عیدمیلادالنبیؐ کی آمد: ایام متبرکہ آج سے شروع | درگاہ ِحضرتبل میں 12دن تک خصوصی تقریبات کا اہتمام ہوگا

 سرینگر//عید میلادالنبیؐ کے سلسلے میں درگاہ حضرتبل میں ربیع الاول کے ایام متبرکہ 19اکتوبر یعنی آج سے شروع ہورہے ہیں جہاں پر عقیدت مند پانچوں اوقات باجماعت نماز اداکریں گے جبکہ ربیع الاول کی 12تاریخ کو درگاہ حضرتبل میں سب سے بڑی تقریب منائی جائے گی ۔بیع الاول کے ایام معتبرکہ کل یعنی 19اکتوبر سے شروع ہورہے ہیں جس دوران وادی بھر کی مساجد، خانقاہوں، زیارت گاہوں اور آستانو ں پر بارہ دن خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے جہاں پر درود و ازکار، نعت خوانی کی محفلیں آراستہ ہوں گی ۔ اس سلسلے میں درگاہ حضرتبل سرینگر میں بھی ربیع الاول کے بارہ ایام کو تقاریب منعقد ہوں گی جبکہ درگاہ شریف میں نماز پنجگانہ باضابطہ طور پر اداکی جائے گی جس میں عقیدت پسند ذائرین شرکت کریں گے ۔ نماز پنجگانہ کے دوران بارہ دنوں تک خصوصی تقریبات بھی انجام دی جارہی ہے جس میں خطمات المعظمات ، درودوازکار کی محفلیں بھی

۔ 8ماہ بعد سنڈے مارکیٹ کی سرگرمیاں بحال | تاجروں اور خریداروں میں خوشی ، ایس او پیز پر من و عن عمل

 سرینگر//اتوار کو قریب 8ماہ بعد سنڈے مارکیٹ جزوی طور کھل گیا جہاں ایک بار پھر مختلف اقسام کی اشیاء خاص طور پر ملبوسات چھاپڑیوں پر صبح سے ہی سجائے گئے تھے اور لوگوں کی بڑی تعداد نے مارکیٹ میں حاضر ہوکر جم کر خریداری کی ۔ سنڈے مارکیٹ دوبارہ کھل جانے کے نتیجے میں سنڈے مارکیٹ میں چھاپڑیوں پر مال فروخت کرنے والوں کے چہروں پر خوشی صاف چھلک رہی تھی ۔سی این آئی کے مطابق   ہر اتوار کو سرینگر میں سجنے والا بازار جس کو عرف عام میں سنڈے مارکیٹ کہتے ہیںگذشتہ اتوار کولگ بھگ 8ماہ بعد دوبارہ کھل گیا ،جہاں پر  ایک بار پھر بازار میں مختلف اقسام کی چیزں سجائی گئی تھیں ۔ سنڈے مارکیٹ عمومی طور پر ٹورسٹ سنٹر ڈلگیٹ سے مہاراجہ بازار اور ہری سنگھ ہائی سٹریٹ تک لگتا تھا تاہم کووڈ 19کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے نتیجے میں اس اتوار کو مارکیٹ میں نصف ہی تاجروں نے اپنا مال سجایا تھا  کیوں کہ

پریس کالونی کار پارکنگ میں تبدیل | صحافیوں کو گاڑیاں پارک کرنے میں دقت | حکام سے مداخلت کی اپیل

 سرینگر // پریس کالونی سرینگر کو عام لوگوں نے کار پارکنگ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ،جس کے نتیجے میں صحافیوں اور اخبارات سے وابستہ افراد کو اپنے گاڑیاں کھڑا کرنے کیلئے جگہ ہی دستیاب نہیں ہوتی ہے ۔ مختلف اخبارات سے وابستہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ روزانہ دن کو کالونی میں عام شہری اپنی گاڑیاں کھڑاکر دیتے ہیںجس کے نتیجے میں نہ صرف انہیں آمد ورفت میں کافی دقتوں کا سامنا رہتا ہے، بلکہ انہیں اپنی گاڑیاں پارک کرنے کیلئے جگہ بھی دستیاب نہیں ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پریس کانونی کو لوگوں نے کار پارکنگ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ،جبکہ یہاں کوئی بھی پارکنگ نہیں ہے اور لوگ مفت میں اس کو پارکنگ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔صحافیوں کا مزید کہنا تھا کہ کبھی کبار انہیں راستے میں اپنی گاڑیاں چھوڑ کر آفس میں کام کرنے پہنچنا پڑتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذہنی عذاب اُس وقت ہوتا

بوسیدہ کھمبے اور ڈھیلی ترسیلی لائنیں لٹکتی تلوار کی مانند | رواں برس بھی حالت نہیں بدلی، صارفین کا محکمہ بجلی پر لیت و لعل کاالزام

سرینگر // شہر میں بجلی ڈھانچہ کو مزید بہتر بنانے کیلئے متعدد سکیموں کے تحت ایک بڑی رقم خرچ کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی شہر میں عارضی کھمبوں کے ساتھ لٹکتی بجلی کی تاریں نہ صرف مکینوں اور راہگیروں کیلئے وبال جان بنی ہوئی ہیں،وہیں سرما میں برف باری کے دوران پھر سے بجلی گل رہنے کا احتمال ہے ۔شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کے بوسیدہ کھمبوں اور تاروں کو نہیں بدلا گیا ہے ۔مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار ترسیلی لائنوں اور کھمبوں کو بدلنے کیلئے متعلقہ محکمہ سے رابطہ قائم کیا تاہم اس جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جاتا ہے۔شہر کے گرین کالونی لاوے پورہ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہاں بجلی کی تاریں ڈھیلی ہوگئی ہیں اور خدانخواستہ حادثہ ہو سکتا ہے۔مقامی لوگوں کے ایک وفد نے بتایا کہ کئی بار انہوں نے محکمہ کے متعلقہ حکام سے رجو ع کیا لیکن اس جانب کوئی بھی دھیان نہیں دیا گیا ۔شہر کے ک

گندے پانی کی نکاسی کیسے ممکن ؟ | شہرمیں متعدد پروجیکٹوں پر کام سست رفتاری کا شکار

سرینگر//شہر سرینگر میں گندھے پانی اور فضلہ کی نکاسی کیلئے صرف40فیصد ڈھانچہ ہی موجود ہے،جبکہ اسمارٹ سٹی کے تحت جن20پروجیکٹوں کو منظوری ملی تھی،اس میں سے بھی نصف پروجیکٹ سست رفتاری کے نتیجے میں پائے تکمیل کو ابھی تک پہنچ نہیں پائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں سمارٹ سٹی کے تحت پانی کی نکاسی کیلئے جن20پروجیکٹوں کو سال2019-20میں شروع کیا گیا تھا،ان میں سے بھی11ہی مکمل ہوئے اور باقی9سست رفتاری کی بھینٹ چڑ گئے ہیں۔سرینگر مونسپل کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں پانی کی نکاسی کیلئے صرف40فیصد نظام موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوںکے دوران نہ ہی سرینگر مونسپل کارپوریشن اور نہ ہی محکمہ تعمیرات عامہ نے شہر میں نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کی کوشش کی،اور یہ معاملہ شہری عوام کیلئے درد سر بنا ہواہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شیخ باغ،الہی باغ،باغات،شہنشاہ کالونی اور دیگر علاقوں م

پالتھین لفافوں کا کاروبار جاری | روک لگانے والا کوئی نہیں

 سرینگر// شہر اور دیگرقصبہ جات میں پالی تھین لفافوں کا کاروبار بڑے پیمانے پر جاری ،عدالت عالیہ کے حکمنامے کو عملانے میں متعلقہ محکمہ جات بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں ۔ کرنٹ نیو ز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں پالتھین لفافوں کے کاروبار پر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عدالت عالیہ نے بھی پابند لگائی تھی، لیکن میونسپلٹی، محکمہ خورات و رسدات اور لیکس اینڈ واٹر ویز محکمہ عدالت اور انتظامیہ کے حکمنامے کو زمینی سطح پر عملانے میں بُری طرح سے ناکام ہوچکا ہے ۔ سرکار کی جانب سے باربار یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ کشمیر کو پالتھین سے پاک خطہ بنایا جائے گا تاہم بد قسمتی سے سرکاری اعلانات محض اخباروں کی سرخیوں تک ہی محدود رہے۔ جس کے نتیجے میں پالتھین کا کاروبار پہلے سے زیادہ پھیل گیا ۔ وادی کے تمام اضلاع میںپالیتھین لفافوں کا کاروبار اور اس کا استعمال جاری رہنے کی پاداش میں ماہرین ماحولیات اور ماحول دوس

تازہ ترین