تازہ ترین

ایک ہاتھ میں ڈگری، دوسرے میں ہنر

بلاشبہ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی آداب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہےجس نے ارسطو کو فلسفے کا بادشاہ بنادیا،جس نے سائنس کو ’نیوٹن‘ جیسا شخص دیا۔ وہی تعلیم ابولکلام آزاد، علامہ اقبال اور کئی بڑے قائدین کے عروج وکمال کا سبب رہی،تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صرف وہی اقوام دنیا میں اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں، جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ۔موجودہ دور میں تعلیم اور ہنر کو کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی میں جو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہی میں نہیں ہمارے ملک میں بھی ماضی میں اس کی نہایت واضح اور روشن مثال ہیں۔جہاں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی صلاحیتوں اور رجحانات کو بھانپ کر بچوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور وہ اپنے رجحانات کے مطابق پیشہ اختیار کرتے

میرا فخر، میرا غرور اور میر ا محافظ ہے حجاب

حجاب میرا وقار اور میرا افتخار ہے، حجاب میرے رب کی پسند ہے، حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور ہمارا حق بھی، یہ ایک تکریم ہے جو ہمارے رب نے ہمیں دی ہے ،یہ حجاب ہمارا وقار اور ہماری پہچان بھی ہے جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ہر سال ’’4ستمبر‘‘ کو ساری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ یعنی 4ستمبر کو مصر سے تعلق رکھنے والی مروہ علی الشربینی کی دلسوز داستان رقم ہے۔ مروہ علی الشربینی کا جرم صرف اور صرف حجاب تھا، اس نے نہ صرف اپنی مذہبی آزادی بلکہ پوری مسلم اُمہ کی خواتین کے حقوق کے لیے جام شہادت نوش کیا۔ شہیدہ حجاب الشربینی مغرب کی انتہا پسندانہ رجحانات اور مسلمانوں کی مظلومیت کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ پردہ عورت کی عزت وقار کا محافظ ہے، اس کے لیے رحمت اور تحفظ کی ضمانت ہے، پردہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا نظام معاشرت ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے

اَساتذہ کرام کی شخصیت ۔ حقیقت کے آئینے میں

استاد کی شخصیت ایک عظیم ، پاکیزہ اور معتبرکہلاتی ہے۔یہ وہ شخصیت ہے جس کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے جس سے ایک صحت مند معاشرے اور صحت مند سوسائٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔ لیکن اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو بھی سچی لگن اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی انسانیت کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتی ہے۔ مشہور مفکر کا قول ہے : "There is no alternative of hard labour, and there is no shortcut way to achieve success." اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 5 ؍ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس خاص دن کا تعین کرنا ضروری نہیں، بلکہ ایک طالب علم اپنی کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہی بات ہوتی ہے کہ یہ کامیابی اساتذہ کرام کی ہی دین ہے۔ ایک طالب علم کی کامیابی کا سہرا اس کے والدین اور اساتذہ کرام کے سر جاتا ہ

تندرستی کے راز صبح کی سیر میں

صبح کی سیر صحت کے لئے بہت ضروری اور فائیدہ مند ہے۔یہ ایک اچھی عادت بھی ہے اور ایک جسمانی ورزش بھی۔جب آپ صبح اُٹھتے ہیں تو چہل قدمی کرنے کے لئے نکلتے ہیں تو فطرت کے خوبصورت ماحول کے علاوہ ٹھنڈی اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے تازگی آپ کے دماغ میں بس جاتی ہے اور آپ کو پورا دن متحرک رکھتی ہے۔ ساتھ ہی  ہماری جسمانی صحت پر شاندار اثرات مرتب کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق صبح کی سیر یاچہل قدمی کے بے شمار فوائید ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ حاصل ہوتے ہیں۔خاص کر ان لوگوں کے لئے جو اپنے دن کازیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ایک گھنٹہ پیدل چلنے سے انسان کی عمر  ۲ گھنٹے بڑھتی ہے۔اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ چہل قدمی کرنے سے نزلہ زکام کا اثرکم ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ خون میں موجود الرجی کم ہوتی ہے۔صبح کی تازہ ہوا آپ کے پھیپڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔جب آپ ت

ڈھلتی عمر میں بھی جوانی کیسے؟

کہتے ہیں خوبصورتی کسی تعریف کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ بات درست ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ اِدھر عمر ڈھلی، پچاس کے لپیٹے میں آئیں ،اُدھر خوبصورتی رخصت ہوئی اور جوانی بھی، لیکن پریشان نہ ہوں ۔ ہم آپ کو پچا س سال کی عمر میں بیس سال کا نظرآنے کےلیے ایک آزمودہ نسخہ بتارہے ہیں ۔آزما کر دیکھیں، اس کے استعمال سے لٹکتی جلد ٹائیٹ اور جھریاں ختم ہوجائیں گی۔اب آپ کو اس کےبنانے کا طریقہ بتاتے ہیں۔  اشیاء: ایلو ویرا کا گودا ،آدھی پیالی ،انڈے کی سفیدی چائے کا ایک چمچہ، ہلدی ایک چٹکی ،ناریل کا تیل، چند قطرے ،سفید تل آدھی پیالی ۔ طریقہ استعمال: ایلوویرا کی جو شاخیں ہیں ۔ان کو چھیل کر اس کا گودا نکال لیں۔ یاد رکھیں ،ایلوویرا کا خالص گودا لینا ہے۔ کسی کمپنی کا جیَل نہ لیں۔ آدھے پیالی کے قریب فریش ایلوویرا جَل لینا ہے، پھر ا س کو بلینڈر میں ڈال دیں، پھر اس میں آدھی پیالی سفید تل ڈال دیں

توہم پرستی کے جال میں پھنساہوا سماج

اکثر اخبار وں اور جریدوں میں کچھ اشتہار آنکھوں سے گزرتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا تا ہے کہ اگر کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے ،گھریلو پریشانی بڑھ رہی ہے، میاں بیوی کے آپسی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ،ساس بہو میں آپسی رنجش بڑھ رہی ہے ،بچے پڑھنے میں دل نہیں لگا رہے ہیں ،گھر سے برکت ختم ہو رہی ہے تو فلا ںبابا ہیں، جو اس کا شرطیہ علاج کرتے ہیں ،انکا یہ دعویٰ رہتا ہے کہ ان سب پریشانیوں کا روحانی علاج کرتے ہیں۔ کہیں کہیں تو یہ بھی دعوی ہوتا ہے کہ کام پورا نہیں ہونے پر پورا کا پورا پیسہ واپس کر دیا جائے گا اور پھر معا ملہ یہ ہوتا ہے کہ جاہل اور کم شعور والے لوگ تو ان بابا ؤں کے چکّر میں اکثر پڑ جاتے ہیں۔ مگر تعجب اور حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب پڑھا لکھا کہلا نے والا گھرانہ بھی ان بابا ؤں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مہا جال ہے، جس کو باضابطہ طریقے سے پورے مینجمنٹ کے ساتھ

بیٹیاںکیسے بہکیں اور اِرتداد کا دُھواں اُٹھا؟

آج کل سوشل میڈیا پر اور اخباروں کے صفحات پر کچھ ایسی خبریں نظروں کے سامنے سے گذرتی ہیں کہ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، جسم لرزہ براندام ہوجاتاہے، دل و دماغ پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ ایک باپ کی پگڑی کیسے اُچھل گئی، گھر کیسے ماتم کدہ بن گیا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اچانک ناگہانی حادثات ہوتے ہیں، گھر کا کوئی فرد موت کی آغوش میں سما جاتاہے، تب گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہوجاتا ہے مگر آجکل تو جیتے جی ایسےمناظر پیش آنے لگے۔ ماں باپ کتنے ناز و نعم سے اولاد کی پرورش کرتے ہیں ،بیٹے اور بیٹیوں کو آنکھوں کا تارا کہتے ہیں۔ ایک باپ فقیر ہوکر بھی بیٹے کے لئے بادشاہت کا خواب دیکھتا ہے، بیٹی ہے تو اس کے لئے اچھا رشتہ تلاش کرتا ہے اور جب بیٹی کی وداعی ہوتی ہے تو باپ کہتاہے: اے میری دختر جان! شرافت سے دُکھ سہنے کی ہمت کرنا، اپنے بڑوں کی عزت کرنا، ساس کی بیٹی بن کر رہنا، اُن کی سننا اپنی کہنا۔&r

’’عصرِ حاضر اور اُردوادبِ اطفال‘‘

جنوبی ہند کے معروف شاعر، ادیب، صحافی، قلمکار جناب خلیل صدیقی صاحب کی مرتب کردہ کتاب’’عصرِ حاضر اور اردو ادب اطفال‘‘ بذریعہ پوسٹ ہم تک پہونچی۔ یہ کتاب دراصل اردو ادب اطفال کے تعلق سے ہے، جس میں وطن ہندوستان کے جموں کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک اور پنجاب سے لیکر بنگال کے ماہرین تعلیم کے شاہکار تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ یہ مقالےسیمینار میں پیش کئے گئے تھے جو اوصاف ایجوکیشن ٹرسٹ(Ausaaf Education) اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان National Council for Promotion of Urdu Laguageکے اشتراک سے منعقدہ کیا گیا تھا۔اس نادر اور بیش بہا مقالوں کو یکجا کرکے اور ترتیب دے کر ڈاکٹر خلیل صدیقی نے کتابی شکل دی ہے۔ یہ کتاب304 صفحات پر مشتمل ہے۔ سرورق نہایت دیدہ زیب اور حسین ہے بلاشبہ ادب اطفال کے تئیں انکی گرانقدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ جو اردو ادب اطفال میں انمول اضافہ ہے اور تما

اردو افسانے کا عصری منظرنامہ خواتین کے حوالے سے

اردو ادب کا منظرنامہ خواتین سے خالی نہیں ہے۔ خواتین کا جم غفیر موجود ہے جو افسانوی صنف کو اپنی قلمی معاونت دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اردو افسانہ ترقی کے مدارج طے کررہا ہے۔ ابتداسے جس طرح افسانوی ادب کو خواتین کی خدمات حاصل رہی ہے اسی طرح ۲۱ویں صدی میں بھی یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ افسانوی ادب کے منظرنامے پر پروین شیرکانام تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ انہوںنے ہجرت کے مسائل پر افسانہ نیلا لفافہ لکھاہے۔ یہاں ایک نوجوان کی ہجرت کاذکر ہے جو تلاش معاش کے لئے ایک وطن سے دوسرے وطن جاتاہے، لیکن اس کی ہجرت کامنفی اثر اس کے والدین پر کس طرح پڑتاہے اسے مصنفہ نے اس طرح افسانے میں پیش کیاہے ملاحظہ کیجئے : ’’کوشش کے باوجود نیند کاپتہ نہیں ہے۔ رہ رہ کر ایک عجیب سی خامشی ستارہی ہے۔ اس دکھی باپ کی غمزدہ آنکھیں یاد آرہی ہیں، جن سے ٹپکے ہوئے آنسومیرے دل پر پتھر بن کر گررہے ہیں۔ جس کے مع

منشیات کے جھولے میں صنفِ نازک کی جھول

منشیات کے جھولے میں صنف ِ نازک کا جھولنا کتنا دردناک ،کیسا صدمہ جانکاہ اور کتنی بُری خبر صفحہ ٔ قرطاس پر بکھیر گئی ہے ،ہر کوئی باشعور اور ذی حِس بندہ اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کردیتا ہے کہ آئے دن اس جنت بے نظیر میں کیسے کیسے گُل کھلائے جارہے ہیں ۔کیا یہ بُرائیاں ہمارے سماج میں خود بخود پنپ جاتی ہیں یا ہم دانستہ طور ان بُرائیوں کو صرف ِ نظر کرکے ترقی پسند شہریوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔کار بَد خود کریں اور لعنت کرے شیطان پر کے مصداق۔۔۔۔کہیں ہیروئن سمگلنگ ،کہیں اُمّ الخبائث ،کہیں چرس وگانجا ،کہیں افیم وشراب ،کہیں طبلے کی تھاپ ،کہیں پایل کی جھنکار اور اس پر طرہ دوا کے بدلے ڈرگِس ،کھُلے چھُپے گرم بازار اور ہمارے معصوم بچیوں کی دلفریب مستانہ ادائوں نے ،ہماری کلچرل ترقی کو ٹرانزٹ پوائنٹ بنادیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بچے پندرہ سال سے تیس سال کی عمر تک اس خباثت کی طرف مائل ہوگئے ہیں اور دن

معاصر اُردو افسانہ۔تفہیم و تجزیہ

نام کتاب:معاصر اردو افسانہ(تفہیم و تجزیہ)       مصنف :ڈاکٹر ریاض توحیدی  صفحات :۲۶۴ ناشر:روشناس پرنٹرس ،دہلی قیمت:۳۰۰ روپے اردو ادب کے آسمان پر کئی قدآور شخصیات نے وقتاََفوقتاََپروازیں کیں‘اور اپنی اُڑان سے ہر ایک کو تحیر میں ڈال دیا ۔ان ہی اشخاص میں ڈاکٹر ریاض توحیدی بھی ایک ایسے ادیب ہیں جو اپنی مسلسل بلندپروازی سے ہر ایک کو حیران کر دیتے ہیں۔نہ صرف تنقید کے میدان میں بلکہ اردو افسانے پر بھی ڈاکٹر ریاض توحیدی کی گہری چھاپ نظر آتی ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے اور ان کی ہر تحریر سے نہ صرف یہاں کی خوبصورتی عیاں ہوتی ہے بلکہ یہاں کے درد و کرب کو بھی وہ وقتاََ فوقتاََ اپنی تحریروں میں عیا ں کرتے ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی تحقیق و تنقیدکے اسرار و رموز سے بھی اُسی طرح واقف ہیں جس طرح وہ افسانوں کے فن سے آشنا ہیں ۔دراصل وہ

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی مجموعہ

افسانہ درحقیقت اظہار خیال کے ایک مخصوص فن کا نام ہے اس کی تشکیل و ترتیب میں موضوع،مواد اور فکرو خیال کے ساتھ فنی حسن کا ہونا لازمی ہے اور ان سارے عناصر کو  ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ نے اپنے افسانوی مجموعے میں فنکارانہ طور پر پیش کیا ہے موضوع اور فن دونوں ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ کی تخلیقات میں جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں  افسانہ لکھنے والوں میں ڈاکٹر عقیلہ ایک خاص انداز کی ملکہ ہیں، ان کے افسانے بڑے کام کی چیز ہے۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ نہایت دلکش اور فطری ہیں۔ اصلاح معاشرت کا رنگ ان کے افسانوں پہ غالب  ہے۔ انہوں نے پلاٹ کردار اور طرز بیان کے ذریعے سے ایک انفرادیت اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔جہاں تک ان کے افسانو ی مجموعہ بکھرےرنگ کاتعلق ہے ، اس سے یہ بات واضح  ہو جاتی ہے کہ ان کے مجموعہ میں جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ ان کی سیرت نگاری ہے۔ ان کے کردار بہت

تعلیمِ نسواں کی اہمیت | مسلم معاشرہ کی ذمہ داریاں

موجودہ دور میں تعلیم نسوان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت قوم اور معاشرے دونوں کی ترقی اور بھلائی کے لیے ناگزیر ہے۔  لفظ ' تعلیم و تربیت دو اجزاء کا مرکب ہے۔ایک تعلیم یعنی سکھانا،پڑھانا،معلومات پہنچانا اور دوسرا تربیت یعنی اچھی پرورش کرنا ،اچھے اخلاق و عادات کا خوگر بنا نا اس لئے تعلیم اور تربیت دونوں اسلام میں بنیادی اہمیت کے حاصل ہیں۔ اسلام کا نظریہ تعلیم و تربیت: اسلام کی نظر میں تعلیم کا مقصد خالص رضائے الہٰی کا حصول ہے، جس کے لیے تعلیم و تربیت دونوں ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ تعلیم دوسرے نظام تعلیم سے منفرد ہے کیوں کہ اس میں تربیت کا بھی تصور پایا جاتا ہے، یہ طلبہ و طالبات کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ نفس کی تربیت کا بھی اہتمام کرتا ہے اور ساتھ ہی انسانی زندگی کے تمام شع

عہد شکنی ۔ایک سنگین گناہ | وفا کرنا سکون وراحت ہے

عہد شکنی کوئی عام گناہ نہیں بلکہ ایک بہت ہی سنگین گناہ ہے۔ اسلام میں عہد شکنی کی بڑی ممانیت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سخت تاکید کی ہے عہدوں کو پورا کرنے کی۔ عہد شکنی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’عہد کو پورا کرو، کیوں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہو گا‘‘ (القرآن) وعدہ ایک ایسا فعل ہے جو انسان اکثر کسی چیز کو کرنے یا نہ کرنے کے لئے کرتا ہے۔ کبھی رشتوں میں مضبوطی لانے کے لئے انسان وعدہ کرتا ہے۔ اکثر انسان جب بہت خوش ہوتا ہے تو وہ کبھی خود سے، کبھی اپنوں سے تو کبھی اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اسکو ہر ایک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ چاہے وعدہ ہم خود سے کریں، اپنوں سے کریں یا پھر خدا سے کریں ان سب میں ایک ایسا گواہ موجود ہوتا ہے جسکی گواہی دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھٹلا سکتی ہے اور وہ ہے خود اللہ تعالیٰ۔ ا

آغاز بے نقاط

یوں بسم اللہ کی ابتدا نقطے سے ہوتی ہے لیکن اللہ تعالی نے پہلی ہر ایک شئے بے نقاط رکھی ! مثلا بارہ مہینوں میں سال کا پہلا مہینہ محرم ا الحرام ہے اور یہ بے نقطہ ہے ۔۔دنیا کی پہلی تخلیق پانی ہے ، پانی کو عربی میں ماءکہتے ہیں۔ماء بھی نقطے سے پاک، دنیا کے پہلے انسان 'آدم  'اور آدم نقطے کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے تو پھر صنف نازک کیسے برداشت کرلیتیں، لہٰذا  اللہ عزوجل مساوات کی دلیل نظیر بے نظیر ملاحظہ فرمائیں بی بی حوا 'آپ انسان کی ساخت پر غور فرمائیں! بشر کے وجود کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے؟ سر سے ۔سر عربی میں" راس "کہلاتا ہے۔ یہ ابتدا بھی بے نقطہ ۔پرندوں میں سب سے پہلے مور بنایا گیا جسے طاؤس کہتے ہیں ، کیڑے مکوڑوں میں سانپ جنت میں نگراں تھا ،آدم و حوا کا کہ شیطان داخل نہ ہوجائے ۔ سانپ وہاں 'حیہ 'کے نام سے جانا جاتاتھا۔ آبی جانور میں 'ماہی

یہ لاچار خستہ حال غریب عوام !

خطرناک اور مہلک کرونا وائرس کی دوسری لہر نے ہندوستان کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ شاید ہی تاریخ میں ایسی کسی غیر محسوس طرح کی وباء نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوگی۔ ہر طرف یہی زور اور شور تھااور آج بھی ہے کہ سرکاری ہدایات پر عمل پیرا ہوں۔چوک چوراہوں اور گلی بازاروں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کا پہرہ دیکھ کریوں لگتاہے کہ بظاہر کوئی جانی دشمن حملہ آور ہونے والا ہے۔ اکیلے یا اجتماع، پیدل ہوں یاسوار، غریب ہو یا امیر، عورت ہویامرد سب کو ایک ہی دہائی تھی کہ ماسک پہنیں، سماجی دوری رکھیں،بار بار ہاتھ دھوئیں،سینیٹائیزر کا استعمال کریں۔ اب جس وبا کو روکنے کے لئے یہ سب کچھ کیاجارہا ہے، کیازمین پر وہ سب کچھ ڈھنگ سے ہورہاہے؟آخر کیوں لوگ ویکسینیشن اور اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے سے بھاگ رہے ہیں؟ کیاانتظامیہ اور طبی محکمہ نے عوام کی جانکاری کے لئے کوئی جانکاری کیمپ لگاکرانہیں بیدار کیا؟ یاپھر طاقت ک

خواتین خود پر اعتماد کرنا سیکھیں

خواتین کا دائرہ عمل ان کے گھر کی چار دیواری تک ہی محدود نہیں۔آج کی عورت اور باہر دونوں جگہ کامیابی سے آگے بڑھتی نظر آتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی عورت خود اعتماد ہے ،وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ گھر ہو یا باہر آگے بڑھنے کیلئے خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔آج کی غیر یقینی اور ہنگامہ بھری زندگی میں کوئی بھی غیر متوقع صورتحال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ زندگی داؤ پیچ سے نبرد آزما ہونے کیلئے خود اعتمادی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔گھر میں رہنے والی عورتوں میں جب تک خود اعتمادی نہیں ہو گی تب تک اس گھر کے افراد خاص کر بچے خود کو بھی غیر محفوظ محسوس کریں گے۔کیونکہ بچوں کی تربیت میں ایک پُراعتماد ماں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اس کے علاوہ آج کل گھریلو زندگی کے ساتھ خواتین ملازمت بھی کر رہی ہیں۔اسے اپنے افسروں کے ساتھ پُراعتماد انداز میں کام کرنا اور اپنے شوہر،بچوں سے متعلق ذمہ داریاں خوش اسلوب

کہاں گئے وہ لوگ؟

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب کوئی محترم شخص کچھ بولتا تھا تواُس کی بات میں ایسی تاثیرہوتی کہ سننے والا اس کی باتوں کو اپنی شخصیت میں اُتارنے کی بھر پور کوشش کرتا تھا، وہ محترم اشخاص چاہے کسی کے والدین ہوتے یا خاندان کا کوئی بزرگ۔اُستاد ہوتا ، مذہبی رہنما ہوتایا کوئی سیاسی شخصیت۔سُننے والا اس کی بات کو اپنے پلو میں باندھ کے رکھتااور بعد میں اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ہمیں خود اپنا بچپن یاد ہے کہ جب ہمیں اسکول کا کوئی اُستاد کوئی بات بتاتے تھے ،کوئی نصیحت کرتے تھے یا کسی کام سے روکتے تھے تو ہم ہر ممکن اُن کی باتوں پر عمل کرتے تھے کیونکہ جب ہم نہ صرف استاد بلکہ اپنے خاندان کے بزرگوں پر نظر ڈالتے تو اساتذہ اور اُن کے گفتار و عمل میں کوئی تضاد نہیں ملتا تھا ،مگر آج کے حالات بالکل بدلے بدلے نظر آرہے ہیںبلکہ یوں کہیں کہ حالات بالکل بدل چکے ہیں اور ہر معاملہ اُلٹ پلٹ ہوچکا ہے۔جس کے نتیجے میں ہر سطح پ

جانئے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو | حُسن ،سِنگار کے بغیر دل موہ لیتا ہے

چند سال قبل میں اپنے علاج و معالجے کی خاطر آل انڈیا بترا انسٹی چیوٹ کی طرف جارہی تھی ،میں نے حوض رانی گاندھی پارک کے متصل لوگوں کے جمگٹے میں اُردو زبان میں شائع کئے گئے چند پمفلٹ کی مُفت میں تقسیم کاری دیکھی۔میرا بھی جی للچایا اور آگے بڑھنے سے قبل آٹو ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا ۔میری سیمابی کیفیت تاڑ کر چند بچے آگے آکر دوچار پمفلٹ (Pamflet)میرے ہاتھوں میں تھماکر مجھے رخصت کیا اور میں نے بھی ممنون نگاہوں سے اُن کا شکریہ ادا کرکے یہ مسودہ کھولا ۔اسلامِک ریسرچ سینٹر نئی دہلی سے اس کی دلپذیر اشاعت ہوگئی تھی ۔صفحہ ٔ قرطاس پر ’’جانیے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو‘‘ان کا موضوع ِ خاص مشتہر کیا گیا تھا ۔اس عنوان کو دیکھ کر میں نے بھی دل ہی دل میں یہ ارادہ کرلیا کہ میں گھر آکر اس پمفلٹ کی ہزار دو ہزار کاپیاں بناکر قوم کی معصوم بچیوں کے نام وقف کردوں،تاکہ میں بھی کماحقہ

کورونا کی تیسری لہر اورمنکی بی وائرس | نادانوں کی کوششیں روایت پر تمام ہیں

ایک طرف کرونا وبا ء کی تیسری لہر کی آہٹ ہے تو دوسری طرف بےخوف عوام، جسے زندگی کی کشمکش سے اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ یہ سوچےکہ کرونا وبا ء ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کرونا پر و ٹو کول کی پیر وی کی جائے ۔نہ تو منہ پر ماسک نہ سماجی دوری کا احساس۔ حکومت کے بار بار اعلان کے باوجود اور سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کی لاکھ کوشش کے باوجود زیادہ تر آبادی اپنے حال میں مگن نظر آتی ہے۔ شہر وں اور بازاروں کا حال دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ جیسے وبا ئی مرض اب ختم ہو گیا ہے اور لوگ دوسری لہر کے خوفناک مناظرتک کو بھول گئے، جب موت سر پر ناچتی نظر آرہی تھی اور ہر شخص موت کے سائے میں جی رہا تھا ۔یہ ہے ہندوستان کی اصل تصویر ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس سماج میں معاشی تنگی رہے گی اور تعلیمی بیداری نہیں ہوپائے گی ،وہاں کی صورت حال کچھ ایسی ہی ہوگی ۔کیونکہ بھوکے ننگے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ کو