تازہ ترین

ڈرنیج سسٹم کی عدم دستیابی

سرینگر //صدیق کالونی سوپور میں کپرا تھیٹر کے پاس ساڑھے تین سو میٹر کے تین کوچوں میں ڈرنیج سسٹم کی عدم دستیابی کے نتیجے میں لوگوں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ حکام نے اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ علاقے میں ڈرنیج سسٹم تعمیر ہوگا اور کالونی پر بھی تعمیر کا کام شروع کیا گیا ہے لیکن کپرا تھیٹر کے پاس تین کوچوں میں ڈرنیج سسٹم تعمیر کرنے کی طرف کوئی بھی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے ۔مقامی لوگوں کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ صدیق کالونی میںبارشوں میں سڑک تالاب کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار اس تعلق سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا لیکن وہاں سے یہی جواب مل رہا ہے کہ اگر کوئی پیسہ بچا تو ڈرنیج سسٹم پھر تعمیر ہوگا ۔مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ جب سڑک پر گندہ پانی جمع ہوتا ہے تو اس وقت انہیں نہ صرف عبور ومرور میں سخ

کمیونٹی کلاسز کو بند کیا جائے:ماہرین

سرینگر//محکمہ تعلیم نے گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف دیہی علاقوں میں دسویں جماعت تک کمیونٹی کلاسز شروع کئے ہیں جہاں اساتذہ بچوں کو کسی گھر یا کسی میدان میں جمع کرکے پڑھاتے ہیں ۔اگرچہ یہ ہدایات اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کلاسوں میں ایس او پیزکا پورا اہتمام ہوتا ہے تاہم زمینی سطح پر یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ایسا سو فیصد کہیں بھی عملایا نہیں جاتا ہے ۔ عوامی حلقے اورماہرین تعلیم یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کلاس تو کلاس ہوتے ہیں وہ چاہئے سکول میں ہوں یا پھر کھلے میدان میں وہاں پر آپسی میل جول کا کافی احتمال رہتا ہے اور اسطرح سے وبائی بیماری کے پھیلائو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور پھر یہ سوال کہ سکول بند رکھنے کے پھر کیا معنی ہیں۔ دوسرا سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ اس طرح سے آن لائین کلاسز بہت متاثر ہوگئے ہیں۔عوامی حلقوں اور تعلیمی ماہرین نے اس اقدام پرتعجب اور برہمی کا اظہار کیا ہے