تازہ ترین

بیٹیوں کی صحت نظر انداز کیوں؟

آنسوں بھری آنکھوں سے اپنا درد بیان کرتے ہوئے ضلع پونچھ ساکنہ اڑائی سے تعلق رکھنے والے محمد اکرم کہتے ہیں کہ'' 17 فروری کے دن اپنے چھوٹے بھائی کی حاملہ بیوی نسیم اختر کو منڈی ہسپتال لے کر گئے، وہاں سے ڈاکٹروں نے ایمبولینس دے کر ہمیں پونچھ ہسپتال کے لئے روانہ کر دیا،ہسپتال پہنچنے کے بعد اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نسیم کی جانچ کی اور بنا دوائی دئے اپنے گھر چلی گئی۔ نسیم کو جب لیبر پین ہونے لگی تو ہم نے نرس کو بلایا اس نے انجکشن اور ایک گلو کوز کی بوتل لگادی۔ اس کے بعد کسی نے مڑ کے بھی نہیں دیکھا ۔دوسرا دن بھی گزر گیا، ہم نے پھر نرس سے بات کی۔ اس نے ہم سے بچے کے لئے کپڑے منگوائے اور کہا کہ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ کافی حالت خراب ہونے کے بعد نسیم کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا۔ لیکن آپریشن کے دوران ماں بچہ دونوں کی موت ہوگئی۔ محمد اکرم کے مطابق پونچھ ہسپتال کے ڈاکٹروں

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی کینواس

بقول ڈاکٹر ترنم ریاض:’’اردو زبان و ادب میں ادیبائوں کے کارنامے ایک پوری صدی پر محیط ہیں۔اردو ادب کے ان سارے منظر نامے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر یہ بھی انداز ہوتا ہے کہ ادیبائوں نے اس منظر نامے کو اور بھی دلکش اور جاندار بنانے میں خاصا رول ادا کیا ہے۔گزشتہ صدی میں خاتون ناول و افسانہ گار ،شاعرات ،انشائیہ نگار،مزاح نگار ،حتی کہ خاتون تنقید نگاروں نے اردو ادب کی بقا میں ایک اہم کر دار کیا ہے۔’’(اردو کی ادیبائیں،منظر پس منظر۔ص۔32 ) اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تخلیقی دنیا میں سر گرم نظر آتی ہیں جن میں ایک محترم نام ڈاکٹر عقیلہ کا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ڈاکٹر عقیلہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میںشعبہ عربی میں  بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز جموں و کشمیر میں ہی کیا ج

عائشہ کا گنہگار کون ؟

احمد آباد کی ایک بیٹی عائشہ کا ایک ویڈیوچندروز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ۔اس ویڈیو کو رکارڈ کرنے کے بعد اسکی والدین سے بات ہوئی انکی منتوں کے باوجود اس نے سابر متی ندی میں کو د کر خود کشی کر لی ۔ ویڈیو دیکھ کر سنگدل سے سنگدل شخص بھی اپنی آنکھوں میں آنسو آنے سے روک نہیں سکتا۔  عائشہ کی ویڈیو سے اسکی پل پل بدلتی ذہنی کیفیات اور اسکے کرب کا اندازہ ہوتا ہے۔چہرہ کبھی مسکراتا ہوا لگتا ہے اور کبھی غم میں ڈوبا ہوا لگتا ہے۔ الفاظ ہیںجو ا ن مظالم کے گواہ ہیں جو ہمارے مکر کی وجہ سے صدیوں سے جاری ہیں اور صدیوں تک جاری رہیں گے۔’’  ہیلو اسلام علیکم میرا نام عائشہ عارف خان ہے میں جو کچھ بھی کرنے جارہی ہوںاپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہوںاس میں کسی کا دبائو نہیں ہے اب بس کیا کہیں سمجھ لیجئے اس میں خدا کی دی زندگی اتنی ہی تھی اور مجھے اتنی زندگی بہت سکون والی ملی اور ڈیر ڈیڈ ،

تازہ ترین