تازہ ترین

تانیثیت اور حقوق نسواں

 زمانہ جدید میں تانیثیت (Feminism) کے علمبرداروں نے خاتون کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ قرنوں سے مرد کے پنجہ استبداد میں جکڑی ہوئی ہے۔ بات خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی عزت کی بحالی کی خاطر کی جاتی تو معاملہ بڑا ہی حوصلہ افزا ہوتا کیوں کہ معاشرے کے نصف حصے کو کسی بھی صورت میں دیوار سے لگائے رکھنا کوئی خوش کن بات نہیں ہے۔ لیکن سارے معاملے کو ایک باضابطہ نظریے اور فلسفے کی شکل دی گئی اور ایک ایسا نعرہ بلند کیا گیا کہ مرد، جو مدت دراز سے خاتون پر اپنا تحکم اور اقتدار جمائے بیٹھا ہے، کو اپنی حیثیت سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ ساتھ ساتھ خاتون کو یہ ترغیب دی گئی کہ مرد سے دو دو ہاتھ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مسئلے کو جوں ہی ایک فلسفے کا رنگ دیا گیا تو جس طرح اشتراکیت نے انسانیت کو دو برسر پیکار گروہوں (بورڑوا، Bourgeois اور پرولتاریہ، Proletariat) میں بٹا ہوا ہونے کا اعلا

ہر بہو، بہن،ماں،بیٹی عزت کی طلبگار

اللہ تعالی نے اس کائنات کی بقا اور اس کے تحفظ کے لئے مرد و عورت کے نام سے دو جنسوں کے ذریعہ اس کائنات کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ہر صنف میں دوسری صنف کی طلب اور جذبات ایک دوسرے میں پنہاں رکھے تاکہ عورت مرد کی رفیق حیات بن کر زندگی کے نشیب وفراز میں ہر قدم پر اس کا ساتھ دے سکے اور اس کی مونس وغم خوار بن کر زندگی کی گاڑی کھینچ سکے۔ امر واقع یہ ہے کہ ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر نا مکمل اور ادھوری بن کر رہ جاتی ہے ۔ مرد کامل مرد رہتے ہوئے عورت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ،اسی طرح عورت عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطمئن زندگی نہیں گزار سکتی، لہٰذا اس کار خانہ حیات کے تسلسل اور انسان کی تمدنی سرگرمیوں کی بقا کے لئے مرد اور عورت دونوں کا وجود نہایت ضروری ہے۔ازل سے ہی اس کائنات میں مرد و عورت دونوں کی برابر کی شرکت حاصل ہے۔ دنیاوی زندگی کے آغاز کے وقت بھی حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا ؑبرابر

عورت

عورت ہو، مرد نہیں ! اپنی اوقات میں رہا کرو ۔ آئے دن اپنے شوہر، شمیم کے طعنے سنتے سنتے اب حنا کا صبر جواب دینے لگا تھا۔ شادی سے پہلے ہی وہ دہلی کے جمنا پار علاقہ میں ایک سرکاری سکول میں اردو ٹیچر ہو گئی تھی۔لیکن شمیم کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں تھی۔وہ ایک چھوٹے سے اردو اخبار میں سب ایڈیٹر تھا۔تنخواہ بہت کم تھی لیکن حنا کی بھی عمر ہو رہی تھی ۔اس نے سوچا کہ چلو ہم دونوں مل کر گھر چلا لیں گے۔لیکن شمیم نے کبھی اس کے اس جذ بہ کی عزت نہ کی۔ وہ ہمیشہ اس احساس کے ساتھ جیتا کہ وہ مرد ہے ۔وہ شوہر ہے ۔اس نے اپنے بڑوں کو ہمیشہ اپنی بیوی کو کم تر سمجھتے دیکھاتھا۔ وہ دلی آکر بھی اپنی ذہنیت نہ بدل سکا۔افسوس کی بات یہ تھی کہ باہر وہ خواتین کو اپنی لچھے دار باتوں سے الجھائے رکھتا لیکن گھر میں وہ اپنے اجداد کی طرح ہی شوہر نظر آتا۔ وہ بیوی کو صرف اپنی عورت سمجھتا۔   جب بھی وہ کہت

دلنشین نعرے میں شہزادی سے اسیرزادی ہوگئی

مارچ 8 عالمی یومِ حقوقِ نسواں کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں تحریکِ آزادی نسواں بڑی زور پکڑتی جارہی ہے ،لیکن خواتین کی آزادی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ در حقیقت عورت کے احترام کی نفی اور اس کی روح و جسم کا استحصال ہورہا ہے۔ جس پر آزادی نسواں کا رنگین ، خوشنما پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ عورت کو ' میرا جسم میری مرضی ' کے دلنشین نعروں سے دھوکا دے کر ورگلایا جارہا ہے۔ عورت کو سرعام بازاروں میں " عورت مارچ " کے بینر تلے جدید دور کے انسان کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہو رہی ہے بلکہ اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے فخریہ انداز میں اس کی عکس بندی کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ حقوقِ نسواں سے مراد وہ حقوق ہیں جو عورتوں کو بھی مردوں کی طرح سماجی و قانونی مقام دے سکے ۔ آج مغربی نظریہ فکر رکھنے والے لوگ یہ وکالت کرتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو پردے میں رکھ کر چہار دیوا

! کہاں سنتا ہے وہ کہانی میری

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی اکیسویں سال میں ہم داخل ہوچکے ہیں۔اتفاق سے یہ مارچ کا مہینہ ہے۔آج 8مارچ کو عالمی پیمانے پر "یوم خواتین "منانے کی تیاریاں زور و شور سے  ہورہی ہیںجو عموما" 1 مارچ سے شروع ہوجاتی ہیں۔سیاسی ، ثقافتی، معاشرتی، ادبی غرض کے ہر سطح پر جوش و خروش سے یوم نسواں منایا جاتا ہے۔ یوں تو 8مارچ عورتوں کی جد وجہد آزادی نسواں کے طور پر علامتی شکل میں منایا جاتا ہے لیکن آزادی تو کیا برابری کا بھی حق ملا کیاخواتین کو؟یہ غور و فکر کا مقام ہے ۔اگر یہ حق ملا ہوتا تو1 مارچ کو میڈیاسوشل سائٹ پر عائشہ نامی خاتون کی ویڈیو وائرل نہیں ہورہی ہوتی !2مارچ کی خبر کہ افغانستان کے شہر جلال آباد میں تین خاتون صحافیوںشہنازرؤفی ، سعدیہ سادات، مرسل کونامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک  نہ کردیاہوتا۔ اسی رات ایک ٹی وی چینل پر ایک لڑکی چھیڑ ے جانے کی مخالفت میں اپ

عائشہ کی موت… خود کشی یا قتل؟

کیا دنیا میں انسانیت بالکل ختم ہو چکی ہے؟کیا اخلاقی قدروں کا جنازہ بھی پوری طرح نکل چکا ہے؟ کیا رشتو ں میں محبت کے بجائے دولت نے اہمیت حا صل کی ہے؟کیا آج کے اس نام نہاد تر قی یافتہ دور میں بھی بیٹیاں اپنے والدین پر بوجھ ہیں؟ایسے بے شمار ’’کیا ‘‘ہیں جو میرے ذہن میں گذشتہ تین دنوں سے گردش کر رہے ہیں ۔احمد آباد گجرات کی وہ معصوم دوشیزہ جس نے ابھی فقط زندگی۲۳ تیس بہاریں دیکھی تھیں اپنی جان کا خاتمہ کربیٹھی۔عائشہ کی خود کشی کی خبر نے دنیا کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص متزلزل کر دیا۔ہر ذی حس  فرد کی روح کانپ اٹھی ہے۔ عورت خلوص محبت اور وفاداری کا پیکر ہے۔عا ئشہ نے یہ منحوس قدم اٹھانے سے قبل بھی اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے ۔مراد یہ کی خودکشی کرنے سے پہلے اس بچی نے اپنی ویڈیو بنا ئی جو اس کے بے غیرت شوہر نے اس کو کہا تھا ۔ویڈیو کے علاوہ اپنے والدین سے ا

تازہ ترین