ضلعی بہتر حکمرانی کی درجہ بندی | اعدادوشمار بجا،زمینی صورتحال کا بھی جائزہ لیاجائے

وزیر داخلہ امت شاہ نے سنیچر کو جموںوکشمیر کیلئے عملی طور ملک کی پہلی ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس ( ڈی جی جی آئی ) جاری کی ۔ جامع درجہ بندی میں جموں ضلع سرفہرست رہنے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ اسکے بعد ڈوڈہ ، سانبہ ، پلوامہ اور سرینگر کے اضلاع ہیں ۔ضلعی بہتر حکمرانی اشاریہ یعنی ڈی جی جی آئی ایک فریم ورک دستاویز ہے جوگورننس یا حکمرانی کے دس شعبوں کے تحت کارکردگی پر مشتمل ہے جس میں 116 ڈیٹا پوائینٹس کے ساتھ 58 اشارے ہیں ۔ یہ معیار ہر ایک اضلاع کے ذریعہ ڈیٹا اکٹھا کرنے ، سکریننگ اور تصدیق کے سخت اور مضبوط عمل کے بعد اپنایا گیا ہے ۔ اس انڈیکس کے تحت جن گورننس سیکٹروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، ان میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے (11 اشارے ) ، تجارت اور صنعت ( 5 ) ، انسانی وسائل کی ترقی ( 9 ) ، صحت عامہ ( 9 ) ، پبلک انفراسٹریکچر اورعوامی خدمات ( 6 ) ، سماجی بہبود ( 6 ) ، مالی شمولیت ( 3 ) ، عدلیہ

جموںوکشمیر میں صنعتکاری و سرمایہ کاری

وزیرداخلہ امت شاہ نے سنیچر کوجموںوکشمیر کیلئے عملی طور پر ہندوستان کا پہلا’ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس‘ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے ایک ترجیح ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے کثیر الجہتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم نے جموں وکشمیر کیلئے بہترین صنعتی پالیسی بنائی ہے اور اس کے تحت اب تک 12ہزار کروڑ روپے سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں جبکہ آنے والے چند برسوں میں فوری طور 5ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جموں میں آئے گی جبکہ بقول اُن کے گزشتہ 70میں محض12ہزار کروڑ روپے کی ہی سرمایہ کاری ہوئی تھی ۔ وزیرداخلہ کہتے ہیںکہ اس سرمایہ کاری کے نتیجہ میں جموںوکشمیر میںپانچ لاکھ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔بادی النظر میں یہ ایک اچھی پہل ہے اور واقعی جموںوکشمیر میں فوری طور پانچ ہزار اور آنے و

موسم سرما اور مکرّر تجربہ

وادی کشمیر میں سردی کی شدید ترین لہر جاری ہے اور چلہ کلان شروع ہوتے ہی اس میں مزید اضافہ ہوچکا ہے ۔سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت میں کمی صرف اعدادوشمار کی بات نہیں ہے اورنہ ہی برف باری اور برفانی تودے صرف تصویریں لینے کیلئے ہیں۔ کشمیر میں سردیوں میں طرز زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوجاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی ہم آخر کار ان چھوٹے چھوٹے دیسی ٹوٹکوںپر گزارہ کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موسم سرما لاکھوں مختلف مسائل کو جنم دیتا ہے۔ جہاں سردیاں آتے ہی ہمیں اپنے پہناوے میں تبدیلیاں لانی پڑتی ہیں اور یکایک ہم گرم ملبوسات کا سہارا لیتے ہیں وہیں کانگڑی آج بھی موسم سرما کا جزو لاینفک ہے ۔بلا شبہ سائنسی ترقی کی وجہ سے ہمیں آج کل بہت سارے ایسے آلات دستیاب ہیں جو زمستانی ہوائوں میں ہمیں گرم رکھ سکتی تھیں تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ آلات بھی ہمارے کسی کام نہیں آتے ہیں کیونکہ ان آلات ک

کورونا وباء اور درس و تدریس

 کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میں مسلسل دنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا اس سے بچائوکا متحمل نہیں ہے۔مسلسل تیسرے سال کورونا کے پھیلائو کا سب سے بڑا خطرہ سکولوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم اب تقریباً منقطع ہوچکا ہے ۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرور بن گئے ہیں کہ ان حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح اپنے مسائل کا حل نکال ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ حالات ہمارے نظامِ تعلیم کیلئے آزمائش بن کر آئے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب معاشر ے میں روایتی تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن آج اس عالمی وبا کے پھیلنے کی وجہ س

کووڈ طوفان…

ملک میں ایک بار پھر کورونا معاملات میں اضافہ کا تشویشناک جاری ہے ۔اب یومیہ معاملات کی تعداد3لاکھ کے آس پاس تک پہنچ چکی ہے جبکہ جموں وکشمیر میں بھی یہ تعداد 6ہزار کے قریب ہے ۔روزانہ اتنی بڑی تعداد میں کورونا معاملات کا سامنے آنا کوئی اچھا شگون نہیں ہے اور یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ معاملات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی نہ صرف ہفتہ وار لاک ڈائون واپس لوٹ چکا ہے بلکہ ایک طرح کی طبی ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی ہے کیونکہ مختلف ہسپتالوں کو پہلے کی طرح صرف کووڈ مریضوں کیلئے مخصوص کردیاگیاہے۔ چونکہ مستقبل کے حوالے سے اشارے کچھ اچھے نہیں مل رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میںکووِڈ کی نئی شکل اور معاملات میں اضافہ کے پیش نظر تمام ہسپتالوں میں آکسیجن پلانٹس ، مطلوبہ اَدویات کی دستیابی ، آئی سی یو اور آک

ہمارا معاشرہ کدھر جارہا ہے؟

فی الوقت اس بات کا تذکرہہر طرف  ہوتارہتا ہے کہ وادیٔ کشمیر کی نوجوان نسل کی  صورتحال ہرگزرتے لمحے کے ساتھ بگڑتی جارہی ہے  اوردن بہ دن مختلف بُرائیوں و خرابیوں  میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی بے راہ روی ، منشیات کی عادی اور جرائم کی طرف راغب ہورہی ہے۔بلاشبہ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے اور قوم کے لئے رگِ جان کی حیثیت رکھتی ہے اور اُس کی کوتاہی اور غلطی قوم و معاشرہ کے عزت و وقار کو پستی کی جانب دھکیل دیتی ہے۔نوجوان نسل ہی آنے والے کل کی تاریخ مرتب کرتی ہے اور نوجوان نسل کے فکرو عمل سے ہی قوم و معاشرہ کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے البتہ جس قدر اُن کی اہمیت اور ذمہ داریاں ہیں اُسی قدر اُن کے مسائل بھی ہیں،جن کو حل کرنا معاشرے اور حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔البتہ نوجوانوں کومعاشرے کے حالات و تقاضوں کو سمجھنا اور تمام پہلوئوں پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔حق تو یہی ہے کہ جب تک

وبائی بیماری۔۔۔ | اپنی مدد آپ کے تحت جینالازمی

دنیا بھر میںگذشتہ دو ڑھائی سال سےجاری کرونا بیماری کی تباہ کُن صورت حال نے اب ہر ذی حس انسان کے ساتھ ساتھ ہر خواندہ و ناخواندہ اورغافل و جاہل کو بھی اس بات کا قائل کر دیا ہے کہ کرونا کی بیماری کے خاتمہ کا وقت مقرر نہیں۔ اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے چونکہ ابھی تک ایسی کوئی ٹھوس یا کارآمد ویکسین ایجاد نہیں ہوسکی ،جس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ چند دنوں کے اندر مریض تندرست و تواناہوسکتا ہے۔ اس لئےمحققین کی آرا کے مطابق اس بیماری کےعلامات ظاہر ہوتے ہی لوگوں کے لئے اب بخار چیک کرنا اتنا ضروری نہیں جتنا کہ آکسیجن لیول چیک کرنا لازمی ہے۔آکسیجن لیول کی جانچ سے ہی اس بیماری میں ملوث ہونےکا پتہ چل پاتا ہے کہ اُسے ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہے یا گھر میں ہی آئیسولیٹ ہونے کی ۔جس شخص کی آکسیجن لیول 80 سے 70 فیصد ہو رہی ہے تو اُسے لازمی طور پر طبی امدادکی ضرورت ہوگی ، اُسے ہسپتال م

ہر دُکھ و درد کا مداوا صرف انسانیت ہے

  زمینی اور آسمانی آفتوں کی تاریخ انسانی وجود سےشروع ہوتی ہے اور جب بھی کسی قوم پر خدا کی ناراضگی بڑھ جاتی ہے تو آندھی،طوفان ،سیلاب ،زلزلے اور وبائی بیماری کی صورت اختیار کرکے اُسے آلام و مصائب میں مبتلا کرتی ہے۔موجودہ کرونائی قہر نے جہاں پہلے مرحلے میں ساری دنیا کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات سے دوچا ر کرکے ہلا کے رکھ دیاتووہاںآج اس وبائی قہرنے اپنےتیسرے مرحلےمیںبرصغیر کے کروڑ وںلوگوںکا نظام ِزندگی پھر سے مفلوج کردینا شروع کردیاہے ۔ ہندوستان میں روزانہ ہزاروں مثبت معاملات سامنے آرہے ہیں اور یومیہ تین سےچار سو کے درمیان اموات ہورہی ہیں۔سال ِ گزشتہ کورونا نے جس بہیمانہ انداز میںبھارت پر قہر ڈھایا ،اُس کی ہیبت ناک تصویریں ابھی تک دُ ھندلی ہونے کا نام نہیں لیتیںاور اب رواں سال میں یہ وائرس آگے کیا کرسکتا ہے، قبل از وقت کچھ کہا نہیں جاسکتا۔گزشتہ سال کی انتہائی سنگین صورت

مہنگائی وناجائز منافع خوری اور انتظامیہ؟

  عوام کا ہر گزرتا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںمسلسل اضافے سے مشکل سے مشکل تر بنتا جارہا ہے ۔اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے۔دنیا کو درپیش معاشی بحران اور انحطاط کی وجہ سے پہلے ہی معاشی ترقی کی رفتار بُری طرح متاثر ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے بے شمار لوگ روز گار سے محروم ہوگئے ہیں اور کئی پرائیویٹ کمپنیوں ،کارخانوں اور اداروں میں تنخواہوں اور اُجرتوں میں کٹوتی کی گئی جبکہ عام آدمی کی آمدنی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہی ہے ۔غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری سے ایسا لگتا ہے کہ ان قیمتوں پر قابو پانے کی انتظامیہ میں کوئی سکت نہیں،اس لئے اس تعلق سے سرکار زیادہ فکر مند بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔جموں وکشمیرکےعوام کو اِس وقت جس بےلگام اور کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے اُس کا شائد گورنر انتظامیہ کو بھی ادراک ہو،لیکن اس حوالے سے مجاز حک

بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کا دلخراش رجحان!

 شاہراہوں پر آئے روز کے ٹریفک حادثات نے ہمارے معاشرے کو ہلاکر رکھ دیا ہے ،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب حادثات میں ہلاکتوں کی خبریں سامنے نہ آتی ہوں۔ جموں اور کشمیر کی عام شاہرائوں کے ساتھ ساتھ سرینگرجموںقومی شاہراہ پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے خونین حادثات نے ایک بار پھراس شاہراہ کی تعمیر و تجدید کیلئے ایک موثر اور تخلیقی منصوبے کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس اُجاگر کیا ہے۔ دنیا بھر میں شاہرائوں کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک اہم ترین شاہراہ جو اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑنے کا واحد زمینی ذریعہ بھی ہے، دردناک اموات کی علامت بن کررہ گئی ہے۔یہ حادثے اور ان میں ہونے والی اموات دراصل دہائیوں سے اس شاہراہ پر ہونے والے لاتعداد حادثات اور ہزاروں اموات کا تسلسل ہے۔المیہ بھی یہی ہے کہ مسلسل حادثات اور انسانی جانوں کی اموات کے باوجود اب تک کسی بھی حکوم

ماحولیات کو درپیش خطرات …

 جموں وکشمیر میں فی الوقت آلودگی کے بڑھتے ہوئے گراف کی وجہ سے جو ماحولیاتی خطرات پیدا ہوگئے ہیں وہ نہایت ہی سنگین ہیں۔ حالانکہ ماضی میںریاستی عدالت عالیہ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے لکھن پور ٹول پلازہ  پر نگرانی نظام مزید سخت کرے تاکہ جموں و کشمیر میں پالی تھین کی برآمد روکی جاسکے ۔ چنانچہ عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں ہی اُس وقت حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تھی تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون کی کتابوں تک ہی محدود رہا جبکہ عملی طور متعلقہ حکام کی ناک کے نیچے ریاست میں پالی تھین کا استعمال شدومد سے جاری ہے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔یہ سال 2009کی بات ہے جب سرکار نے پالی تھین لفافوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ حکومت کی طرف س

! نقاسیٔ آب کا نظام سدھرنے کا نام نہیں لیتا

 وادی میں گزشتہ دنوں جو برف باری اور بارشیں ہوئیں اُس نے ایک بار پھر شہر سرینگر میں ناقص ڈرینج سسٹم کی قلعی کھول کررکھ دی ہے۔پانی سے نہ صرف سڑکیں اور گلی کوچے زیر آب آگئے بلکہ شہر کے متعدد علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے رہائشی مکانات اور تجارتی عمارات کی بنیادوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوا ہے۔ اندونی گلیوں میںہر سُو پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں کئی علاقوں میں عبور و مرور ناممکن بن چکا تھا۔گائوں دیہات میں صورتحال زیادہ ہی سنگین ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ایسے ویڈیو وائرل ہوئے ہیں ، جنہیں دیکھ کر شرم آتی ہے۔1980میں ڈرینج سسٹم سے منسلک محکمہ ،جسے اربن اینوائرنمنٹل انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ ( UEED)پکا را جاتا ہے ،کے قیام کے ساتھ ہی اس محکمے نے شہر سرینگر میں ڈرینج سسٹم اور انتظام بدرو کیلئے ایک جامع پروجیکٹ رپورٹ تیار کرلیا جسے عملانے کیلئے حکومت کی طرف سے منظوری بھی ملی تھ

تیسری لہر کے خدشات اور تعلیم پر اسکے منفی اثرات کا سدِباب ناگزیر

جدید تعلیم کچھ دہائیوں پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہے۔تعلیم کا شعبہ گزشتہ چند دہائیوں میں جہاں بے پناہ تبدیلیوں سے گزر چکا تھا وہیں گزشتہ چند برسوں میں اچانک ایک ایسا بدلائو آیا جس نے اس شعبہ کا نقشہ ہی بدل دیا۔روایتی تعلیم کی جگہ آن لائن تعلیم نے لے لی ہے ۔ ایک کلاس روم جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے تھے اور جہاں اساتذہ طالب علموں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات استوار کرتے تھے ،وہ اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اُن ننھے منے بچوں کا تصور کریں جنہیں کووڈ لہر آنے کے ساتھ ہی کنڈرگارٹن میں داخل کیا گیا تھا،وہ تاحال اپنی پہلی کلاس لینے کے منتظر ہیں کیونکہ جب سے سکول مسلسل بند ہیں۔ اگرچہ آن لائن تعلیم نے وقت کے ضیاع کی کافی حد تلافی کی لیکن ایک استاد اور ان کے طلباء کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ یہ چھوٹے بچے اب اپنے اساتذہ کو کچھ ڈیجیٹل آلات کے طور پر جانتے ہیںجنہیں وہ آواز اور تصویرکی حد سے

آفات سےنمٹنے کے سرکاری دعوے ۔۔۔؟

گزشتہ چند روز سے ہو رہی برفباری سے کشمیر، پیر پنچال اور چناب خطوں میں لوگوں کو جس پریشانی کا سامنا ہوا ہے اسکا اندازہ لگانا اگرچہ مشکل نہیں تھا، کیونکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے درمیانہ سے بھاری پیمانے کی برفباری کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ خراب موسمی حالات کے حوالے سے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق حاصل کرنے کی بجائے، ایسا ثابت ہوا ہے کہ انتظامیہ خواب خرگوش میں تھی۔ جبھی تو فی الوقت مذکورہ بالا تینوں خطوں میں بڑی تعداد میں رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے عبور و مرور کا سلسلہ بُری طرح متاثر ہوگیا ہے۔ روز مرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بجلی کی فراہمی کا عالم یہ ہے کہ شہرکی بستیوں اور قصبہ جات میںبجلی کا سپلائی نظام درہم برہم ہوگیاہے اور کئی علاقوں میں مسلسل بیسیوں گھنٹوں تک پاور سپلائی متاثر ہوگئی۔ اب اگرچہ اسمیں بہتری آنے لگی ہے مگر کئی علاقے ابھی بھی پریشانیوں میں ہیں۔ وادی ک

انسان اوروحوش کا ٹکرائو

یہ ہمارا اجتماعی تجربہ ہے کہ اگر چیزوں کو متوازن حالت میں کام کرنے دیا جائے تو ہم کسی بھی رشتے کے نقصان دہ پہلو کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔ اب انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تعامل کی مثال لیں۔ یہ ایک پرانا رجحان ہے اور انسان نے مختلف جنگلی جانوروں کو مختلف طرح استعمال میں لایا ہے۔ ایک ہی وقت میں دونوں آزاد دائروں میں رہتے ہیں بغیر ایک دوسرے کی جگہ میں گھس آئے۔جنگلی جانوروں کے انسانی رہائش گاہوں میں داخل ہونے کا شاید ہی کوئی امکان تھا۔ لیکن اب سب کچھ بہت بدل گیا ہے۔ انسانی آبادیوں کی ان علاقوں تک وسعت جو خالصتا ً جنگلی سمجھے جاتے تھے ،نے یہ سب بدل دیا۔ اور جب ہم نے اس فطری نظام میں خلل پیدا کی تو اب ہم اپنی زندگی کے ساتھ اس کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ہمیں اکثر یہ خبرسننے کو ملتی ہے کہ ریچھ یا تیندواکسی گاؤں میں داخل ہوا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعض اوقات ج

اخلاقی انحطاط۔۔۔۔

 اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے جا

کووڈ کی نئی لہر…

 ملک میں ایک بار پھر کورونا معاملات میں اضافہ کا تشویشناک رجحان شروع ہوچکاہے ۔گزشتہ تین دنوں میں ملک میں کورونا کیسوں میں تین گنا اضافہ درج کیاگیا۔دو روز پہلے جہاں مجموعی کیسوں میں یومیہ اضافہ کی تعداد صرف7ہزار تھی وہیں اگلے دو روز میںیومیہ اضافہ کے اعداد وشمار چھلانگیں مارتے ہوئے پہلے 14اور اس کے بعد 27ہزار تک پہنچ گئے تھے جبکہ آج یہ تعداد 33ہزا ر عبور کرچکی ہے۔ایک روز میں اتنی بڑی تعداد میں کورونا معاملات کا سامنے آنا کوئی اچھا شگون نہیں ہے اور یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ معاملات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی سپریم کورٹ نے آ ج سے دو ہفتوںکیلئے کیسوں کی سماعت ایک بار پھر ورچیول موڈ میں کرنے کا فیصلہ لیا ہے کیونکہ قومی دارالحکومت دہلی میں کووڈ وبا کی صورتحال انتہائی سنگین بنتی چلی جارہی ہے ۔اسی طرح مہاراشٹرا اور مغربی بنگال میں

اَمن کو موقعہ دیا جائے!

نئے سال کے موقعہ پر جس طرح کنٹرول لائن کے کئی راہداری مقامات پر بھارت اور پاکستانی افواج کے درمیان مٹھائیوں کا تبادلہ کیاگیا ،وہ انتہائی حوصلہ افزاء تھا اور اس سے یہ امید بندھ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں دو نوں ممالک کے تعلقات میں مزید گرم جوشی دیکھنے کو ملے گی ۔دراصل اب گزشتہ تقریباً ایک سال سے سرحدوں پر سکون لوٹ آیا ہے ۔گزشتہ سال جنگ بندی معاہدہ پر عمل درآمد کے اعادہ کے بعد سرحدوں پر آتشی گولہ باری کا سلسلہ بند ہوچکا ہے اور جبھی سے دونوں جانب سے مسلسل خیر سگالی جذبات کے تحت نہ صرف غلطی سے سرحد عبور کرنے والے افراد کو مسلسل واپس بھیجا جارہا ہے بلکہ خوشی کے مواقع پر مٹھائیوں کا تبادلہ بھی ہورہا ہے ۔عید ہو یا دیوالی یا کوئی اور تہوار ،ہر دفعہ دونوں جانب سے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ سرحدوں پر حالات کافی حد تک بہتر ہوچکے ہیں۔ دراصل سرحدی جنگ بندی ای

کورونا وائرس اور نئے سال کی آمد | ویکسین بجا لیکن احتیاط ہی اب بھی علاج ہے

سال 2021اپنی تلخ و شیریں یادوں کے ساتھ ہم سے رخصت ہوگیا اور ہم نئے سال میں داخل ہوگئے ۔2020کی طرح سالِ رفتہ بھی عالم انسانیت سے آزمائشیوں سے بھرا رہا اور اگر یہ کہیں کہ امسال بھی دکھتی انسانیت کو سکون کے چند پل میسر نہ ہوئے تو بیجا نہ ہوگا کیونکہ 2020کی طرح 2021میں آدم خور کورونا وائرس شکلیں بدل بدل کر انسانیت کا پیچھا کرتا رہا اور ویکسین کی آمد کے باوجود تاحال دنیا اس وائرس سے نجات نہیں پاسکی ہے ۔بلا شبہ عالمی سطح پر کم وبیش سبھی ممالک نے اس وائرس کے خلاف اپنے سارے وسائل جھونک ڈالے تاکہ انسانی آبادی کا تحفظ یقینی بنا یاجاسکے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پہلے ڈیلٹا اور اسکے بعد اب اومیکرون نے دنیا کی ناک میں دم کرکے رکھا ہے۔گزشتہ روز ہی امریکہ میں کورونا وائرس کی ڈیلٹا اور اومیکرون اقسام سے چار لاکھ افراد متاثر ہوچکے تھے ۔ جہاں تک ہمارے ملک بھارت کا تعلق ہے تو یہاں بھی صورتحال کچھ خوش

ویشنودیوی حادثہ … | سبق سیکھنے کی ضرورت

نئے سال کی پہلی صبح جب ہم نیند سے بیدا ر ہوئے تو نئے استقبال کا والہانہ استقبال کرنے کے بجائے ہمیں یہ منہوس خبر سننے کو ملی کہ ماتا ویشنو دیوی مندر میں بھگدڑ مچنے سے دوران شب12یاتری لقمہ اجل بنے ہیں جبکہ ایک درجن سے زائد یاتری زخمی بھی ہوئے ۔گوکہ ابتدائی طور پر اس المناک حادثہ کے حوالہ سے متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں تاہم ایک بات پر سب کو اتفاق ہے کہ یہ دلخراش حادثہ میں انسانی جانوںکا اتلاف ہوچکا ہے اور اس کو ٹالا جاسکتا تھا۔حادثہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نہ صرف وزیر داخلہ امت شاہ بلکہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بات کی ۔ جموںوکشمیر یوٹی انتظامیہ نے فوری طور مہلوکین کے لئے 10لاکھ اور زخمیوں کیلئے دو لاکھ امداد کا اعلان کیا ہے اور اس وقت مہلوکین کی نعشوں کو اپنے آبائی علاقوں کو روانہ کرنے اور زخمیوں کانارائنا سپر سپیشلٹی ہسپتال میں اعلیٰ معیاری

تازہ ترین