تازہ ترین

محکمہ بجلی کا نیا کٹوتی شیڈول

 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا،محکمہ بجلی کے عزائم بھانپتے ہوئے کشمیرعظمیٰ نے صارفین کو پیشگی خبردار کیا تھاکہ آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران اپنی انتہا کو پہنچے گااور آج وہی ہورہا ہے۔جوں جوں سردی بڑھنے لگی ،بجلی شیڈول میں غیر اعلانیہ کٹوتی بھی بڑھتی گئی۔شمال و جنوب میں بجلی کی ہاہار کار کو دیکھتے ہوئے جب ارباب اختیار کی جانب سے محکمہ بجلی کو کٹوتی شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت تو دی گئی تھی لیکن وادی کو اندھیروں کے سپرد کرنے کا بندوبست کیاجارہا ہے ۔ پہلے ایک کٹوتی شیڈول بنایا گیا جس میں اعلانیہ طور شہر کے میٹر و غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ڈیڑھ سے تین گھنٹے کی کٹوتی کا بندو بست کیاگیا لیکن اس شیڈول کے سامنے آنے کے بعد بجلی کا حال کتنا بے حال رہا،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور روزانہ میٹر و غیر میٹر یافتہ علاقوں میں 10سے15گھنٹوں کی کٹوتی ہورہی تھی ۔ اب محکمہ بجلی گزش

شعبہ صحت… | بہت کچھ ہوا،بہت کچھ ہونا باقی

 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ شعبہ صحت سرکار کی ترجیحات میں شامل ہے اور بجٹ کی 5فیصد سے زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے 39ویں یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے آن لائن خطاب میں منوج سنہا نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے 7ہزار 177 کروڑ روپوں کے پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔ اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی فراح دلانہ مالی امداد کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں صحت کا شعبہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے اور نہ صرف بنیادی سطح پر طبی ڈھانچہ کو مستحکم کیا گیا ہے بلکہ ثانوی اور تحتانوی سطح پر بھی صحت و طبی تعلیم کا شعبہ انقلابی تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔ مرکز کی مالی امداد کے تحت جموں وکشمیر میں 7میڈیکل کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں سے 5میڈیکل کالج شروع بھی ہو چکے ہیں جبکہ دو تکمیل کے ختمی مراحل میں ہ

کورونا طوفان…| نوخیز نسل کے بچائو کا بندوبست کریں

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود ڈاکٹر من سکھ منداویا نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں 50فیصد سے زائد اہل آبادی کی مکمل کووڈ ٹیکہ کاری ہوچکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ18سال سے اوپر والی آبادی کی نصف تعداد کو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔یقینی طورپر یہ ایک اہم سنگ میل ہے اور اس پر ہمیں خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تاہم یہ قطعی اطمینان کا موقعہ نہیں ہے کیونکہ پہلے تو عمر اس کے زمرہ کے لوگوں کی باقی بچی پچاس فیصد آبادی کی ٹیکہ کاری مکمل نہیںہوچکی ہے وہیں 18سال سے کم عمر کے نوجوانوں اور بچوں کیلئے کورونا سے تحفظ کا کوئی بندو بست تاحال نہیں کیاگیا ہے جبکہ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ اومیکرون نامی کورونا وائرس کی ایک اور قسم ملک میں دستک دے چکی ہے اور اس وائرس کے بارے میںیہ بتایا جارہا ہے کہ یہ پرانے اقسام سے زیادہ خطرناک ہے اور اس سے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے امکانات تیس فیصد زیادہ ہیں ج

جنگلی جانوروں کے حملے | محکمہ وائلڈ لائف خاموش تماشائی کیوں؟

گزشتہ دنوںکولگام میں تیندوے کے حملہ میں زخمی ہوا معمر شہری زخموںکی تاب نہ لاکر ایک روز چل بسا جبکہ کل بھی کولگام ضلع میں ایک تیندوا پکڑا گیا جس نے علاقہ میں ادھم مچا کر رکھی تھی۔ یہ تو کولگام کی بات ہوئی ۔حد تو یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے جنگلی جانوروں کی موجودگی کی خبریں آرہی ہے۔ گزشتہ دنوںسرینگر کے بالائی علاقہ باغ مہتاب میں تیندوے کو دن کے اجالے میں گلی کوچوں میں گھومتے ہوئے دیکھاگیاتھا جبکہ اس کے بعد ہمہامہ علاقہ میں بھی ایسی ہی صورتحال درپیش آئی جہاں تیندوے نے ایک کمسن بچی کو اپنا نوالہ بنایا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب شہر میں بھی جنگلی جانوروں کو دیکھاگیا ہو بلکہ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی بار شہر اور ا س کے مضافات میں جنگلی جانوروں کو دیکھاگیا ہے جبکہ دیہات کا خدا ہی حافظ ہے لیکن وائلڈ لائف محکمہ اپنے روائتی انداز میں محض زبانی جمع

بٹھنڈا۔سرینگر گیس پائپ لائن منصوبہ

 گزشتہ دنوں گریٹر کشمیر کے صفحہ اول پر بٹھنڈا سرینگر گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں ایک اس رپورٹ کی مسلسل تاخیر کا احوال پیش کیاگیا تھا۔جون2011میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بٹھنڈا پنجاب سے جموں کے راستے سرینگر تک328 کلو میٹر گیس پائپ لائن کے اہم پروجیکٹ کی منظوری دی تھی جسے تین سال میں مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔پانچ ہزار کروڑ روپے مالیت کے اس پروجیکٹ کو جولائی 2011میں ہی شروع کیاگیااورجولائی2014تاریخ تکمیل مقرر کی گئی تھی تاہم10برس بیت جانے کے بعد آج صورتحال یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کا عملی آغاز ہونا باقی ہے ۔ یہ پروجیکٹ اس لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ متبادل توانائی کاموثر ذریعہ بن سکتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ مقررہ مدت کے اندر اندر اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور اس کے بعد اس پروجیکٹ پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ میٹنگیں ب

ریاست رعایا کی ذمہ دار

 جدید دور میں سب سے اہم ادارہ ، در حقیقت تمام اداروں کی ماں ، ریاست ہی ہے۔ اس میں اجتماعیت کے تمام افعال کا احاطہ کیا گیا ہے اور جدید دور کے بین الاقوامی نظام کی بنیاد بنتی ہے۔ ریاست کا ایک اہم کام معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور دستیاب وسائل کو منصفانہ اور موثر انداز میں تقسیم کرنا ہے۔ جوریاست یہ کام کرتی ہے وہ کامیاب کہلاتی ہے اور جویہ کام کرنے میں ناکام رہتی ہے ،وہ لوگوں کی نظروں میں جواز کھو دیتی ہے۔ ایک ہی کام کی قدرتی اور منطقی توسیع ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے مالی یا دوسرے بحران میں الجھے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کی ریاستیں معاشرے کے ان طبقوں کے لئے پیکیجوں اورسکیموں کا اعلان کرتی ہیں جنہیں انسا ن کی لائی ہوئی یا قدرتی تباہی کا سامنا کرنا پڑاہو۔ ایسے تمام حالات میں ،چاہئے وہ زلزلہ ہو ، سیلاب ہو یا آگ ، لوگ توقع کرتے ہیں کہ ریاست ک

سامان حرب و ضرب

ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا معاشی نظام تلپٹ ہوچکا ہے اور عالمی معیشت کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی اچھے تخمینے سامنے نہیں آرہے ہیں ،یہ پریشان کن انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں نسل انسانی کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عالمی دفاعی بجٹ مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔سال رفتہ میں دفاعی ساز و سامان کی خریداری میںگزشتہ دہائی کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس صرفہ میں بیک وقت3.6فیصد اضافہ ہوا ہے ۔حیرانگی کی با ت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑیں ،اب تو ہمارا ملک بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے اور امریکہ وچین کے بعد بھارت دنیا کا ایسا تیسرا ملک بن چکا ہے جہاں دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکہ میں 2019کے مقابلے میں3.6فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ 1917بلین ڈالر تک پہنچ گیااور یہ 2010کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔اسی طرح چین کا دف

کووڈ انیس… خبردار! خطرہ ابھی ٹلا نہیں

دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری اورتیسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہریں پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی آسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے۔ہمارے یہاں بھی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے۔گوکہ بھارت میں ابھی کورونا کی پہلی لہر رفتہ رفتہ تھم رہی ہے اور کورونا معاملا ت میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے تاہم معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا ہے اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثر ہیں۔ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار مسلسل غیر اطمینان بخش ہے اور سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ا?مدنی کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے کھ

مغل شاہراہ…تیراقصورکیاہے؟

مغل شاہراہ ایک خواب تھاجوشرمندۂ تعبیرہونے کے بعدایک ڈرائوناخواب ثابت ہورہی ہے،ایساماناجارہاہے اورایسامحسوس کیاجارہاہے کہ خطہ پیرپنجال کی تقدیربدلنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ شاہراہ خطے کی تصویربگاڑرہی ہے ،نئی اُمیدوں کوجگانے ،نئی راہیں ہموارکرنے کی سی صلاحیتیں رکھنے والی اس شاہراہ کے تئیں حکومتی عدم توجہی اورکشمکش نے خطے کے عوام کیلئے مصائب پیداکررکھے ہیں،بارہ ماہ ٹریفک کی نقل وحمل کیلئے اِسے بحال کرنے میں مرکزی حکومت کی سردمہری نے عوام میں طرح طرح کے خدشات پیداکررکھے ہیںاوریہ مسلسل سردمہری اب مسائل بڑھاتی ہی جارہی ہے،یقینااس شاہراہ کی تعمیرنے خطے کے عوام کو بڑی راحتیں دی ہیں، کشمیرکیساتھ روابطے بڑھے ہیں،علاج ومعالجہ کیلئے کشمیرپہنچناجموں کے برعکس بہتراورآسان بنایاہے ،راجوری۔پونچھ کے عوام جموں پرسرینگرکوترجیح دیتے ہیں کیونکہ جموں کے مقابلے میں بہت کم مسافت طے کرکے وہ سرینگر پہنچ جاتے ہ

کورونا سے عالمی نظام تلپٹ | کیا اب ترجیحات تبدیل ہونگی؟

کورونا وائرس کی تباہ کاریاں تھمنے کا نام نہیںلے رہی ہیں اور پوری دنیا اس وقت اس مہلک وائرس سے بچنے کے جتن کررہی ہے ۔ساری عالمی طاقتیں بے بسی کے عالم میں اب بس دعا ہی کررہی ہیں کہ کسی طرح دنیا کے سائنسدان کوئی ویکسین لیکر آئیں جو زندگی کا پیچھا کرنے والے ا س موت کے پیامبر سے نجات دلاسکے لیکن فی الوقت کوئی تدبیر بر نہیں آرہی ہے اور اگر یوں کہیں کہ ساری کی ساری تدبیریں الٹی ہورہی ہیں تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ عملی طور اس وقت دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بے بسی کی مو رت بن چکی ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں بھی نہیں آرہاہے کہ اس عفونت سے نمٹا جائے تو کیسے۔ایسے حالات میں اب عالمی لیڈروں کے رول پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں اور ہر جانب سے یہ صدائیں بلند ہونے لگی ہیں کہ کیوں کر دنیا پاگلوںکی طرح ایک دوسرے کو تباہ کرنے کیلئے ہتھیاروں کی دوڑ میں لگی ہوئی تھی جبکہ ان کے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے ۔اب اس ب

کورونا آفت: ذمہ داریوں سے فرار بجا نہیں

کوئی بھی آفت متاثرہ علاقے اور لوگوں کو ویسا نہیں چھوڑتی جیسے وہ اس آفت سے پہلے ہوتے ہیں اور کورونا آفت جیسی ناگہانی آفت نے یقینی طور پر کسی مخصوص علاقہ کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے ۔اس آفت سے جو گہرے گھائو لگے ہیں ،اُن کو بھرنے اور ایک نئی شروعات کرنے میں بہت زیادہ وقت اور کوششیں درکار ہیں تاہم وہ اتنا آسان نہیں ہوگا اور اس میں بہت سارا وقت لگے گا کیونکہ کووڈ وباء کی وجہ سے عالم انسانیت نفسیاتی ،مالی اور سماجی اعتبار سے بالکل ہل چکی ہے ۔ ہر سطح پر ٹوٹ پھوٹ کے اثرات جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ یقینا خود سے قطعی نہیں ہونگے۔ ہمیں بنی نوع انسان کو کورونا وباء کی وجہ سے پیدا ہونے ان شدید ترین بحرانوں سے نکالنے کے لئے ادارہ جاتی کوششوں کی ضرورت ہوگی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بار معیشت کے پہیے حرکت کرنا شروع کردیں گے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اگرچہ یہ ایک طرح سے

ولر جھیل کو تباہ ہونے سے بچائیں

 ستمبر2014کا سیلاب کشمیر میں ہرسوتباہی پھیلاکرمکانات،پلوں،سڑکوں،کھیت اورفصلوں کوجہاں اپنے ساتھ بہالے گیا،وہیں لوگوں کو آنے والے برسوں کیلئے تلخ یادوں کاایک خزانہ بھی دے گیا۔اس تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ ماہرین کے مطابق متواتر حکومتوں کی براعظم ایشیاء کے سب سے بڑے میٹھے پانی کے جھیل ،ولر کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکامی تھی کیونکہ یہ جھیل ہرگزرتے دن کے ساتھ سکڑتی ہی چلی جاتی ہے۔نہ صرف اس جھیل میں آس پاس رہائش پذیرلوگوں نے مداخلت کرکے اس کے پانیوں پرناجائزقبضہ کیا،بلکہ محکمہ جنگلات نے جھیل کے اندر لاکھوں کی تعدادمیں درخت اُگاکردریائے جہلم کے بہاؤمیں رکاوٹ پیداکردی اور جب اس دریا کا بہاؤجوبن پرتھا،تویہ خطرناک سیلاب کاموجب بنا۔1911میں جھیل ولرکارقبہ217مربع کلومیٹر تھاجواب نصف سکڑچکاہے ۔ویٹ لینڈانٹرنیشنل کے مطابق جھیل ولرحکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے سالہاسال سے سکڑرہا ہے اوردریائے جہ

بجلی لائنوں پر انسانی جانوں کا کب تک ؟

گزشتہ کئی برسوں سے یہ اخبارمسلسل محکمہ بجلی میں فیلڈ سٹاف کی حالت زار کو اجاگر کر رہا ہے اور ارباب بست و کشاد کی توجہ محکمہ سے منسلک فیلڈ عملہ کے مشکلات کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کچھ سننے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو زمینی سطح پر محکمہ کی حالت بدل چکی ہوتی اور فیلڈ عملہ کی بے سرو سامانی کا عالم ختم ہوچکا ہوتا تاہم آج بھی یہ حالت ہے کہ محکمہ سے منسلک کیجول و ڈیلی ویجر مسلسل ترسیلی لائنوں کی مرمت کے دوران بے سرو سامانی کی حالت میں بجلی لائنوں اور ترسیلی کھمبوں پر ہی بجلی کرنٹ لگنے سے لٹک کر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ پچھلے ہی دنوںہم نے ایسا ہی ایک اور سانحہ وسطی کشمیر میں دیکھا جہاں ایسے ہی ایک نوجو ان کی زندگی ترسیلی کھمبے پر ہی ضائع ہو گئی اور اس کے اثرات اب خاندان میں برسوں تک ساتھ رہیں گے۔اس واقعے سے پہلے ہمارے پاس ایسے واقعا

شاہرائیں بنائیں ضرور لیکن ہمہ موسمی بھی ہوں؟

 مرکزی وزیر مملکت برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز و شہری ہوا بازی جنرل ( ریٹائرڈ ) ڈاکٹر وِی کے سنگھ نے گزشتہ روز جموں میںایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزارتِ زمینی ٹرانسپورٹ اور شاہرائوں کی طرف سے شروع کئے گئے بڑے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا ۔انہیں نیشنل ہائی وے انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب طرف شروع کئے گئے زیڈ موڈ ، زوجیلہ ٹنل ، قومی شاہراہ 144۔اے اورقومی شاہراہ۔244 جیسے دفاعی اہمیت کے لحاظ سے اہم پروجیکٹوں کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔مرکزی وزیر مملکت موصوف نے این ایچ اے آئی اور بی آر او کے مختلف جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور تمام جاری اہم پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل میں سرعت لانے کے لئے ہدایات جاری کیں۔مرکزی وزیر موصوف نے جموںوکشمیر میں 25نیشنل ہائی وے پروجیکٹوں کے لئے اِی۔ سنگ بنیاد رکھنے کے سلسلے میں 24 نومبر کو روڈ  ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے مرکزی

! بجلی کے نام پر بجلی گرانا بجا نہیں

 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔جوں جوں سردی بڑھتی چلی جارہی ہے ،اُسی رفتار سے بجلی بھی غائب ہوتی چلی جارہی ہے۔گزشتہ دنوں محکمہ بجلی نے جوکٹوتی شیڈول مشتہر کیاتھا،اُس میں اعلانیہ طور کہاگیا تھاکہ میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میںساڑھے دس گھنٹے بجلی نہیں رہے گی جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں یہ دورانیہ21گھنٹوں پر مشتمل ہوگا۔یوں نئے شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میں اعلانیہ روزانہ ڈیڑھ گھنٹے جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوںمیں روزانہ تین گھنٹوں کی کٹوتی ہوناتھی تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ جہاں میٹر والے علاقوں میں ان ڈیڑھ گھنٹوں کے علاوہ غیر اعلانیہ طور کم ازکم مزید 6گھنٹوںکی کٹوتی ہورہی ہے وہیں بغیر میٹر والے علاقوں میں بجلی سپلائی کی صورتحال یہ ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ یہ کب آتی ہے اور کب چلی جاتی ہے اور یوں عملی طور ان علاقوں میں10سے لیکر15گھنٹوں تک بجلی کٹوتی ہورہی ہے ۔اس پر ستم ی

کووڈ ا ور معیشت… اُمید کا دامن نہ چھوڑیں

دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے ۔ہمارے یہاں بھی صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے ۔یہاں بھی کورونا کی دوسری لہر ابھی بھی جاری ہے تاہم قدرے ٹھہرائو آچکا ہے اور کہیں کہیں تیسری لہر شروع بھی ہوچکی ہے ۔گوکہ پہلی لہر کی وجہ سے نڈھال معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا تھا اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثرتھیں تاہم دوسری لہرکی وجہ سے معیشت مزید کمزور ہو گئی ہے۔ موجودہ حالات آنے والے مشکل ترین ایام کی جانب ا

کوروناکے بڑھتے معاملات تشویش کُن

کیا کورونا وائرس نے ایک بار پھر سر ابھارنا شروع کردیا ہے ۔ ڈر یہ ہے کہ واقعی ایسا ہی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے۔پچھلے کچھ دنوں سے وائرس ایک بار پھر ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔متعلقہ حکام کے ذریعہ روزانہ کی بنیادوںپر کورونا وائرس کے حوالے سے جو اعداد و شمار جاری کئے جارہے ہیں ، وہ کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کررہے ہیں اور یقینی طور پر یہ اعداد وشما ر ہماری نیند اچٹ دینے اور ہمیں تساہل پسندی کے خول سے باہر نکالنے کیلئے کافی ہیں۔کورونا وائرس معاملات کی یومیہ تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے اور ہر روز ان کیسوں میں اضافہ درج کیاجارہا ہے جبکہ کچھ اموات کی بھی اطلاع ملی ہے ۔ یہ سب کچھ مہینوں کے طویل وقفے کے بعدہورہا ہے جب ہم نے سوچاتھا کہ مسئلہ بالآخر ختم ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ تیسری لہر کی بات بھی اب ایک قسم کا ہلکا مذاق بن چکی تھی۔ ہم جمع ہونے اور اکٹھے ہونے کے اپنے معمو

بیروزگاری سے خود روزگار ی

  ان دنوں کار آفرینی یا کاروبار قائم کرنے کی اہمیت پر بہت زیادہ بات ہو رہی ہے۔ جموں و کشمیر کی حکمرانی کے اعلیٰ ترین عہدیدارآئے روز اس موضوع پر رائے کا اظہار کرتے ہیں اور ہمیشہ نوجوانوںکی جانب سے کچھ کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیںجس سے نہ صرف وہ اپنی زندگی احسن طریقے سے گزار سکیں بلکہ دوسروں کے لئے روزگار بھی پیدا کرسکیں۔ قومی سطح پر ہم دیکھتے ہیں کہ سٹارٹ اپس کا تصوربھی بہت زیادہ مشہور ہے۔ اس سلسلے میں بھارت میں مرکزی اور ریاستی حکومت مختلف سکیموں کا اعلان کرتی ہیں اور ایسی پالیسیاں بناتی ہیں جو نوجوان اور تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنے کیریئر کے انتخاب کے طور پر کچھ چھوٹی یا درمیانے درجے کی صنعتی سرگرمیوں کی طرف راغب کرسکیں۔ یہاں جموں و کشمیر میں ہم نے پچھلے دو برسوں میں پایا کہ بہت سے نوجوانوں نے مارکیٹ سرگرمیوں کے مختلف شعبوں میں اپنا کاروبار شروع کیا ہے ا

کوچنگ مراکزکو جوابدہ بنایاجائے

 نامساعد حالات کے پیش نظرریاست کے موجودہ تعلیمی نظام میں نجی کوچنگ سنٹروں کی اہمیت وافادیت روایتی تعلیمی اداروں سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ۔ایک زمانہ تھا جب جموںوکشمیر میں کوچنگ کے لفظ سے لوگ آشنا ہی نہیں تھے اور ایک مخصوص طبقہ کے لوگ ہی اپنے بچوں کا ٹیوشن کرواتے تھے ۔اس زمانے میں عمومی طور ٹیوشن کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی کیونکہ تعلیم و تعلم کا نظام انتہائی عمدہ تھا ۔حد تو یہ ہے کہ اُس وقت نجی سکولوں کا بھی اتنا چلن نہیں تھا اور بیشتر بچے سرکاری سکولوں میں ہی تعلیم حاصل کرتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب اساتذہ کو قوم کے معماروں کے طور جانا جاتا تھا اور سماج میں انہیں انتہائی عزت کی نگاہوں کی دیکھا جاتا تھا کیونکہ اُس وقت اساتذہ بھی اپنے پیشے کو کمائی کے ذریعہ کے طور نہیں بلکہ مشن کے طور لیتے تھے اور وہ ایک مشن کے تحت بچوں کو پڑھاتے تھے ۔آج کل انتظامی ڈھانچے میں جو اعلیٰ آفیسران موجود ہیں

سڑک حادثات کا سلسلہ کب تھمے گا؟

 محکمہ ٹریفک کے مطابق گذشتہ 4برسوں میں جموںوکشمیرکے مختلف علاقوں میں سڑک حادثات کے دوران 4ہزارسے زائد شہری لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔ دیگر شاہرائوں کے ساتھ ساتھ سرینگرجموںقومی شاہراہ پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے خونین حادثات نے ایک بار پھراس شاہراہ کی تعمیرو و تجدید کیلئے ایک موثر اور تخلیقی منصوبے کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے۔ دنیا بھر میں شاہرائوں کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک اہم ترین شاہراہ جو اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑنے کا واحدزیر استعمال زمین ذریعہ بھی ہے، دردناک اموات کی علامت بن کررہ گئی ہے۔یہ حادثے اور اس میں ہوئی اموات دراصل دہائیوں سے اس موت کی شاہراہ پر ہونے والے لاتعداد حادثات اور ہزاروں اموات کا تسلسل ہے۔المیہ بھی یہی ہے کہ مسلسل حادثات اور اموات کے باوجود اب تک کسی بھی حکومت نے سرینگر۔ جموںقومی شاہراہ کی تجدید نو