تازہ ترین

مردو زن کے مابین صنفی تصادم آرائی

 عالمی سطح پر انسانی معاشرے کو جن مسائل نے آگھیرا ہے، اُن میں مردو زن کے مابین صنفی جنگ بھی ایک حساس مسئلہ ہے جس نے انسانی سماج کو ایک غیر ضروری چپقلش میں مبتلا کررکھا ہے۔اس چپقلش کے مضرت رساں اثرات کو توضیحاً بیان کیا جائے تو مضمون در مضمون والا معاملہ در پیش ہوگا لہٰذا کنایتاً چند ایک نکتوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صنفی اعتبار سے مردو ں کو عورتوں پر تفوق حاصل ہے لیکن اس صنفی فوقیت کا غلط استعمال کرکے طول تاریخ میں صنف نازک پر مردوں نے گوناگوں مظالم ڈھائے ہیں۔ ہر خطہ زمین اور ہرگذشتہ تہذیب کے ساتھ داستانہائے ظلم وابستہ ہیں کہ جن سے کتابوں کی کتابیں بھریں پڑیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آزادیٔ نسواں کی تحریک بڑی شدومد کے ساتھ سرزمین یورپ سے اٹھی۔ تو ایک عورت کیلئے اس کا بنیادی منشور'' پیکار با مرد''ہی قرار پایا۔ اس قسم کی تحریکوں سے حقیقی معن

حسن وجمال دائمی نہ جوانی

 آج کل مرد اور عورت ہمیشہ نوجوان رہنے کی فکر میں ہی لگے رہتے ہیں اوریہ سوچے بغیر دونوں اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں کہ جوانی نے ہمیشہ کس کا ساتھ دیا ہے ؟ جوانی اور خوبصورتی قائم رکھنے کے لئے بے شمار کریمیں استعمال کرنے کے علاوہ دیگر مصنوعات بھی اپنے چہرے پر استعمال کرتے ہیں اور مصنوعی حسن و جوانی کے لئے سیلون و بیوٹی پارلر بھی جاتے ہیں۔ہر دوسرے دن وزن پر نظر رکھنے کے لئے مشین پر چڑھتے ہیں اور جو غذا لیتے ہیں اس پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سمارٹ رہنے کے لئے ورزش بھی کرتے ہیں اور خود کو جوان رکھنے کے لئے کاسمیٹک سر جری بھی کرواتے ہیںاور اب ان سب چیزوں کو ذرا مختلف انداز میں دیکھیں اور ایک نئے تناظر میں ان کا جائزہ لیں تاکہ ہمیں حقیقت سے آگاہی ہو سکے۔ کیا ہمیشہ خوبصورت اور جوان نظر آنا ہی سب سے اہم ہے ؟کیا ہماری زندگی کا صرف یہی مقصد ہے ؟آج پریس میڈیا اور الیکٹ

عورت سے ہی دنیا شیرین ہے

اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بلندمقام عطاکیاہے اورایک بہترین شریک حیات کی شکل میں مردوں کو بیش بہااوربیش قیمت تحفہ پیش کیاہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں سورہ بقرہ،سورہ آل عمران اورسور الانعام جیسی سورتوں کونازل فرمایا،وہیں اللہ تعالیٰ نے سورہ النساء نازل فرماکر عورتوں کی اہمیت وفضیلت کو اجاگرکیا۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کواپنے دست قدرت سے پیدافرماکرجنت میں رہنے کاحکم فرمایاتوباوجودیکہ جنت میں انہیں ہرطرح کی آسائشیں،راحت وآرام اورعیش وعشرت کے تمام سامان مہیاتھے لیکن ان آسائشوں اورراحت وسکون میسرہونے کے باوجودبھی حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی اداس تھی،ان کے دل کوسکون وقرارحاصل نہ تھا،سب کچھ حاصل ہونے کے باوجودانہیں اپنی زندگی میں بڑی کمی کا احساس ہورہاتھا اورتمام آرام وآسائشوں کے باوجودانہیں کسی ایسے ساتھی اورہمدم کی تلاش تھی جوان کے دل کوسکون مہیاکرے،ان کی تنہ