تازہ ترین

معاشی مسائل سے خواتین پر پڑنے والے اَثرات

ہندوستانی معاشرہ میں گھر یلو ماحول کا اثر سب سے زیادہ خواتین پر پڑتا ہے کیوں کہ ان کا زیادہ تر وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے ۔گھر کا ماحول اگر پرسکون ہوتا ہے تو اس کے اثرات عورتوں کی زندگی پر مثبت پڑ تے ہیں اور اگر گھر کا ماحول کشیدہ ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ خواتین پر ہی پڑتا ہے ۔جہاں تک گھر کے ماحول کو خوشگوار ہونے کا سوال ہے، اس میں بےشک گھر کا معاشی پہلو بہت نمایاں کردار ادا کرتا ہے ۔اگر معاشی طور پر کوئی بھی گھرانا مستحکم ہوتا ہے یا کم سے کم اتنی آمدنی ہو جاتی ہے  کہ امور خانہ داری اور ضروریاتِ زندگی کا خرچ آرام سے پورا ہو جاتاہو،تب تو ٹھیک ہے ورنہ دھیرے دھیرے گھریلو زندگی مشکل ہونے  سے گھر میں ایک طرح سے تناؤ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، جس کے بُرے اثرات عورتوں کی صحت اور ذہن پر پڑ تے ہیں ۔پھر بیماری اور ڈاکٹر وں کا چکّر پریشانی میں مزید اضافہ کا سبب بن

گُجر بکروال خواتین میں حفظانِ صحت کے مسائل

حکومت ہند مختلف وزارتوں کے ذریعے ماہواری کی حفظان صحت کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزارت صحت اور خاندانی بہبود (ایم ایچ ایف ڈبلیو) 2011 سے تولیدی بچوں کی صحت کے پروگرام کے حصے کے طور پر10سے 19 سال کی عمر کی لڑکیوں میں ماہواری کی حفظان صحت کو فروغ دینے کی اسکیم پر عمل کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ راشٹریہ کشور سواستھ کاریہ کرم کے تحت اس اسکیم کے بڑے مقاصد نوعمر لڑکیوں میں ماہواری کی حفظان صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانا، نوعمر لڑکیوں کی طرف سے اعلی معیار کے سینیٹری نیپکن تک رسائی اور استعمال کو بڑھانا اور ماحول دوست انداز میں سینیٹری نیپکن کے محفوظ تصرف کو یقینی بنانا ہے۔16 -2015 سے، سینیٹری نیپکن کی خریداری اور ماہواری کی حفظان صحت کے لیے آئی ای سی/ بی سی سی کی سرگرمیوں کو قومی صحت مشن ریاستی پروگرام کے نفاذ کے منصوبوں (پی آئی پیز) کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظ

ہم کس سمت میں جارہے ہیں!

آج ہر ذی شعور انسان یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی آخر ہمیں کس سمت لے کرجارہی ہے، جس طرح فضا میں آلودگی بڑھنے کے اسباب میں ہم نے جانا کہ بے دریغ درختوں کو کاٹنا، دھواں، ہر طرف غلاظت کے ڈھیر ، بے ہنگم شور نے ذہنوں کو پراگندہ کردیا اور صاف تازہ ہوا کا راستہ روک کر شہر کو آلودگی کی نذرکردیا ہے ۔گذشتہ برسوں میں اپنی زندگی کو آرام دہ بنانے اور سہولت کے نام پر ہم نے خود اپنے لیے کس قدر مشکلات پیدا کرکے اپنی ہی صحت وسلامتی کو نہ صرف خطرے میں ڈالا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مسائل پیدا کردئیے ہیں۔  ہماری لاپروائی اور بے حسی نے ایک ایسا معاشرہ پیدا کردیا جہاں لوگ مصیبت میں مدد کرنے کے برعکس باقی دنیا کو باخبر کرنے کے لیے وڈیو وائرل کرنے میں زیادہ پُرجوش ہوتے ہیں۔ ہر شخص کرائم رپورٹر بنتا جارہا ہے۔ ہر وقت جرائم ، قتل وغارت ، زیادتی ہراساں کرن

آج کی دُلہن اور ہمارامعاشرہ

تجھ کو سجایا جاتا ہے بس اپنے مقصد کے لئے اے بنتِ ہوا زرا غور کر تیرا وجود کیا ہے؟ ایک زمانے کی بات ہے جب ہمارے سماج میں بہت کم لوگ تعلیم یافتہ ہوا کرتے تھے۔ _خاص کر لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اجازت نہ ملتی تھی مگر پھر جہالت کا دور ختم ہوا۔ تعلیم عام ہونے لگی اور ہمارے سماج کے ہر ایک فرد کو تعلیم حاصل کرنے پہ زور دیا گیا۔ غرض یوں ہے اس جدید دور میں جہاں تعلیم عام ہو گئ مگر انسان کی سوچ اَن پڑھ ہونے لگی۔ ہم سب مادہ پرستی کے شکار ہونے لگے۔ بےحیائی اور بے راہ روی نے ہمارے سماج کے اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہر ایک شخص اپنے اصولوں پہ اپنی مرضی کے مطابق جینے کی سوچ پیدا کرنے لگا۔ خاص کر ہماری شادیاں غیر مذہبی طور پر انجام دی جاتی ہے۔ جہاں ہماری دلہن کو سجایا جاتا ہے، بس اس خاطر کہ وہ انٹرنیٹ internet اور سوشل میڈیا social media کی زینت

ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن

حال ہی میں ورلڈ اردو ایسو سی ایشن ،نئی دہلی کے چئیرمین پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور ان کی ٹیم کی ان تھک محنت اور کوشش سے چار نئے ڈیجٹیل پلیٹ فارم کا افتتاح کیا گیا ، جس کے تحت ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن سنٹر کا قیام ،آن لائن اردو لر ننگ پر وگرام ،آن لائن رسالہ ترجیحات اور ای بک پبلی کیشن کا آغاز کیا گیا  ۔ اردو سے محبت کر نے والوں کے لئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے ۔  مجھے جب 2014 میںجواہر لعل نہرو یو نیورسٹی دہلی کے زیر ِ اہتمام منعقد ہونے والی اردو کانفرس میں" 21ویں صدی میں اردو جر نلزم "پر مقالہ پڑھنے کے لئے دہلی آنے کی دعوت دی گئی تو میرا خیال تھا کہ انڈیا میں اردو پر کیا ہی بات ہو گی اور کیا ہی اس کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہوگا ۔ مگر وہاں جا کر مجھے خوشگوار حیرت ہو ئی کہ جے این یو والے اردو کے بارے میں ہم پاکستانیوں سے کہیں زیادہ پر عزم اور پر جو ش ہیں ۔ ہا

انسان اور حیوان میں فرق

اللہ نے اس جہاں میں بے شمار مخلوقات پیدا کئےہیںاور ہر ایک کے لئے جینے کے الگ الگ طریقے دئےہیں،ہر مخلوق کےاندر خواہشات ،تمنائیں ،جذبات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے ،اُڑنے ،رینگنے،تیرنےاور رہنے سہنے کے طور طریقےبھی الگ الگ رکھے ہیں۔اگرچہ ہر مخلوق  ایک دوسرے سے مختلف ہےلیکن اُن کا انحصار ایک دوسرے پر ہی رکھا ہے۔اس کائنات پر رہنے والےحیوانات، درندوں ، پرندوںاور چرندوں پر نظر ڈالیںیا دریائوں اور سمندروں میں رہنے والے چھوٹے بڑے آبی جانوروں یاباریک کیڑے مکوڑوںکو دیکھیں توبخوبی پتہ چلتا ہے کہ بیشتر جاندار ایسے ہیںجن کی زندگی کا انحصاراپنے ہی حدود میں رہنے والے دوسرے جانداروں کی زندگیوں پر ہوتا ہے۔جہاں کسی کی زندگی پیڑ پودوں اور گھاس پھوس پر منحصر ہے وہیں ہر طاقتور درند و پرند کی زندگی کا دارومدار اپنے سے چھوٹے اور کمزور جاندار وں کی زندگیوں پر ہی ہے۔یہ صورت حال نہ صورت حال نہ صر

عورت۔ تخلیق کار کی ایک شاہکار تخلیق

 وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں عورت صنف نازک ہے جس کی حفاظت بے حد ضروری ہے ۔ چنانچہ اگر یہ پردے میں رہے تو اس کی حفاظت آسان ہوجاتی ہے۔پردہ اور پردے کی غرض و غایت ظاہر عمل کی پہچان ہے۔ یعنی جو چیز پردے میں رہ کر محفوظ ہے گویا اس کو کسی چیز کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔یہی بات میں ان دانشوروں ، شاعروں اور ادیبوں سے کہنا چاہتی ہوں جو سماجی اعتبار سے سرگرم اور فعال واقع ہوئے ہیں اور سماج میں جن کا اثر ورسوخ ہے ۔ اگر وہ پردے کی وکالت کریں گے تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر سماج پر ہوگا ۔ بقول علامہ اقبال   ؎ لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی  ڈھونڈ  لی قوم نے فلاح کی راہ روش مغربی ہے مد نظر وضع مشرق کو جانتے گناہ یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ہم نے اسلامی طرز حیات سے زندگی گزارنے کا

ایک ہاتھ میں ڈگری، دوسرے میں ہنر

بلاشبہ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی آداب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہےجس نے ارسطو کو فلسفے کا بادشاہ بنادیا،جس نے سائنس کو ’نیوٹن‘ جیسا شخص دیا۔ وہی تعلیم ابولکلام آزاد، علامہ اقبال اور کئی بڑے قائدین کے عروج وکمال کا سبب رہی،تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صرف وہی اقوام دنیا میں اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں، جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ۔موجودہ دور میں تعلیم اور ہنر کو کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی میں جو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہی میں نہیں ہمارے ملک میں بھی ماضی میں اس کی نہایت واضح اور روشن مثال ہیں۔جہاں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی صلاحیتوں اور رجحانات کو بھانپ کر بچوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور وہ اپنے رجحانات کے مطابق پیشہ اختیار کرتے

میرا فخر، میرا غرور اور میر ا محافظ ہے حجاب

حجاب میرا وقار اور میرا افتخار ہے، حجاب میرے رب کی پسند ہے، حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور ہمارا حق بھی، یہ ایک تکریم ہے جو ہمارے رب نے ہمیں دی ہے ،یہ حجاب ہمارا وقار اور ہماری پہچان بھی ہے جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ہر سال ’’4ستمبر‘‘ کو ساری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ یعنی 4ستمبر کو مصر سے تعلق رکھنے والی مروہ علی الشربینی کی دلسوز داستان رقم ہے۔ مروہ علی الشربینی کا جرم صرف اور صرف حجاب تھا، اس نے نہ صرف اپنی مذہبی آزادی بلکہ پوری مسلم اُمہ کی خواتین کے حقوق کے لیے جام شہادت نوش کیا۔ شہیدہ حجاب الشربینی مغرب کی انتہا پسندانہ رجحانات اور مسلمانوں کی مظلومیت کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ پردہ عورت کی عزت وقار کا محافظ ہے، اس کے لیے رحمت اور تحفظ کی ضمانت ہے، پردہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا نظام معاشرت ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے

اَساتذہ کرام کی شخصیت ۔ حقیقت کے آئینے میں

استاد کی شخصیت ایک عظیم ، پاکیزہ اور معتبرکہلاتی ہے۔یہ وہ شخصیت ہے جس کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے جس سے ایک صحت مند معاشرے اور صحت مند سوسائٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔ لیکن اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو بھی سچی لگن اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی انسانیت کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتی ہے۔ مشہور مفکر کا قول ہے : "There is no alternative of hard labour, and there is no shortcut way to achieve success." اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 5 ؍ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس خاص دن کا تعین کرنا ضروری نہیں، بلکہ ایک طالب علم اپنی کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہی بات ہوتی ہے کہ یہ کامیابی اساتذہ کرام کی ہی دین ہے۔ ایک طالب علم کی کامیابی کا سہرا اس کے والدین اور اساتذہ کرام کے سر جاتا ہ

تندرستی کے راز صبح کی سیر میں

صبح کی سیر صحت کے لئے بہت ضروری اور فائیدہ مند ہے۔یہ ایک اچھی عادت بھی ہے اور ایک جسمانی ورزش بھی۔جب آپ صبح اُٹھتے ہیں تو چہل قدمی کرنے کے لئے نکلتے ہیں تو فطرت کے خوبصورت ماحول کے علاوہ ٹھنڈی اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے تازگی آپ کے دماغ میں بس جاتی ہے اور آپ کو پورا دن متحرک رکھتی ہے۔ ساتھ ہی  ہماری جسمانی صحت پر شاندار اثرات مرتب کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق صبح کی سیر یاچہل قدمی کے بے شمار فوائید ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ حاصل ہوتے ہیں۔خاص کر ان لوگوں کے لئے جو اپنے دن کازیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ایک گھنٹہ پیدل چلنے سے انسان کی عمر  ۲ گھنٹے بڑھتی ہے۔اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ چہل قدمی کرنے سے نزلہ زکام کا اثرکم ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ خون میں موجود الرجی کم ہوتی ہے۔صبح کی تازہ ہوا آپ کے پھیپڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔جب آپ ت

ڈھلتی عمر میں بھی جوانی کیسے؟

کہتے ہیں خوبصورتی کسی تعریف کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ بات درست ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ اِدھر عمر ڈھلی، پچاس کے لپیٹے میں آئیں ،اُدھر خوبصورتی رخصت ہوئی اور جوانی بھی، لیکن پریشان نہ ہوں ۔ ہم آپ کو پچا س سال کی عمر میں بیس سال کا نظرآنے کےلیے ایک آزمودہ نسخہ بتارہے ہیں ۔آزما کر دیکھیں، اس کے استعمال سے لٹکتی جلد ٹائیٹ اور جھریاں ختم ہوجائیں گی۔اب آپ کو اس کےبنانے کا طریقہ بتاتے ہیں۔  اشیاء: ایلو ویرا کا گودا ،آدھی پیالی ،انڈے کی سفیدی چائے کا ایک چمچہ، ہلدی ایک چٹکی ،ناریل کا تیل، چند قطرے ،سفید تل آدھی پیالی ۔ طریقہ استعمال: ایلوویرا کی جو شاخیں ہیں ۔ان کو چھیل کر اس کا گودا نکال لیں۔ یاد رکھیں ،ایلوویرا کا خالص گودا لینا ہے۔ کسی کمپنی کا جیَل نہ لیں۔ آدھے پیالی کے قریب فریش ایلوویرا جَل لینا ہے، پھر ا س کو بلینڈر میں ڈال دیں، پھر اس میں آدھی پیالی سفید تل ڈال دیں

توہم پرستی کے جال میں پھنساہوا سماج

اکثر اخبار وں اور جریدوں میں کچھ اشتہار آنکھوں سے گزرتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا تا ہے کہ اگر کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے ،گھریلو پریشانی بڑھ رہی ہے، میاں بیوی کے آپسی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ،ساس بہو میں آپسی رنجش بڑھ رہی ہے ،بچے پڑھنے میں دل نہیں لگا رہے ہیں ،گھر سے برکت ختم ہو رہی ہے تو فلا ںبابا ہیں، جو اس کا شرطیہ علاج کرتے ہیں ،انکا یہ دعویٰ رہتا ہے کہ ان سب پریشانیوں کا روحانی علاج کرتے ہیں۔ کہیں کہیں تو یہ بھی دعوی ہوتا ہے کہ کام پورا نہیں ہونے پر پورا کا پورا پیسہ واپس کر دیا جائے گا اور پھر معا ملہ یہ ہوتا ہے کہ جاہل اور کم شعور والے لوگ تو ان بابا ؤں کے چکّر میں اکثر پڑ جاتے ہیں۔ مگر تعجب اور حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب پڑھا لکھا کہلا نے والا گھرانہ بھی ان بابا ؤں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مہا جال ہے، جس کو باضابطہ طریقے سے پورے مینجمنٹ کے ساتھ

بیٹیاںکیسے بہکیں اور اِرتداد کا دُھواں اُٹھا؟

آج کل سوشل میڈیا پر اور اخباروں کے صفحات پر کچھ ایسی خبریں نظروں کے سامنے سے گذرتی ہیں کہ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، جسم لرزہ براندام ہوجاتاہے، دل و دماغ پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ ایک باپ کی پگڑی کیسے اُچھل گئی، گھر کیسے ماتم کدہ بن گیا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اچانک ناگہانی حادثات ہوتے ہیں، گھر کا کوئی فرد موت کی آغوش میں سما جاتاہے، تب گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہوجاتا ہے مگر آجکل تو جیتے جی ایسےمناظر پیش آنے لگے۔ ماں باپ کتنے ناز و نعم سے اولاد کی پرورش کرتے ہیں ،بیٹے اور بیٹیوں کو آنکھوں کا تارا کہتے ہیں۔ ایک باپ فقیر ہوکر بھی بیٹے کے لئے بادشاہت کا خواب دیکھتا ہے، بیٹی ہے تو اس کے لئے اچھا رشتہ تلاش کرتا ہے اور جب بیٹی کی وداعی ہوتی ہے تو باپ کہتاہے: اے میری دختر جان! شرافت سے دُکھ سہنے کی ہمت کرنا، اپنے بڑوں کی عزت کرنا، ساس کی بیٹی بن کر رہنا، اُن کی سننا اپنی کہنا۔&r

’’عصرِ حاضر اور اُردوادبِ اطفال‘‘

جنوبی ہند کے معروف شاعر، ادیب، صحافی، قلمکار جناب خلیل صدیقی صاحب کی مرتب کردہ کتاب’’عصرِ حاضر اور اردو ادب اطفال‘‘ بذریعہ پوسٹ ہم تک پہونچی۔ یہ کتاب دراصل اردو ادب اطفال کے تعلق سے ہے، جس میں وطن ہندوستان کے جموں کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک اور پنجاب سے لیکر بنگال کے ماہرین تعلیم کے شاہکار تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ یہ مقالےسیمینار میں پیش کئے گئے تھے جو اوصاف ایجوکیشن ٹرسٹ(Ausaaf Education) اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان National Council for Promotion of Urdu Laguageکے اشتراک سے منعقدہ کیا گیا تھا۔اس نادر اور بیش بہا مقالوں کو یکجا کرکے اور ترتیب دے کر ڈاکٹر خلیل صدیقی نے کتابی شکل دی ہے۔ یہ کتاب304 صفحات پر مشتمل ہے۔ سرورق نہایت دیدہ زیب اور حسین ہے بلاشبہ ادب اطفال کے تئیں انکی گرانقدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ جو اردو ادب اطفال میں انمول اضافہ ہے اور تما

اردو افسانے کا عصری منظرنامہ خواتین کے حوالے سے

اردو ادب کا منظرنامہ خواتین سے خالی نہیں ہے۔ خواتین کا جم غفیر موجود ہے جو افسانوی صنف کو اپنی قلمی معاونت دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اردو افسانہ ترقی کے مدارج طے کررہا ہے۔ ابتداسے جس طرح افسانوی ادب کو خواتین کی خدمات حاصل رہی ہے اسی طرح ۲۱ویں صدی میں بھی یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ افسانوی ادب کے منظرنامے پر پروین شیرکانام تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ انہوںنے ہجرت کے مسائل پر افسانہ نیلا لفافہ لکھاہے۔ یہاں ایک نوجوان کی ہجرت کاذکر ہے جو تلاش معاش کے لئے ایک وطن سے دوسرے وطن جاتاہے، لیکن اس کی ہجرت کامنفی اثر اس کے والدین پر کس طرح پڑتاہے اسے مصنفہ نے اس طرح افسانے میں پیش کیاہے ملاحظہ کیجئے : ’’کوشش کے باوجود نیند کاپتہ نہیں ہے۔ رہ رہ کر ایک عجیب سی خامشی ستارہی ہے۔ اس دکھی باپ کی غمزدہ آنکھیں یاد آرہی ہیں، جن سے ٹپکے ہوئے آنسومیرے دل پر پتھر بن کر گررہے ہیں۔ جس کے مع

منشیات کے جھولے میں صنفِ نازک کی جھول

منشیات کے جھولے میں صنف ِ نازک کا جھولنا کتنا دردناک ،کیسا صدمہ جانکاہ اور کتنی بُری خبر صفحہ ٔ قرطاس پر بکھیر گئی ہے ،ہر کوئی باشعور اور ذی حِس بندہ اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کردیتا ہے کہ آئے دن اس جنت بے نظیر میں کیسے کیسے گُل کھلائے جارہے ہیں ۔کیا یہ بُرائیاں ہمارے سماج میں خود بخود پنپ جاتی ہیں یا ہم دانستہ طور ان بُرائیوں کو صرف ِ نظر کرکے ترقی پسند شہریوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔کار بَد خود کریں اور لعنت کرے شیطان پر کے مصداق۔۔۔۔کہیں ہیروئن سمگلنگ ،کہیں اُمّ الخبائث ،کہیں چرس وگانجا ،کہیں افیم وشراب ،کہیں طبلے کی تھاپ ،کہیں پایل کی جھنکار اور اس پر طرہ دوا کے بدلے ڈرگِس ،کھُلے چھُپے گرم بازار اور ہمارے معصوم بچیوں کی دلفریب مستانہ ادائوں نے ،ہماری کلچرل ترقی کو ٹرانزٹ پوائنٹ بنادیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بچے پندرہ سال سے تیس سال کی عمر تک اس خباثت کی طرف مائل ہوگئے ہیں اور دن

معاصر اُردو افسانہ۔تفہیم و تجزیہ

نام کتاب:معاصر اردو افسانہ(تفہیم و تجزیہ)       مصنف :ڈاکٹر ریاض توحیدی  صفحات :۲۶۴ ناشر:روشناس پرنٹرس ،دہلی قیمت:۳۰۰ روپے اردو ادب کے آسمان پر کئی قدآور شخصیات نے وقتاََفوقتاََپروازیں کیں‘اور اپنی اُڑان سے ہر ایک کو تحیر میں ڈال دیا ۔ان ہی اشخاص میں ڈاکٹر ریاض توحیدی بھی ایک ایسے ادیب ہیں جو اپنی مسلسل بلندپروازی سے ہر ایک کو حیران کر دیتے ہیں۔نہ صرف تنقید کے میدان میں بلکہ اردو افسانے پر بھی ڈاکٹر ریاض توحیدی کی گہری چھاپ نظر آتی ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے اور ان کی ہر تحریر سے نہ صرف یہاں کی خوبصورتی عیاں ہوتی ہے بلکہ یہاں کے درد و کرب کو بھی وہ وقتاََ فوقتاََ اپنی تحریروں میں عیا ں کرتے ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی تحقیق و تنقیدکے اسرار و رموز سے بھی اُسی طرح واقف ہیں جس طرح وہ افسانوں کے فن سے آشنا ہیں ۔دراصل وہ

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی مجموعہ

افسانہ درحقیقت اظہار خیال کے ایک مخصوص فن کا نام ہے اس کی تشکیل و ترتیب میں موضوع،مواد اور فکرو خیال کے ساتھ فنی حسن کا ہونا لازمی ہے اور ان سارے عناصر کو  ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ نے اپنے افسانوی مجموعے میں فنکارانہ طور پر پیش کیا ہے موضوع اور فن دونوں ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ کی تخلیقات میں جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں  افسانہ لکھنے والوں میں ڈاکٹر عقیلہ ایک خاص انداز کی ملکہ ہیں، ان کے افسانے بڑے کام کی چیز ہے۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ نہایت دلکش اور فطری ہیں۔ اصلاح معاشرت کا رنگ ان کے افسانوں پہ غالب  ہے۔ انہوں نے پلاٹ کردار اور طرز بیان کے ذریعے سے ایک انفرادیت اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔جہاں تک ان کے افسانو ی مجموعہ بکھرےرنگ کاتعلق ہے ، اس سے یہ بات واضح  ہو جاتی ہے کہ ان کے مجموعہ میں جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ ان کی سیرت نگاری ہے۔ ان کے کردار بہت

تعلیمِ نسواں کی اہمیت | مسلم معاشرہ کی ذمہ داریاں

موجودہ دور میں تعلیم نسوان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت قوم اور معاشرے دونوں کی ترقی اور بھلائی کے لیے ناگزیر ہے۔  لفظ ' تعلیم و تربیت دو اجزاء کا مرکب ہے۔ایک تعلیم یعنی سکھانا،پڑھانا،معلومات پہنچانا اور دوسرا تربیت یعنی اچھی پرورش کرنا ،اچھے اخلاق و عادات کا خوگر بنا نا اس لئے تعلیم اور تربیت دونوں اسلام میں بنیادی اہمیت کے حاصل ہیں۔ اسلام کا نظریہ تعلیم و تربیت: اسلام کی نظر میں تعلیم کا مقصد خالص رضائے الہٰی کا حصول ہے، جس کے لیے تعلیم و تربیت دونوں ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ تعلیم دوسرے نظام تعلیم سے منفرد ہے کیوں کہ اس میں تربیت کا بھی تصور پایا جاتا ہے، یہ طلبہ و طالبات کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ نفس کی تربیت کا بھی اہتمام کرتا ہے اور ساتھ ہی انسانی زندگی کے تمام شع