بیٹیوں کی صحت نظر انداز کیوں؟

آنسوں بھری آنکھوں سے اپنا درد بیان کرتے ہوئے ضلع پونچھ ساکنہ اڑائی سے تعلق رکھنے والے محمد اکرم کہتے ہیں کہ'' 17 فروری کے دن اپنے چھوٹے بھائی کی حاملہ بیوی نسیم اختر کو منڈی ہسپتال لے کر گئے، وہاں سے ڈاکٹروں نے ایمبولینس دے کر ہمیں پونچھ ہسپتال کے لئے روانہ کر دیا،ہسپتال پہنچنے کے بعد اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نسیم کی جانچ کی اور بنا دوائی دئے اپنے گھر چلی گئی۔ نسیم کو جب لیبر پین ہونے لگی تو ہم نے نرس کو بلایا اس نے انجکشن اور ایک گلو کوز کی بوتل لگادی۔ اس کے بعد کسی نے مڑ کے بھی نہیں دیکھا ۔دوسرا دن بھی گزر گیا، ہم نے پھر نرس سے بات کی۔ اس نے ہم سے بچے کے لئے کپڑے منگوائے اور کہا کہ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ کافی حالت خراب ہونے کے بعد نسیم کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا۔ لیکن آپریشن کے دوران ماں بچہ دونوں کی موت ہوگئی۔ محمد اکرم کے مطابق پونچھ ہسپتال کے ڈاکٹروں

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی کینواس

بقول ڈاکٹر ترنم ریاض:’’اردو زبان و ادب میں ادیبائوں کے کارنامے ایک پوری صدی پر محیط ہیں۔اردو ادب کے ان سارے منظر نامے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر یہ بھی انداز ہوتا ہے کہ ادیبائوں نے اس منظر نامے کو اور بھی دلکش اور جاندار بنانے میں خاصا رول ادا کیا ہے۔گزشتہ صدی میں خاتون ناول و افسانہ گار ،شاعرات ،انشائیہ نگار،مزاح نگار ،حتی کہ خاتون تنقید نگاروں نے اردو ادب کی بقا میں ایک اہم کر دار کیا ہے۔’’(اردو کی ادیبائیں،منظر پس منظر۔ص۔32 ) اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تخلیقی دنیا میں سر گرم نظر آتی ہیں جن میں ایک محترم نام ڈاکٹر عقیلہ کا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ڈاکٹر عقیلہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میںشعبہ عربی میں  بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز جموں و کشمیر میں ہی کیا ج

عائشہ کا گنہگار کون ؟

احمد آباد کی ایک بیٹی عائشہ کا ایک ویڈیوچندروز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ۔اس ویڈیو کو رکارڈ کرنے کے بعد اسکی والدین سے بات ہوئی انکی منتوں کے باوجود اس نے سابر متی ندی میں کو د کر خود کشی کر لی ۔ ویڈیو دیکھ کر سنگدل سے سنگدل شخص بھی اپنی آنکھوں میں آنسو آنے سے روک نہیں سکتا۔  عائشہ کی ویڈیو سے اسکی پل پل بدلتی ذہنی کیفیات اور اسکے کرب کا اندازہ ہوتا ہے۔چہرہ کبھی مسکراتا ہوا لگتا ہے اور کبھی غم میں ڈوبا ہوا لگتا ہے۔ الفاظ ہیںجو ا ن مظالم کے گواہ ہیں جو ہمارے مکر کی وجہ سے صدیوں سے جاری ہیں اور صدیوں تک جاری رہیں گے۔’’  ہیلو اسلام علیکم میرا نام عائشہ عارف خان ہے میں جو کچھ بھی کرنے جارہی ہوںاپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہوںاس میں کسی کا دبائو نہیں ہے اب بس کیا کہیں سمجھ لیجئے اس میں خدا کی دی زندگی اتنی ہی تھی اور مجھے اتنی زندگی بہت سکون والی ملی اور ڈیر ڈیڈ ،

اے بنت حوا تیری زنیت ہے حیاء

دین اسلام کا بنیادی وصف" حیا" ہے ۔ہمارے دین میں تصور حیا کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے ایمان کے برابر قرار دیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ" جس میں "حیا" نہیں،اس میں ایمان نہیں‘‘۔ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے" حیا جس چیز میں بھی شامل ہو ،اسے زینت دیتی ہے "۔ اس کے ساتھ ہی حیا کو وسیع تصور کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا" حیا یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دماغ میں گزرے،اس کے بارے میں تو اپنے رب سے حیا کر اور جو کچھ تیرے پیٹ میں جائے، اس کے بارے میں اپنے رب سے حیا کر"۔ یہ حدیث اس تصور کو واضح کرتی ہے کہ مومن حیا کا پیکر ہے اور اس کی حیا کا سب سے پہلا حق دار اس کا خالق ہے کہ وہ اپنی کل زندگی میں اسے اپنا نگران سمجھے اور اسے حیا کرے کہ اس کی زندگی کا کوئی دائرہ ایسے اعمال پر مشتمل نہ ہو، جو اس کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ 

گھر پر وائٹننگ فیشل کریں

خوبصورت،بے داغ اور چمکدار جِلد ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے لیکن یہ خوابوں جیسی جِلدموسم کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اضافی توجہ اور اضافی وقت چاہتی ہے۔ دن بھر کی دھول مٹی اور دیگر کثافتیں جِلد پر گندگی کی ایک تہہ جما دیتی ہیں۔ اگر اس تہہ کو وقتاًفوقتاً صاف نہ کیا جائے تو چہرہ کئی جِلدی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ داغ دھبے،کیل مہاسے،رنگت کا سیاہ ہو نا وغیرہ۔ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لییبیوٹی پارلر کا رْخ کیا جاتا ہے تو وہاں چہرے کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے درجنوں مہنگے فیشل دستیاب ہوتے ہیں۔ ان فیشل کو کروانے کے لئے نہ صرف آپ کی جیب کا بھاری ہونا ضروری ہے بلکہ اس کے لیے اچھا خاصا وقت بھی درکار ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت ،جب آپ کی فیشل ایکسپرٹ کسی دوسرے کلائنٹ کے ساتھ مصروف ہو اور آپ کو اس کا انتظار کرنا پڑے۔ اگر آپ یہ سب افورڈ نہیں کرسکتیں توگھر پر ہی اسکن ٹون کی مناسبت سے کس

عورت مرد کی مستقل اور وفادار ساتھی

 ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے تنہا کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں،پھراگر شادی شدہ عورت کسی مرد سے کوئی بات کر لے تو اس کے دل میں اس خاتون کے لئے خراب خیال پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا غلاظتوں بھرا رویہ اور سوچ ہے۔کیا صرف رشتے جسم کے ہوتے ہیں، روح سے محبت نہیں ہو سکتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں اپنے والد بھائی،یا کسی اور رشتے داروں کو تلاش کر رہی ہو، اس نا سمجھ کو تو مردوں کی گندی سوچ کا پتہ ہی نہیں ہوتا ہے،اور ایسے غلیظ مرد کچھ دیر کی ہوس کی تسلی کیلئے عورتوں کو گناہ کے راستے پر ڈالنے کے لئے طرح طرح کا حربہ استعمال کرتے ہیں،اور باقی کام فلمی نغمے اور رومانٹک واقعات کرتے ہیں۔عورت ایک لتا کی طرح ہوتی ہے، اسے ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے،وہ بھیڑ کی شکل میں چھپے ہوئے بھیڑئے کو نہیں پہچان پاتی، اور اس گناہ کے لئے سارا

خواتین کیخلاف تشدد

گذشتہ سال دسمبر میں65 سالہ نور محمد(نام تبدیل) کے اہل خانہ اپنی 21 سالہ بیٹی کی موت پر سوگوار تھے جسے اکتوبر میں دو لوگوں نے شادی کی ایک تقریب سے اغوا کرنے کے بعد اپنی ہوس کا شکار بنا ڈالا تھا۔ واقعے کے بعد اسے سرینگر کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ کئی اعضاء کے زخموں کی تاب نہ لاکر تقریباً مہینے زندگی اور موت کی جدوجہد میں مبتلا رہنے کے بعد اس دنیا سے چل بسی تھی۔یہ واقعہ اکتوبر کے آخری ہفتہ کاتھاجب فائنل ایئر میں زیر تعلیم نورمحمد کی بیٹی اسی ضلع کے اکہال گاؤں میں اپنے ایک کزن کی شادی میں شرکت کے لئے آئی تھی۔ 31 اکتوبر کو تقریبا ًصبح دس بجے وہ دلہن کی شادی کا جوڑا لینے گھر سے نکلی تھی۔ لوٹتے وقت دو لوگوں نے اسے اغوا کرلیا۔ اس کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ وہ لوگ لڑکی کو اغوا کرکے ایک گھنے باغ میں لے گئے، جہاں اس کی عصمت دری کی اور وحشیوں کی طرح اس کے جسم کو نوچ ڈالا۔ &nbs

کم عمر شادی کا عذاب جھیلتی سرحد کی بیٹیاں

جذبات کا قتل ہوتے اورخوا بوں کو ٹوٹتے دیکھا جب 16 سال کی عمر میں ماں بابا نے کہا ـ’’بیٹی کل سے تم پرائی ہو جاؤگی ‘‘یہ لفظ نیا تو تھا،مگر آہستہ آہستہ سمجھ میں آنے لگا تھا۔سہمی ہوئی میں ایک ہی لفظ بول پائی ’’دسو یں کے امتحانات چل رہے ہیں، میں آگے بھی پڑھنا چاہتی ہوں‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی سسرال والوں نے کہا ہے کہ آگے پڑھائیں گے، تم وہاں جاکر اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہو۔ 2013 میں میری رخصتی ہوگئی ۔آج جب لڑکیوں کو سکول جاتے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت اذیت پہنچتی ہے کیونکہ میری زندگی سے سکول کا نام توسات سال پہلے ہی مٹ چکا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں جس شادی کے لیے میرا سکول چھڑایا گیا تھا، میرے خواب مجھ سے چھین لے گئے تھے، آج وہ رشتہ بھی پیچیدہ ہے ۔شادی کے بعد اذیت شروع ہوگئی تھی۔ بات بات پر شدید تکلیف پہنچانا روز کا معمول بن گیا ۔یہاں تک کہ م

صنفِ نازک اور خاموشی!

صنف ِ نازک یعنی عورت ذات ،جو ماں کے روپ میںمحبت اور شفقت کا ایک وسیع و عریض سمندر ہے،بہن کی شکل میں اپنی جان تک لُٹانے والی شٔے ہے اور بیوی کی صورت میں حیا داری اور وفاشعاری کی ایک مثال بھی ہے۔اُسی کے کوکھ سے جنم لیا ہے انسانیت کی کایا پلٹنے والے اولولعزم پیغمبروں نے،زمین پر حق و صداقت پھیلانے والے صالح بندوں نے،انصاف پرور اور رحمدل شہنشاہوں نے،اُسی کی کوکھ میں پرورش پائی چنگیز خان،ہلاکواور ہٹلرجیسے انسانیت کے قاتلوں نے،اُسی کے کوکھ سے صلاح الدین ایوبی ،نورالدین زنگی اور محمد بن قاسم جیسے وطن پرست بھی پیدا ہوئے اور اُسی کی کوکھ میں پروان چڑھے جعفر و صادق جیسے وطن فروش بھی۔اُسی کوکھ نے پیدا کیا قدرت کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والے سائنسدانوں کو ،اُسی کوکھ نے جنم دیا تسلیمہ نصرین اور سلمان رُشدی جیسے شیطان صفت انسانوں کو۔اگرچہ دو متضاد طبیعتیں اور دو مختلف ذہن اِسی کوکھ کی پیدا وار

گرما گرم سُوپ سے سردی کا مزا دوبالاکیجئے

ویسے تو سوپ پینے کے شوقین افراد سارا سال ہی سوپ پیتے رہتے ہیں لیکن موسم سرما آتے ہی ہر کوئی مختلف اقسام کے لذیذ سوپ پینا پسند کرتا ہے۔ بچے ،بوڑھے اور نوجوان سبھی شوق سے سوپ پیتے ہیں۔ ریستوران اور بازاروں میں جگہ جگہ سوپ کی فروخت ہوتی ہے جبکہ گھروں پر بھی اسے بنانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ سرد راتوں میں گرما گرم سوپ ٹھنڈ کی شدت سے بھی بچاتے ہیں۔ سوپ کی مختلف اقسام میں سب سے زیادہ چکن کارن سوپ کھایا جاتا ہے۔  یہ جلد ہضم ہونے والی غذا ہے۔ سوپ افادیت کے لحاظ سے لاجواب ہے، جسے جسمانی کمزوری اور بیماری میں توانا غذا کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ سوپ نظامِ ہضم کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے بھی کار آمد ہے۔ ویسے تو مرغی اور بکرے کا سوپ بے حد مفید ہے لیکن سبزیوں سے تیار کردہ سوپ بھی انتہائی لذیذ اور قوت بخش ہوتا ہے۔ اسی لیے سوپ میں وٹامنز، معدنیات ، ریشہ اور پروٹین وافر مقدار میں مو

عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں؟

عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں دیا گیا، سائنس بھی اسلام کے احکامات کی تائید پر مجبور ہو گئی۔ ایک ماہرِ جنین یہودی(جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہےپورا واقعہ یوں ہے کہ البرٹ آئینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوارابرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے[البقرہ:228]”مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں”‘‘ اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہےاور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند

عورت کا مقامِ حیات رنگ و بو میں

وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں  ایسی ہستی جو کبھی ماں بنکر جنت اپنے قدموں میں سجاتی ہے ،توکبھی بیٹی بن کر اپنے باپ کی عزت بن جاتی ہے ،کبھی بہن بن کے اپنے بھائ کی رازدار کا فرض نبھاتی ہےتو کبھی ہمسفر بن کے مرد کے ہر دُکھ سُکھ میں اُس کا ساتھ دیتی ہے ۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ذی عزت افراد خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں ۔اور کیوں نہیں روےٰ زمین پر نوعِ انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔لہٰزا خواتین کی اہمیت سے انکار کا تو کوئ جواز ہی نہیں۔عورت ہر روپ اور سررشتہ عزت ،وقار کی علامت ،وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے۔  مگر لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اکیسوی صدی میں بھی ہم اس  صنف نازُک کا صحیح مقام اور رتبہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے بہت سارے سیمناروں اور اسکیموں کا افتتاح کرتے ہیں

کامیاب معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار

عورت کو مادرِ کائنات کہا گیا، جس نے انسان کو خانہ بدوشی کی زندگی ترک کرکے مکانات میں رہنے کا ڈھنگ دیا، جس نے بیج اُگاکر زراعت کی بنیاد رکھی۔ تعلیم یافتہ ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا فریضہ نبھاتے ہوئے جدید دنیا کو باصلاحیت، تعلیم یافتہ و ہنر مند افرادی قوت فراہم کی۔ جاب مارکیٹ میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھا کر کمپنیوں کو صف ِ اول کی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی کامیاب معاشرے میں عورتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔ تعلیم میں سب سے آگے بین الاقوامی سطح پر اس وقت لڑکیوں کی تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ پہلے خواتین کی عالمی منظر نامے میں اتنی زیادہ نمائندگی نہیں تھی لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ پاکستان کے دیہات اور شہروں میں ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کے اعداد و شمار ملاحظہ کریں تو تعداد میں خواہ لڑکے زیادہ ہوں لیکن

نازک نہیں ...مضبوط ہے عورت !

ایک وقت تھا جب عورت کو نازک سمجھا جاتا تھالیکن آج کی عورت کو دیکھیں تو ایسا بالکل بھی نہیں لگتا۔ عورت کو صنف نازک کہنا ایک ایسا مغالطہ ہے، جس میں مشرق اور مغرب دونوں ہی مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت جسمانی، معاشی اور معاشرتی سمیت کسی بھی لحاظ سے صنف ِ نازک کہلانے کی مستحق نہیں ہے، اس کے برعکس وہ ایک مضبوط شخصیت کی مالک ہوتی ہے۔ کسی زمانے میں خواتین کا گاڑی چلانا حیرت کی بات سمجھی جاتی تھی مگر آج آپ کسی بھی سڑک پر جائیںتو آپ کو کئی خواتین گاڑی چلاتی ہوئی نظر آئیں گی۔ خواتین کا اپنی ذاتی گاڑی چلانا تو اب عام بات ہوگئی ہے جبکہ کئی خواتین نے اب ڈرائیونگ کو اپنا پیشہ بناکر ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ خواتین ٹرک، گھر ، کمپنیاں ،ادارے اورملک چلارہی ہیں اور ان کو چلانا ٹینشن سے کم نہیں ہوتا۔ صرف یہی، نہیں مہم جوئی میں بھی خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔  مضبوط اعصاب ماہرین

سردیوں میں بالوں کی حفاظت کا انداز بدلیں

 سردیاں شروع ہوتے ہی بالوں کے مسائل میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گھنے سے گھنے بال بھی گرنے، کمزور پڑجانے اور خشکی جیسے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سرد موسم شروع ہوتے ہی نہ صرف آپ اپنی جِلد کی حفاظت کی روٹین میں تبدیلی لانے پر توجہ دیں بلکہ بالوں کی حفاظت کے انداز بھی بدل ڈالیں تاکہ شادی کے سیزن میںآپ کے خوبصورت بالوں کی چمک اور دلکشی ماند نہ پڑے۔ یہ تبدیلی کیسی ہونی چاہیے اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ تیل سے دوری بالوں سے دشمنی اگر آپ سرد موسم میں بالوں کی نگہداشت کیلئے تیل استعمال نہیں کرتیں تو جان لیجئے کہ آپ اپنے بالوں کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ تیل ہر موسم میںبالوں کو غذائیت فراہم کرتاہے۔ ہفتے میں کم ازکم دوبار بالوں میں تیل ضرور لگائیں۔ سرد موسم میں بالوں کی چمک اور حفاظت کیلئے سرسوں یا زیتون کا تیل دو چمچ ہلکا گرم کرکے آہستہ آہستہ سر کا مساج کریں۔ س

موسم سرما میں انڈوں سے بنائیں لذیذ پکوان

 انڈہ ویسے تو عموماً روزانہ ناشتے میں کھایا جاتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی اس سے بیشمار پکوان بنائے جاتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں انڈوں کا استعمال کافی بڑھ جاتا ہے۔ سْپر فوڈ میں شمارکئے جانے والے انڈے کو مکمل غذا قرار دیا جاتا ہے جس کے استعمال سے صحت پر بے شمار فوائد مرتب ہوتے ہیں۔ یہ بچوں کی نشوونما میں مدد کرنے کے ساتھ دماغی صلاحیتوں کو بھی بہتر بناتا ہے۔ پروٹین سے بھرپور یہ غذا ہر عمر کے افراد کیلئے بہترین ہے۔  پروٹین کے علاوہ اس میں فاسفورس، سوڈیم، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، امینوایسڈز، اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن اے، بی، ڈی اور ای شامل ہوتے ہیں۔ تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈوں میں موجود کولیسٹرول صحت کیلئے نقصان دہ نہیں جبکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ’ٹرائی گلیسرائیڈز‘ کی سطح میں کمی لاتا ہے۔ انڈہ جسم کو طاقت بخشتا ہے، جس سے ہڈیاں، پٹھے اور

قرّۃ العین حیدر

 طلوعِ اسلام سے اب تک چودہ صدیوں کے مختلف ادوار میں مسلم خواتین نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی عظمتوں کی تاریخ مرتب کی ہے۔ برصغیر ہندوستان کی گزشتہ آٹھ سو سالہ مشترکہ ہند آریائی تہذیب کی تاریخ بھی مسلم خواتین کے دورساز کارناموں سے مزین ہے جنھوں نے جہانبانی، ملک گیری، سیاست، علوم و فنون، صنعت و حرفت اور انسانی معاشرہ کی اصلاح و تعمیر میں اپنی بصیرتوں اور لیاقتوں کے دائمی نقوش لوحِ زمانہ پر مرتسم کیے۔ یہ شرف بھی اس عظیم خطہ ارض کی مشترکہ تہذیب کی زندہ علامت اردو زبان کو حاصل ہوا کہ یہاں ایک نابغۂ روزگار مسلم خاتون نے جنم لیا جس نے اپنی غیرمعمولی ذہانت، علمیت، تخلیقیت اور وسیع تاریخی، سماجی، سیاسی اور انسانی شعور و بصیرت کو فن افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے وسیلے سے اس طرح ظاہر کیا کہ بیسویں صدی میں برصغیر کی کوئی اور قوم یا زبان اس کا ثانی پیدا نہیں کرسکی۔ نہ صرف برصغیر بلکہ ت

عورت اور ہمارا رویہ

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو جاتی ہے؟کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے۔مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے۔اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟ عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اسکے جسم میں وہ تمام صلاحیتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہولیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ہمارے معاشرہ میں اکثر لڑکیوں کی شادی ان کی پسند کی نہیں ہوتی مرضی سے ہوتی ہے۔لڑکی کی مرضی کسی نہ کسی صورت میں سمجھوتے کی ایک شکل ہوتی ہے

ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل

دنیا بھر کی خواتین معاشی طور پر مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں کے ذریعیاپنے ملک و قوم کا نام روشن کررہی ہیں۔مختلف اعداد وشمار افرادی قوت میں عورتوں کی بڑھتی شرح کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن یہ تصویر کا آدھا رخ بیان کرتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا ر خ ملازمت پیشہ خواتین کو کام کی جگہوں پرموجود درپیش مسائل ہیں، جن کاذکر قدرے کم کیا جاتا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ملازمت پیشہ خواتین کو مسائل کاسامنا ہے۔ برطانوی ادارے تھامسن رائٹرز فائونڈیشن اور روک فیلر فائونڈیشن کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میںدنیاکی 9500ورکنگ ویمن سے ملازمت کی جگہوں پر موجود درپیش مسائل سے متعلق بات چیت کی گئی۔اس سروے نتائج کے مطابق دنیابھر کی ورکنگ ویمن کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ ورک لائف بیلنس سروینتائج کے مطابق دنیا بھر کی ورکنگ ویمن کو درپیش مسائل میں سے ایک مسئلہ ورک لائف بیلنس کا

صنف ِنازک…!

بھیا سچ پوچھیں تو میری سمجھ شریف پرآج تک یہ بات نہیں بیٹھ سکی ہے کہ ’’صنف ِنازک‘‘ درحقیقت ہے کیا! اچھا جی میرے ساتھ ہوتا یہ ہے کہ بعض دفعہ ہزارسمجھنے کے باوجود جب مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا ہے تو مزیدالجھنے کے بجائے اسے سمجھنا ہی ترک کردیتا ہوں۔ یاآپ ہی معاملہ ’پھر کبھی‘ پر موقوف ہوجاتا ہے۔ بارہااس مسئلہ (صنف نازک) کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی،تاہم بات جب بنتی ہوئی نظر نہیںآئی توسمجھنا ترک کردیا، یا کبھی آپ ہی ’پھرکبھی‘ پرموقوف ہویا۔آج یوں ہی تنہا اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ چلیں جی اس مسئلے پراس بارسنجیدگی کے ساتھ قلمی زورآزمائی کیون نہ کرلی جائے۔ عام طورپرہمارے معاشرے میں’’صنف نازک‘‘عورتوں کوکہا جاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص ’اصطلاح‘ ہے،جس کا اطلاق انسان کے اس روپ پرہوتا ہے

تازہ ترین