تازہ ترین

جانئے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو | حُسن ،سِنگار کے بغیر دل موہ لیتا ہے

چند سال قبل میں اپنے علاج و معالجے کی خاطر آل انڈیا بترا انسٹی چیوٹ کی طرف جارہی تھی ،میں نے حوض رانی گاندھی پارک کے متصل لوگوں کے جمگٹے میں اُردو زبان میں شائع کئے گئے چند پمفلٹ کی مُفت میں تقسیم کاری دیکھی۔میرا بھی جی للچایا اور آگے بڑھنے سے قبل آٹو ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا ۔میری سیمابی کیفیت تاڑ کر چند بچے آگے آکر دوچار پمفلٹ (Pamflet)میرے ہاتھوں میں تھماکر مجھے رخصت کیا اور میں نے بھی ممنون نگاہوں سے اُن کا شکریہ ادا کرکے یہ مسودہ کھولا ۔اسلامِک ریسرچ سینٹر نئی دہلی سے اس کی دلپذیر اشاعت ہوگئی تھی ۔صفحہ ٔ قرطاس پر ’’جانیے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو‘‘ان کا موضوع ِ خاص مشتہر کیا گیا تھا ۔اس عنوان کو دیکھ کر میں نے بھی دل ہی دل میں یہ ارادہ کرلیا کہ میں گھر آکر اس پمفلٹ کی ہزار دو ہزار کاپیاں بناکر قوم کی معصوم بچیوں کے نام وقف کردوں،تاکہ میں بھی کماحقہ

کورونا کی تیسری لہر اورمنکی بی وائرس | نادانوں کی کوششیں روایت پر تمام ہیں

ایک طرف کرونا وبا ء کی تیسری لہر کی آہٹ ہے تو دوسری طرف بےخوف عوام، جسے زندگی کی کشمکش سے اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ یہ سوچےکہ کرونا وبا ء ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کرونا پر و ٹو کول کی پیر وی کی جائے ۔نہ تو منہ پر ماسک نہ سماجی دوری کا احساس۔ حکومت کے بار بار اعلان کے باوجود اور سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کی لاکھ کوشش کے باوجود زیادہ تر آبادی اپنے حال میں مگن نظر آتی ہے۔ شہر وں اور بازاروں کا حال دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ جیسے وبا ئی مرض اب ختم ہو گیا ہے اور لوگ دوسری لہر کے خوفناک مناظرتک کو بھول گئے، جب موت سر پر ناچتی نظر آرہی تھی اور ہر شخص موت کے سائے میں جی رہا تھا ۔یہ ہے ہندوستان کی اصل تصویر ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس سماج میں معاشی تنگی رہے گی اور تعلیمی بیداری نہیں ہوپائے گی ،وہاں کی صورت حال کچھ ایسی ہی ہوگی ۔کیونکہ بھوکے ننگے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ کو

خُودکشی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے؟ | ایسے کام نہ کروکہ رُسوائی لازم ہوجائے

 یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم ترین تحفہ ہے جس کا شکر ہم جتنی بار ادا کریں کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس دنیائے فانی میں لایا۔ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اب کسی کو کم دولت دی تو کسی کو زیادہ ، کسی کو زیادہ خوبصورتی بخشی تو کسی کو کم لیکن ہر چیزمیں کچھ خامیاں میں رکھیںاوربہت ساری خوبیاں بھی۔ کسی میں ایک خوبی رکھی تو کسی میں دوسری۔ حالانکہ یہ دنیا بالکل فانی ہے اور انسان کی دنیاوی زندگی عارضی ہےتاہم اس زندگی کی حفاظت کرنا اسکو صحیح طریقے سے گزارنا ہمارا فرض ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا وہی ہے، جو اس کےبتائے ہوئے طریقے پر چلے اور اُس کی آزمائشوں پر صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہیں، اس لیے انکو اپنی آزمائشوں سے بھی گزارتا ہے۔ آزمائشوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے

تازہ ترین