں کام کریں گے با عفت زندگی گزارنا ان کے لیے دشوار ہو گا۔  موجودہ دور میں جہاں کہیں اختلاط مرد و زن کی اجازت دی گئی وہاں اس کا بڑا بھیانک تجربہ ہوا ہے۔ عفت و عصمت اجڑ گئی اوربے راہ روی وبائے عام کی طرح پھیل گئی ہے۔ اب اس کی اصلاح بھی اتنی دشوار بن

معاشرے میں عورت کا کردار

 عورت نرمی، شفقت ،وفا ، ممتا کی جذبات سے گندھی ربِ کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے اور اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے عورت کو خاص مقام ومرتبہ عطاکیا ہے۔ کبھی اس کی قدموں تلے جنت رکھ کر اس کی عظمت کو چارچاند لگائی تو کبھی نازک آبگینہ کا لقب دے کر اس کی لطافت کوسراہا گیا اوراس کے ساتھ نرمی کی برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ لیکن عورت کو اس کی اصل مقام ومرتبہ پر فائز رکھنے کے لئے مردکو قوّام کی صورت میںاس پر ایک درجہ زیادہ عطا کیا گیا جو اس کی محافظت اورمعیثت کاذمہ دار ہے۔ مر دکو اپنی اس ذمہ داری کا احساس دِلانابھی ایک عورت ہی کی ذمہ داری ہے کیونکہ مرد عورت ہی کی زیر تربیت ہوتا ہے۔ یوں ایک عورت معاشرے کوبگاڑ نے یاسنوارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ بچے کی پہلی درس گاہ اس کے ماں کی گود ہے، بچہ جو کچھ وہاں سے سیکھتا ہے وہی اسکی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے اور معاشرہ اس کاعکس پیش کرتا ہے لہٰذا معاشر

جہیز کی روایت ایک بڑی لعنت

قومیں سب ہی زندہ ہوتی ہے لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ زندہ رہنے والی قومیں کون سی ہیں؟قوموں کو بقا ء اور زندگی کے لیے اپنی اجتماعی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ حکومت ہو یا عوام ،فرد ہو یا قوم، بھیک یا محتاجی زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتی۔ہمارے یہاں تو مسلمان بہت ہیں لیکن اسلام بہت کم نظر آتا ہے۔ اکثر لوگ شارٹ کٹ مار کر راتوں رات امیر بننے کے چکر میں کبھی ڈبل شاہ کے ہاتھوں لٹتے ہیں تو کچھ کسی بھی حد کو پار کرنے پر تل جاتے ہیں اور اپنی عزت تک بھی داو پرلگادیتے ہیں ۔ہماری معاشرتی خرابیوں میں بیٹی والو ں سے جہیز کامطالبہ کرنے جیسی روایت بھی ایک بڑی لعنت ہے، جس میں مال و زر کے حریص بڑی ستم ظریفی سے جہیز کی بھیک مانگتے ہیں اور رشتہ منہ مانگے جہیز کی شرط پر طے کرتے ہیں۔ بعض اوقات سب کچھ طے ہوجانے کے بعد جب شادی کے کارڈ چھپ جاتے ہیں تو اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے جاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے معیادر دوہرے ہوتے ہیں

لباس کو اپنی شخصیت کا آئینہ بناو

خوبصورت لگنا اور نظر آنا ہر عورت کی اولین خواہش ہوتی ہے ،اگر اس میں انفرادیت کا پہلو نمایاں ہو تو آپ دوسروں سے الگ یا اسٹائلش کہلائیں گی ،یوں تو حسن اور پیرہن دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ لباس کو شخصیت کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے ،لہٰذا لباس پر بھر پور توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ایسا لباس جو آپ کی شخصیت سے مطابقت نہ رکھتا ہو ،غیر تہذیب یافتہ ہو یا آپ پر جچتا نہ ہو ،اسے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔اکثر خواتین کو اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے لئے کون سا لباس منتخب کریں ،جبکہ زیادہ تر خواتین اپنے لئے جدید اور فیشن ایبل لباس کا انتخاب محض اس لئے کررہی ہیں تاکہ وہ فیشن کی دوڑ میں شامل ہوسکیں او روہ اس بات کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں کہ آیا وہ لباس ان پر جچ بھی رہا ہے یا نہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشیدہ کاری ایک ایسا فن ہے جو لباس کی خوبصورتی کو چار چاند لگادیتا ہے لیکن اگر ی

کیا عورت میں خامیاں نہیں ہوسکتیں؟

کیا عورت انسان نہیں؟ آج یہ سوال اس لیے اْٹھا رہاہوں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ دور میں عورت کو انسان سمجھا جارہاہے۔مشرق ہو یا مغرب ہر طرف مردوں کی اجارداری قائم ہے۔عوت تو بس ایک جسم بن کررہ گئی ہے۔ عورت کی اس حالت کی ذمہ داری کہیں نہ کہیں عورت پر بھی عائدہوتی ہے ۔مرد کایہ سوچنا کہ وہ عورت کو سب کچھ دے رہا ہے، انتہائی غلط ہے۔ وہ مرد جو پیدا ہوتے ہی عورت کے سامنے رونے لگتا ہے ۔وہ مردعورت کو کیا حقوق دے گا،جسے اس دنیا میں آنے کے لیے ایک عورت کے ہی دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ مرد جسے اپنی نسل آگے چلانے کے لیے کبھی کبھی ایک سے بھی زیادہ عورتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مرد کیوں یہ بات بھول جاتا ہے کہ جس نے اسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں پالااور پھر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اسے جنم دیا۔ وہ عورت ہی ہے جو اپنی تمام تر خواہشات کو زندہ دفن کرکے رات دن مرد کی بے لوث خدمت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عو

اُمت کی مائیں

جناب ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔آپؓ کی تعلیم و تربیت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر ہستی کے ذریعہ ہوئی۔آپؓحضرت عائشہؓ کی پیدائش سے چار سال قبل ہی اسلام قبول کرچکے تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود ِاقدس سے منسلک ہوکر حضرت عائشہ ؓ کا وجود ایک با برکت وجود بن گیا اور آپ مجسم نور بن گئیںاور دنیائے جہاں کا چاند آپؓ کی زندگی کی رونق بن گیا ۔ آپؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت و سکون کو غور سے دیکھا اور اُن انمول ہستی کی قربت سے بھرپور فایدہ اٹھایا ۔اپنے آپ کو رسول اللہ ؐ کے رنگ میں رنگین کرلیا ۔تقویٰ و طہارت ،نیکی اور علم میں سب سے اعلیٰ مقام حاصل کیا ،یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،نصف دین عائشہؓ سے سیکھو۔ آنحضر