حمل اور زچگی کی طبی پیچیدگیاں

عورتوں میں حمل ٹھہرنے کا پتہ چلنا ایک لاثانی احساس ہے، باہرچلتے پھرتے ہوئے آپ کو یوں لگ رہا ہوتا ہے، جیسے آپ اپنے اندر ایک شاندار راز چھپائے جارہے ہوں۔جدید سماج  میں ایک طرف اگر سماجی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی کاوشوں نے عورتوں اور بچوں کی شرح اموات میں خاطر خواہ کمی لائی ہے تو دوسری طرف بہت سے معاشی اور معاشرتی مسائل نے ان شرح اموات کی شرح میں کمی کے بجائے زیادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔گزشتہ پچیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں زچگی کے دوران اور زچگی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین میں شرح اموات تقریباً نصف رہ گئی ہے۔یہ ایک اچھی خبر ہے اور خواتین کیلئے حیات بخش بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 1990ء اور 2015ء کے درمیان تک کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو عالمی سطح پر زچگی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچ

اللہ کے وجود پر کامل یقین ہی کامرانی

دورِ جدیدکے بڑے فتنوں میں سے ایک فتنہ ’’الحاد ‘‘یعنی خدا کے وجودسے انکار ہے۔آج کے سائنسی دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود سے مکمل طور پر انکار کرتے ہیں اور اپنی دانست میں ہر بات کو عقلی دلایل پر پرکھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس دنیا کو تخلیق کرنے والا کوئی نہیںہے لیکن دیکھا جائے تو یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ہر دور میں ایسے منکر ین پیدا ہوتے رہے ہیں اور اْن کو مات دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے بھی ہر زمانے میں سامنے آتے رہے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ؐنے فرمایا۔’’ہمیشہ ہی لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے ،حتیٰ کہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں چیز کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ایسا ہی کچھ منظر (واقعہ) برسوں پہلے بغداد کے ایک شہر میں پیش آیا تھا ،جہاں ایک شخ

کچن کی دنیا

اجزاء: دودھ تین لیٹر،بادام پستہ1/2 کپ، چھوہار ے ایک کپ(چھوہاروں کو رات بھر بھگو کر آدھا لیٹر دودھ اور ایک چائے کا چمچ چینی میں اتنا پکا لیں کہ اچھی طرح گل جائیں) ، سویاں ایک کپ،چینی1/4کپ،الائچی پائوڈر ایک چائے کا چمچ،کنڈینسڈ ملک ایک ٹِن،زعفران ایک چْٹکی،گھی دو کھانے کے چمچ ترکیب: ایک پین میں گھی ڈال کر گرم کریں اور الائچی پائوڈڑ ڈال دیں۔جب الائچی کی خوشبو آنے لگے تو سویاں ڈال کر ہلکا سا بھو ن لیں اور چولہے سے اْتار لیں۔اب دوسر ے پین میں دودھ ڈال کر پکنے کے لیے رکھیں،جب دیکھیں کہ دودھ آدھا رہ گیا ہے تو فرائی کی ہوئی سویاں ڈال کر ایک منٹ پکائیں،پھر چینی،کنڈینسڈ ملک،آدھا بادام ،پستہ اور زعفران ڈال کر مکس کریں اور اتنا پکائیں کہ آمیزہ تھوڑا سا گاڑھا ہو جائے۔ڈش میں ڈال کر پکے ہوئے چھوہارے بھی ڈال دیں اور اوپر باقی کٹے ہوئے بادام،پستہ کے ساتھ سجا کر کھانے کے لیے پیش کریں۔چاہیں تو ٹھ

کورونا وائرس !

سطح پر پھوٹنے والی کووڈ-19نامی وبا کے باعث صرف ترقی پذیر ہی نہیں، ترقی یافتہ ممالک کو بھی صحت عامہ کے نئے چیلنجز کا سامنا ے۔چوں کہ کوروناوائرس کا فوری علاج یا ویکسین کی فوری طور پردریافت ممکن نہیں تھی ، اِسی لیے دنیا بھر میں اس وبا سے محفوظ رہنے کے لیے لاک ڈائون کی حکمتِ عملی متعارف کروائی گئی، جس کے نتیجے میں جہاں عوام النّاس میں اشیائے خورونوش کی زائد خریداری اور ذخیرہ اندوزی جیسے رجحانات دیکھنے میں آئے،وہیں سماجی فاصلے یاسماجی علیحدگی کے تصور نے عمومی طور پرکئی ذہنی الجھنوں کو بھی جنم دیا۔نیز، کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر کئی ممالک میں،تعلیمی اداروں کو بھی قبل از وقت بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے تعلیمی معمولات متاثر ہوئے۔ اس صورتِ حال میں والدین اپنی ذاتی ذہنی الجھنوں سے نبردآزما ہونے کے ساتھ اپنے بچّوں کے لیے اس وقت کو تعمیری بنانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں

کورونا کے ساتھ ڈپریشن کی وبا

 ہی کوئی اس بات سے اختلاف کرے کہ اس وقت ہم اپنے عہد کے سب سے مشکل دَورسے گزر رہے ہیں۔اس عالمی وبا کے ابتدائی دِنوں میںعالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ،ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسئیس نے کہا تھا،’’یہ محض عوامی صحت کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے، جو ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرے گا۔‘‘ اور اب ہم سب ہی اس پیش گوئی کو سچ ہوتادیکھ رہے ہیں۔ دیگر عالمی وبائوںکی طرح یہ صْورتِ حال بھی شدید ذہنی تنائو اور الجھن کا باعث بن رہی ہے، خصوصاً بچوں،بوڑھوں اور اْن افرادکے لیے،جو پہلے ہی سے کسی مرض میں مبتلا ہیں۔اور اْن افراد کے لیے بھی جو صحتِ عامہ یا مفادِ عامہ کے شعبوں وغیرہ سے متعلق ہیں۔عموماً ایسے کسی بحران سے دوچار ہونے کی صْورت میں مختلف ردِّعمل سامنے آتے ہیں۔ مثلاً حد سے زیادہ ذہنی دبائو یا بے بسی ، خوف زدہ رہنا اورمزاج میں اْداسی یا غصّے کا عْنصر شامل ہوجانا وغ

گھر میں سبزیاں اُگانے کے فوائد

 کے دور میں لوگ اپنی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند نظرآتے ہیں اور اپنی صحت کا خیال پہلے سے زیادہ رکھنے لگے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں آرگینک یا خود سبزیاں اگانے کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اگر آرگینک غذائوں کی بات کی جائے تو اس بات کا یقین نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کے قریبی سپراسٹور پر دستیاب آرگینک غذائیں (جیسا کہ ان سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے) واقعی آرگینک ہیں بھی یا نہیں؟ ایسے میں ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کم از کم اپنے استعمال کے لیے خود سبزیاں اگانے کا سلسلہ شروع کردیں، ان کے بارے میں آپ کو یقین ہوگا کہ انھیںاْگانے کے کسی بھی مرحلے میں آپ نے کیمیائی کھاد یا آلودہ پانی وغیرہ کا استعمال نہیں کیا۔ اپنا ہوم ورک پورا کریں سب سے پہلے یہ معلوم کریں کہ آپ اپنے ماحول اور جغرافیہ کی مناسبت سے کس قسم کی سبزیاں اگانا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے آپ کو اپنی جگہ کو بھی مدنظر رکھن

دیسی ٹوٹکے

سر سے جوئیں ختم کرنے کیلئے : سر سے جوئیں ختم کرنے کے لئے تلسی کے پتے منگوائیں،تھوڑے سے پتے پانی سے دھو کر پیس لیں ،پھر رات میں بالوں کی جڑوں میں لگا کرکپڑا باندھ کر سو جائیں۔دوسرے دن صبح کپڑا ہٹا کر سوکھے ہوئے پتوں کو جھاڑ لیں،اورکنگھی کرلیں۔ تھوڑے سے نیم کے پتے اْبال کر ایک بالٹی پانی بنائیں اور اس سے سر دھوئیں ،تلسی کے پتوں کی تاثیر ہے کہ جوئیں دوبارہ نہیں پڑتیں۔شیمپو بالوں میں لگائیں پھر نل کی دھار کھول کر کنگھی کرتے رہیں،پانی ڈالتے رہیں جب شیمپو بالکل صاف ہو جائے تو ایک چوتھائی چائے کا چمچہ زیتون کا تیل ،دو قطرے لیموں کے ملا کر گیلے بالوں کی جڑوں میں لگا کر گرم پانی میں تولیہ بھگو کر نچوڑ کر بالوں میں لپیٹ دیں ،کچھ دیر بعد تولیہ ہٹا کر بالوں کو خشک کر کے باندھ دیں،ایک دو دفعہ یہ عمل دہرانے سے جوؤں سے زندگی بھر کے لئے نجات مل جائے گی۔ چہرے کے دانوں کیلئے: اگر آپ کے چہر

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!

آہ!ماسٹر حاجی غلام احمد ملک بھی نہ رہے۔  16 جون کی صبح معمول کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ڈسٹرکٹ کپوراہ کے معروف ریٹارئرڈ استاد اور سماجی کارکن محی الدین پوشپوریی کا اسٹیٹس ماسٹر جی کی وفات کے بارے میں پڑھا تو گویا پائوں سے زمین نکل گی۔ خیر موت برحق ہے اور ہر ایک روح نے اس کا مزہ چکھنا ہے۔ حاجی غلام احمد ملک نے ایک پُر بہار اور اچھی70 سال سے زائد عرصے پر محیط زندگی گزاری۔ 1947 کی جنگ کے دوران ان کے والد جاں بحق ہوگئے۔یوں بچپن سے ہی انہیں باپ کے سائے سے  محروم ہونا پڑا۔ ان کی والدہ ایک جہاندیدہ اور باوقار خاتون تھی۔ انہوں اس دور میں اپنے اس اکلوتے بیٹے کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ میٹرک کے بعد غلام احمد ملک صاحب 1970 میں محکمہ تعلیم میں استاد بھرتی ہوئے۔ ماسٹر جی کو اللہ تعالی نے دو بیٹے دئے جنہیں انہوں نے اچھی تعلیم دینے کے لئے  اسلامیہ ماڈل مڈل سکول ترہگ

آزادی ٔ نسواں کے نام پر خواتین کا استحصال

طلوع اسلام سے قبل مختلف ادیان میں عورت کے بارے میں دل دہلانے والے شرمناک اور افسوناک عقائد و افکار تھے۔مکتبِ جاہلیت کے پروردہ انسان نما درندے نے جنسیت کی بناء پر عورت کے مقام کو نیچے گرادیاتھا۔بیٹی کی پیدائش پر باپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا تھا۔سنگ دل باپ شرم و عار محسوس کرکے بے رحمانہ انداز میں اپنی معصوم کلی کو زندہ درگور کرتاتھا۔ جہالت کے گھٹا ٹوپ دور میں جب صدر اسلام کا نور چمکا تو آپ نے عورت کو عزت،وقار، رتبہ اورمقام و منزلت بخشا۔مساوات،برادری اور برابری کا نظریہ پیش کیا۔جنسیت ،حسب و نسب، رنگ اور نسل کو مرد و عورت کے درمیان برتری و بلندی کا میعار قرار نہیں دیا بلکہ واضع الفاظ میں بیان فرمایا کہ’’اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ صاحب تقویٰ ہے‘‘( سورہ الحجرات آیت 13 ) کلام پاک کی رو سے مرد اور عورت از لحاظ جنسیت ایک دوسرے کے مساوی ہیں۔کلی طور

خواتین کسی سے کم نہیں

مواقع کے لغوی معنی ہیں،’’وقت یا حالات کا ایک مجموعہ جس سے کچھ کرنا ممکن ہوجاتا ہے‘‘۔ لہٰذا اگر ہم اس نظریے کی جانچ کرنا چاہیں کہ آیا آج کی خواتین کو یکساں مواقع مل رہے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت مردوں کے مقابلے میں ان کے لئے حالات سازگار ہیں یا نہیں؟ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو خواتین ہمیشہ ہی معاشرے میں پسماندہ رہی ہیں، تاہم اب حالات بدل رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو بااختیار بنانے کی راہ ہموار ہورہی ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک میں بھی دیکھے جارہے ہیں۔ صنفی عدم مساوات، مساوی تنخواہ اور ہراساں کرنے کے معاملات کو حل کرنے کے لئے اب کمپنیاں تیزی سے پختہ پالیسیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں مزید خواتین کو افرادی قوت میں شامل ہونے اور مَردوں کی طرح مساوات کے پیمانے پر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کریں گی۔ خوا

ذہنی دباؤ سے کیسےمقابلہ کیاجائے؟

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسٹریس یا ذہنی دبائو ہماری زندگیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ البتہ اکثر لوگ اسے عارضی نفسیاتی خلل تصور کرتے ہوئے نظرانداز کردیتے ہیں۔ ذہنی دبائو ہماری کوئی بھی کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے علاوہ ہماری خوش و خرم اور صحت مند زندگی گزارنے کی استعداد بھی کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ ذہنی دبائوکا شکار ہوتی ہیں تو آپ ہر قدم پر خود کو نہ صرف بیمار اور بدمزاج محسوس کرتی ہیں بلکہ آپ کو غصہ بھی زیادہ آتا ہے۔ تھکادینے والے روزمرہ معمولات اور حد سے زیادہ ذمہ داریاںاس صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیتی ہیں۔ ایسے میں یہ انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ زندگی گزارنے کے لیے ایسا راستہ اپنائیں، جس پر چلتے ہوئے آپ اپنے اسٹریس یا ذہنی دبائومیں کمی لاسکیں۔ آج ہم آپ کے ساتھ کچھ مفید مشورے شیئر کررہے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنی مصروف زندگی میں خود کو ذہن

پروین راجہ

دنیا  کے ہر حصے اور ہر ملک میںخواتین نے تہذیب وتمدن،معاشرت ،علم وفلسفہ،سیاست و حکومت اور زبان و ادب غرض کہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس ملک یا خطے کے اپنے مخصوص حالات کے تحت ان کا حصہ مردوں کے  مقابلے میں کم رہا ہو۔جہاں تک جموں وکشمیر کی بات ہے تویہاں بھی کئی شاعرات نے اپنی فکر کی روشنی سے ادب کی دنیا کو منور کیا ہے۔ان میں ایک اہم نام محترمہ پروین راجہؔ کا ہے ۔جموں و کشمیرکے معاصر ادبی منظر نامے پر پروین راجہ ؔایک معتبرشاعرہ ہیں۔1956 میں سرینگر کے مشہور علاقے بٹہ مالو باراں پتھرمیں تولد ہوئی ۔ آپ کے والد کا نام عبدالاحدراجہ ہے۔آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول  بٹہ مالو سے حاصل کی اور میٹر ک کا امتحان پاس کر نے کے بعدگورنمنٹ زنانہ کالج ایم۔اے روڑ سے انٹر اور بی ۔اے کے امتحانات پاس کرکے سرکاری ملازمت محکمہ فائنائس

کورونا وائرس اور شادیوں کا سیزن

  اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تومعلوم ہو گا کہ ہم نے اِس چند سالہ زندگی میں کتنی مرتبہ چھوٹی چھوٹی اور بڑی بڑی خواہشات کی تکمیل کیلئے کتنے بڑے بڑے اصولوں کی قربانیاں دی ہیں اور کئی بڑی بڑی قربانیاں تو یقینا ایسی بھی نظر آئیں گی جو ایسی خواہشات کے لئے تھیں جو کہ محض چند لمحوں کی تسکین کیلئے تھیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے شادیوں کے بڑے بڑے اجتماعات پر پابندی لگائی گئی ہے، شادیوں سے تو نہیں روکا گیا ہے۔اِن حالات میں آپ کے گھر کے چندافراد بارات لے کر جاتے اور دلہن لے کر آجاتے اور اِسی طرح آپ کی بیٹی کے سسرال والے بھی چند افراد پر مشتمل بارات لے کر آتے اور اپنی دلہن لے جاتے۔اِس طرح کرنے سے فرض بھی ادا ہوجاتا اور اچھی خاصی رقم کی بچت بھی ہوجاتی اور بچی ہوئی رقم سے بہت سے نہ صرف اپانا بلکہ دیگر لوگوں کا بھلا کیا جاسکتا تھا۔ بہت سے لوگوں  نیاسی طرح سادگی سے شادی کی رسم

حجاب آپ کی تہذیب و تربیت کا عکاس

’’حجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بُرقع ‘میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بُرقع ‘سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔ سحر کہتی ہیں ’’ حِجاب اور عبایا کو عورت کا فطری حُسن بھی کہہ سکتے ہیں۔ خواتین کی اِنہی دلچسپیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں حِجاب اور عبایا کے نِت نئے ڈیزائنز متعارف کرائے جارہے ہیں، جو اِن کی توجہ کا محور بنے ہوئے ہیں۔ حِجاب ک

کیک بنانے کا آسان طریقہ

اجزاء : مارجرین یا مکھن 250 گرام (سو گرام والی اڑھائی ٹکیہ)، لیموں کے چھلکے برادہ دو چائے والے چمچ،ا?دھی چمچ میٹھا سوڈا،دودھ ایک کپ،دو کھانے والے چمچ لیمن جوس،بیکنگ پائوڈر دو چائے کے چمچ، پستہ،بادا م اور اخروٹ ہر ایک 1/4 کپ، باریک چینی 2-1/2 کپ، انڈے چھ عدد،میدہ تین کپ، (ٹوپنگ کے لیے اجزاء  )چاولوں کی طرح کٹے بادام،اخروٹ،پستہ اور چینی ہر ایک1/4کپ۔ ترکیب: حسب ِ معمول چینی،مکھن پھینٹ کر انڈے ایک ایک کر کے ملائیں اور پھر میدہ چھان کر آدھا ملائیں۔آدھا دودھ،آدھا میدہ اور پھر دودھ ،لیموں کی چھال اور جوس کے ساتھ آخر میں سارے میوے بھی ملا دیں اور بارہ کے ایک گول سانچے میں چکنائی اور کاغذ لگا کر کیک کا آمیزہ ڈال دیں۔ پہلے سے گرم شدہ اوون میں آدھا گھنٹہ بیک کرنے کے بعد سانچے کو اوون سے نکال کر اس پر ٹوپنگ مکس کر کے بکھیر دیں اور سانچے کو دوبارہ اوون میں رکھ دیں۔(میوہ جات کو قدرے د

مردو زن کے مابین صنفی تصادم آرائی

 عالمی سطح پر انسانی معاشرے کو جن مسائل نے آگھیرا ہے، اُن میں مردو زن کے مابین صنفی جنگ بھی ایک حساس مسئلہ ہے جس نے انسانی سماج کو ایک غیر ضروری چپقلش میں مبتلا کررکھا ہے۔اس چپقلش کے مضرت رساں اثرات کو توضیحاً بیان کیا جائے تو مضمون در مضمون والا معاملہ در پیش ہوگا لہٰذا کنایتاً چند ایک نکتوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صنفی اعتبار سے مردو ں کو عورتوں پر تفوق حاصل ہے لیکن اس صنفی فوقیت کا غلط استعمال کرکے طول تاریخ میں صنف نازک پر مردوں نے گوناگوں مظالم ڈھائے ہیں۔ ہر خطہ زمین اور ہرگذشتہ تہذیب کے ساتھ داستانہائے ظلم وابستہ ہیں کہ جن سے کتابوں کی کتابیں بھریں پڑیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آزادیٔ نسواں کی تحریک بڑی شدومد کے ساتھ سرزمین یورپ سے اٹھی۔ تو ایک عورت کیلئے اس کا بنیادی منشور'' پیکار با مرد''ہی قرار پایا۔ اس قسم کی تحریکوں سے حقیقی معن

حسن وجمال دائمی نہ جوانی

 آج کل مرد اور عورت ہمیشہ نوجوان رہنے کی فکر میں ہی لگے رہتے ہیں اوریہ سوچے بغیر دونوں اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں کہ جوانی نے ہمیشہ کس کا ساتھ دیا ہے ؟ جوانی اور خوبصورتی قائم رکھنے کے لئے بے شمار کریمیں استعمال کرنے کے علاوہ دیگر مصنوعات بھی اپنے چہرے پر استعمال کرتے ہیں اور مصنوعی حسن و جوانی کے لئے سیلون و بیوٹی پارلر بھی جاتے ہیں۔ہر دوسرے دن وزن پر نظر رکھنے کے لئے مشین پر چڑھتے ہیں اور جو غذا لیتے ہیں اس پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سمارٹ رہنے کے لئے ورزش بھی کرتے ہیں اور خود کو جوان رکھنے کے لئے کاسمیٹک سر جری بھی کرواتے ہیںاور اب ان سب چیزوں کو ذرا مختلف انداز میں دیکھیں اور ایک نئے تناظر میں ان کا جائزہ لیں تاکہ ہمیں حقیقت سے آگاہی ہو سکے۔ کیا ہمیشہ خوبصورت اور جوان نظر آنا ہی سب سے اہم ہے ؟کیا ہماری زندگی کا صرف یہی مقصد ہے ؟آج پریس میڈیا اور الیکٹ

عورت سے ہی دنیا شیرین ہے

اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بلندمقام عطاکیاہے اورایک بہترین شریک حیات کی شکل میں مردوں کو بیش بہااوربیش قیمت تحفہ پیش کیاہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں سورہ بقرہ،سورہ آل عمران اورسور الانعام جیسی سورتوں کونازل فرمایا،وہیں اللہ تعالیٰ نے سورہ النساء نازل فرماکر عورتوں کی اہمیت وفضیلت کو اجاگرکیا۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کواپنے دست قدرت سے پیدافرماکرجنت میں رہنے کاحکم فرمایاتوباوجودیکہ جنت میں انہیں ہرطرح کی آسائشیں،راحت وآرام اورعیش وعشرت کے تمام سامان مہیاتھے لیکن ان آسائشوں اورراحت وسکون میسرہونے کے باوجودبھی حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی اداس تھی،ان کے دل کوسکون وقرارحاصل نہ تھا،سب کچھ حاصل ہونے کے باوجودانہیں اپنی زندگی میں بڑی کمی کا احساس ہورہاتھا اورتمام آرام وآسائشوں کے باوجودانہیں کسی ایسے ساتھی اورہمدم کی تلاش تھی جوان کے دل کوسکون مہیاکرے،ان کی تنہ

ماں تجھے سلام

 اس ملک کی ایسی دو مائیں ہیں جو دو لخت جگروں سے محروم ہوئیں۔پالا تھا دونوںنے نازوں سے ،اپنے جگر پاروں کو۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آیا موت کا فرشتہ ۔خوابوں کے چمن اجاڑ گیا،دنیا ان کی ویران کرگیا۔یہ دونوں مائیں اسی ملک میں رہتی ہیں۔ ہر پل وہ ظلم جو سہتی ہیں۔ نہ کھاتی ہیں نہ پیتی ہیں لیکن وہ دونوں روتی ہیں۔ پُر نم آ نکھیں ہیں دو نوں کی۔ اور دونوں ہی محروم ہوئیں۔ اک نعمت سے اک رحمت سے ۔جو لختِ جگر اور نورِ نظر، ان دونوں نے اب تک پالے تھے۔ وہ لختِ جگر اور نورِ نظراب دنیا سے ہمیشہ بھاگ گئے۔  جب بھاگ گئے وہ سب بچے، ماوں نے بُلا یا بچوں کو۔ تب بولا زور سے ان کلیوں نے۔ اُس دنیا سے بہتر یہ دنیا، جہاں ظلم نہیں جہاں جبر نہیں، جہاں خوف نہیں بارودوں کا، جہاں ڈر نہیں ہے غُربت کا۔ جہاں ہر سو قائم امن و امان، جہاں بھوک نہیں جہاں پیاس نہیں، جہاں شور نہیں بندوقوں کا، غربت کی

اچھے معاشرے کی بنیاد اچھی مائیں

 عورت نرمی، شفقت ،وفا ، ممتا کی جذبات سے گندھی ربِ کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے اور اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے عورت کو خاص مقام ومرتبہ عطاکیا ہے۔ کبھی اس کی قدموں تلے جنت رکھ کر اس کی عظمت کو چارچاند لگائی تو کبھی نازک ا?بگینہ کا لقب دے کر اس کی لطافت کوسراہا گیا اوراس کے ساتھ نرمی کی برتائو کی تلقین کی گئی۔ لیکن عورت کو اس کی اصل مقام ومرتبہ پر فائز رکھنے کے لئے مردکو قوّام کی صورت میںاس پر ایک درجہ زیادہ عطا کیا گیا جو اس کی محافظت اورمعیثت کاذمہ دار ہے۔ مر دکو اپنی اس ذمہ داری کا احساس دِلانابھی ایک عورت ہی کی ذمہ داری ہے کیونکہ مرد عورت ہی کی زیر تربیت ہوتا ہے۔ یوں ایک عورت معاشرے کوبگاڑ نے یاسنوارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ بچے کی پہلی درس گاہ اس کے ماں کی گود ہے، بچہ جو کچھ وہاں سے سیکھتا ہے وہی اسکی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے اور معاشرہ اس کاعکس پیش کرتا ہے لہٰذا معاشر

تازہ ترین