نفسیاتی امراض … خاموش طوفان رُکے گا کیسے؟

وادی کشمیرمیںذہنی تنائوسے پیدا ہونے والے امراض ، خود کشی کے واقعات اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے جس طرح چونکا دینے والے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،اُن سے وادی کے ذی حس طبقہ کی نیندیں اُچٹ جانی چاہئیں ۔نفسیاتی امراض میں مبتلاء لوگوں کے بارے میں جو اعداد و شمار ا ٓرہے ہیں ،ان پر اگر چہ کئی لوگوں کو اعتراض ہے لیکن اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا کہ رواں نامساعد حالات کے چلتے وادی میں روز افزوں نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔اس سلسلے میں کئی مقامی اور بین الاقوامی رضاکار تنظیموں نے سروے کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرہ ارض کے اس خطہ میں نامساعد حالات میںنہ صرف جوانوں کی ایک کثیر تعداد ذہنی طور سو فیصد توانا نہیں بلکہ بچے ،بزرگ اور خواتین بھی اعصابی اضمحلال اورذہنی تنائو کے شکار ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق پر تنائو صورتحال اور تشدد کے واقعات نے کشمیری سماج کے قلب و

ڈل جھیل کی بحالی… دلّی ہنوز دور است

ڈل جھیل ،نگین،آنچار اور خوشحال سر آبی ذخائرکی تازہ پیمائش کی گئی ہے جس کے مطابق ڈل اور نگین کا رقبہ 50432کنال اراضی ہے جس میں 39226آبی ذخائر اور 10206کنال اراضی خشکی ہے جبکہ تازہ ترین پیمائش کے مطابق خوشحال سر کارقبہ 1791کنال اراضی ہے جس میں 1701آبی ذخائراور 90کنال خشکی ہے۔جبکہ مزیدایک ہزار کنال اراضی بھی ڈل کی وسعتوںمیں شامل کی جائے گی۔جہاں تک آنچار جھیل کا تعلق ہے تواس  کا رقبہ40728کنال اراضی ظاہر کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پیمائش جدید آلات اور ریموٹ سنسنگ سٹیلائٹ کے ذریعے کرائی گئی ہے۔مزید بتایا جارہا ہے کہ نہ صرف ڈل کے مکینوں کو رکھ آرتھ منتقل کر نے کے بعد ان کی املاک کو مہند م کرکے انکو بھی آبی ذخائر میں منتقل کیا جائے گا۔ اگر واقعی زمینی سطح پر ڈل جھیل کی بحالی کیلئے اتنا کام ہوا ہے تو یہ حوصلہ افزا ہے اور اس سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ ڈل کی شان رفتہ بحال ہوسکے گی ل

بے ہنگم تعمیرات اور بے ڈھنگی پالیسیاں

 غذا کیلئے زرعی اراضی کا ہونا ضروری ہے۔ساری غذا زمین سے پیدا کی جاتی ہے۔ایسے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمین کے بغیر خوراک کا تصور محال ہے لیکن اس کے باوجود زرعی زمین کو غیر زرعی استعمال میں لایا جارہا ہے۔ لاکھوں کنال زرعی زمین کو پختہ جنگل میں تبدیل کیا گیا۔ایک وقت تھا جب کشمیر خوراک کے معاملے میں کم و بیش خود کفیل تھا لیکن آج حالت یہ ہے کہ جواہر ٹنل چند دن بند ہوجاتی ہے تو کہرام مچ جاتا ہے ۔سرکار نے علامتی طور آبی زمین کےتعمیرات کے استعمال پر پابندی تو عائد کردی ہے لیکن سرکار کی ناک کے نیچے بلکہ خود سرکار کے بیشتر اعلیٰ عہدیداروں نے آبی زمین پر ہی اپنے نشیمن تعمیر کئے ،نتیجہ یہ ہوا کہ زرعی زمین سکڑتی گئی اور اب دانے دانے کیلئے جموںوکشمیرکو پنجاب اور دیگر ریاستوں سے درآمد ہونے والے اناج کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔چاولوں سے لیکرگندم اور یہاں تک کہ سبزیاں بھی باہر سے آتی ہیں۔مردم

انتظامی مشینری …بہتری ہنوز دُور است!

سرما کی کٹھن سردی کے دوران کشمیر سے ناطہ توڑ کر جموں کی گرم ہوائوں میں اس بار8ماہ گزارنے کے بعد بالآخرسرینگر میںسیول سیکریٹریٹ کھل گیا ۔اس موقعہ پر لیفٹنٹ گورنر نے انتظامی سیکریٹریوں کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں اُن سے کہاگیا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے ازالہ کیلئے تمام اضلاع میں جانے کا پروگرام ترتیب دیں گے تاکہ برسر موقعہ عوامی مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل کی کوئی سبیل نکالی جاسکے ۔میٹنگ کی روداد کے حوالے سے جو سرکاری بیان جاری کیاگیا ،اُس میں انتظامی مشینری کی فعالیت کے حوالے سے زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ اقتدار و اختیار کی اعلیٰ کرسیوں پر براجمان حضرات کے منہ سے بات نکلے توسادہ لوح عوام اسے حتمی تصور کر لیں ،شاید ایسا دنیا میں کہیں ہوتا ہو لیکن جموں و کشمیر میں بالعموم اور کشمیر وادی میں بالخصوص یہ باتیں کسی کے پلے نہیں پڑتیں ۔کشمیری عوام سیاسی طور انتہائی بالغ اور الفاظ کی

جنگلی جانوروں کے حملے ،ذمہ دار کون؟

کورونا کی ہلاکت خیز وباء کے بیچ ہی گزشتہ کچھ دنوں سے وادی اور جموں کے پہاڑی و جنگلاتی علاقوں سے مسلسل ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ جنگلی جانور انسانی آبادی پر حملہ آور ہورہے ہیں۔کشمیر کے سرحدی علاقوں کرناہ و کیرن سے لیکر اوڑی تک جموں میں پونچھ سے لیکر چناب اور کٹھوعہ و سانبہ کے جنگلاتی علاقوں تک انسان اور وحوش کے درمیان تصادم آرائی اب معمول بن چکی ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر جموںوکشمیر کے جنگلات کو جنگلی جانور صدیوں سے اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ہی یہ جنگلی جانور ان خونخواربن چکے ہیں کہ انہیں انسانوں کے لہو کا چسکا لگ چکا ہے جبکہ اس سے قبل اس طرح کی شکایت نہیں تھی۔ماہرین کے نزدیک انسانی آبادی میں جنگلی جانوروں کی یلغار کی سب سے بڑی وجہ جنگلی جانوروں کے مسکن میں انسانوں کی بیجا مداخلت اور ان گھر کو برباد کرنا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم نے د

کورونا وبا… لاپرواہی چھوڑ کر ہوش کے ناخن لیں

یونین ٹریٹری میں کورونا کے حوالے سے جو نئی درجہ بندی کی گئی ہے وہ قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔وادی کشمیر میں صرف ایک ضلع بانڈی پورہ کو چھوڑ کر باقی سبھی اضلاع ریڈ زون میں رکھے گئے ہیں جبکہ جموں میں رام بن ضلع ریڈ زون میں ہے۔کٹھوعہ ، سانبہ ، گاندربل ، ریاسی ، اودھمپور، پونچھ ، راجوری اور جموں کو اورینج زون اور خطہ چناب کے ڈوڈہ و کشتواڑ اضلاع کو گرین زون میں شمار کیا گیا ہے۔ حکومت کی نئی درجہ بندی اور بندشوں کی تفصیلات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں صورتحال قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔یہاں مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں اور روزانہ 100سے200کے قریب نئے معاملات کاسامنے آنا معمول بن چکا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ قطعی طور کوئی اطمینان بخش صورتحال نہیں ہے اور اس طرح متواتر کیسوں کا سامنے آنا انتظامیہ کیلئے ہی نہیں بلکہ سماج کیلئے بھی پریشان کن ہی ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کور

کشمیرمیں کشمیری زبان مفلوک الحال کیوں؟

 کشمیری زبان کی زبوں حالی پر آج کل بہت سے لوگ ماتم کناں ہیں ۔کچھ حکومت کی عدم توجہی پر نالاں توکچھ اپنی غفلت پر خفالیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ زبان اپنی آن بان اور شان کھورہی ہے ۔آج کی نئی نسل کیلئے شاید یہ کوئی اتنی اہم زبان نہ ہو لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری زبان کی جڑیں انتہائی گہری ہیں ۔یہ زبان ہمیں یوں ہی اپنے آبا و اجداد سے ورثے میں نہیں ملی ہے بلکہ اس زبان کو زندہ رکھنے کیلئے کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔تاریخی اعتبار سے کشمیر میں صدیوں تک کبھی سنسکرت،کبھی فارسی ،اور پھر اُردو کے غالب اثرات رہے اور مختلف ادوار میں برسر اقتدار لوگوں نے اس عمل کا سیاسی استعمال بھی کیا ، جس کی وجہ سے کشمیری زبان یقینی طور پر نشانہ بنتی رہی۔کشمیری زبان ان سب مشکلات کے باوجود گوکہ آج کل غریب ہے ،لیکن زندہ ہے۔یہ کوئی کل کی زبان نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔1919میں جارج ابر

جموں میں گرمی کی شدت

سالانہ دربار کی جموںسے سرینگر منتقلی سے قبل ہی جموں صوبہ میں بجلی کا بحران شدیدترہوتاجارہاہے ۔اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوجاتے ہیں لیکن امسال دربار سے قبل ہی اس صورتحال کا سامناہے اور جموں شہر میں کٹوتی کے وقت بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال ہوجاتے ہیں ۔پچھلے چند روز سے گرمی بڑھ جانے کے ساتھ ہی جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی شروع کردی گئی ہے ۔ حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔ان دنوں صوبہ کا ٹھیک وہی حال ہے جو سردیوں میں اہلیان کشمیر کاہوتاہے۔پہاڑی خطوں وادی چناب اور پیر پنچال میں بجلی کی فراہمی کا توکوئی شیڈول ہی نہی

کورپشن کیخلاف جنگ

کورپشن کے خلاف جنگ میں اینٹی کورپشن بیورو نامی انسداد رشوت ستانی ادارہ کا قیام جب عمل میں لایاگیاتھا تویہ تاثُر دیا جارہا تھا کہ اب رشوت خوروں کی خیر نہیں ہے ۔سابق گورنر ستیہ پال ملک بار بار کہہ رہے تھے کہ جموں وکشمیر میں کورپشن عام ہے اور اس ضمن میں وہ بارہا مثالیںبھی دیتے تھے ۔اینٹی کورپشن بیورو اُن کے دور میں ہی بنا۔انہوںنے تمام سرکاری افسران سے جائیداد کی تفصیلات جمع کرنے کو لازمی قرار دیا تھا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آمدنی سے زیادہ جائیداد کس کے پاس ہے ۔گوکہ وہ تفصیلات تقریباً جمع کی گئی تھیں اور اس کے بعد ستیہ پال ملک کوگوا کے ساحلوں پر آرام کرنے کیلئے بھی بھیج دیاگیا لیکن عمل ہنوز مفقود ہے ۔ گوکہ جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کی موجودہ انتظامیہ کی نیت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس نئے نظام کا ابتدائی مرحلہ ہے اور لیفٹیننٹ گورنر نے بھی اس حوالے سے کافی بیانات دئے تاہم یہ

! بی ایس این ایل…نام بڑے اور درشن چھوٹے

آج سے17ال قبل وادی میں جب بی ایس این ایل کی موبائل فون سروس شروع ہوئی تھی، تو عام لوگوں کو یہ گمان گزرا تھا کہ وہ ترسیل و ابلاغ کے حوالے سے ایک بڑی جست لگا کر قدامت کی سرحدوں کو پھاند رہے ہیں،لیکن روزِ اول سے ہی ثابت ہوگیا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کی سروس لمیٹڈ ہونے کے ساتھ ساتھ صارفین کی ضروریات اور جذبات کے معاملے میں نہ صرف تہی دامن واقع ہوا ہے،بلکہ بے حسی کے پنگوڑے جھولنے میں مصروف ہیں۔ پہلے پہل بنیادی ڈھانچے کی کمی کو وقت کے ساتھ ساتھ پورا کرنے کی بی ایس این ایل کی یقین دہانیوں پر صارفین بھی صدق دلی کے ساتھ اعتبار کر رہے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانیاں بھونڈا مذاق ثابت ہوئیں، کیونکہ سروس میں کسی قسم کی بہتری پیدا ہونے کی بجائے بگاڑ میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگرچہ اس وقت وادی کے سیل فون مارکیٹ میں مزید کئی کمپنیاں بھی موجود ہیں ، جنہوں نے دھوم مچا رکھی ہے ۔ تجارتی اصولو

! سماجی تانے بانے کا بکھرائو | وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت

گوکہ 5اگست 2019کے بعد جموں و کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹنٹ گورنر سرکارچلا رہے ہیں تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میںکورونا وباء کے باوجود گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے اس سماج کی بنیادیں کمزور ہونے کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں اخبارات میں شائع ہورہی ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی جیسے چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی ق

منشیات…خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے!

پوری دنیا کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی گزشتہ روز یعنی26جون کو منشیات مخالف عالمی دن منایاگیا۔33برس قبل7دسمبر1987کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرکے 26جون کو چینی شہر ہیومن گینگ ڈانگ افیون مخالف جنگ کے دوران افیون کی مکمل کاشت تباہ کرنے کی یاد میں ہرسال 26جون کو ہی منشیات کے استعمال اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف عالمی دن منانے پر زور دیا اور مقصد یہ تھا کہ دنیا کو منشیات کی لت سے آزاد کیاجائے ۔جب سے اب تک یہ دن ہر سال بڑے ہی طمطراق کے ساتھ منایاجا رہا ہے اور اس دن کی مناسبت سے منعقدہ تقاریب میں منشیات سے چھٹکارا پانے پر زور دیاجاتا ہے ۔جہاں تک ہماری وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چند دہائیاں قبل کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمبا کو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم

بے روزگاروں پر یوں قہر نہ ڈھائیں!

 گزشتہ دنوں جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامی کونسل نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ میں سرکاری ملازمتوں میں پروبیشن کی مدت کم کرکے5سے 2سال کرنے کو منظوری دی ۔اس فیصلہ کا سماج کے سبھی طبقوں نے خیر مقدم کیا کیونکہ یہ حقیقی معنوں میں بہت بڑی ناانصافی تھی اور خاص کر جب خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کے بعد جموںوکشمیر کے درجہ کی تنزلی کرکے اس کو یونین ٹریٹری بنایا گیا تو باقی ملک اور جموںوکشمیر کے درمیان ایسا کوئی امتیاز رکھنے کا جواز نہیں بنتا تھا۔دراصل سابق ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ ہی غلط تھا اور اُس وقت بھی عوامی سطح پر اس کی شدید مخالفت کی گئی تھی لیکن چونکہ یہاں کا با وا آدم ہی نرالا ہے تو یہاں ارباب اختیار اپنے آپ کو عقلِ قُل سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک جس عقل و دانش کی انتہا پر اُن کا عبور ہے ،کوئی عام شہری وہاں تک پہنچنے کی ہمت نہیں کرسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر و بی

دیہی خواتین کے تئیں غیر سنجیدگی کیوں؟

نیشنل ہیلتھ مشن یاقومی صحت مشن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مجموعی طور دیہی علاقوںمیں طبی سہولیات بہتر بنانے کے علاوہ خصوصی طور پر زچگی کے دوران نوزائیدوں کی شرح اموات میں کمی لانے کیلئے ادارہ جاتی زچگی کو فروغ دیا جائے ۔گوکہ اس مشن کے نتیجہ میں ہسپتالوں میں ہونے والی زچگی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے تاہم دیہی علاقوں کے طبی مراکز میں آج بھی ماہر امراض خواتین کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ماہر ڈاکٹروںکی عدم موجودگی میں محض ووٹ بنک سیاست کیلئے ایک کے بعد ایک زچگی مراکز کھولے جارہے ہیں۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق دیہی کشمیر کے تقریباً ساٹھ ہسپتالوں میںمحض 44ماہر امراض خواتین تعینات ہیں جبکہ انڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈارڈ کی جانب سے وضع کردہ ضوابط کے مطابق ہر ضلع ہسپتال میں کم از کم دو جبکہ ہرکمیو نٹی ہیلتھ سنٹر یا سب ضلع ہسپتال میں ایک ماہرامراض خواتین تعینات ہونا چاہئے ۔دیہی طبی سہول

ماحولیاتی آلودگی

گزشتہ دنوں 5جون کو عالمی یوم ماحولیات ’’وقت قدرت کا ہے ‘‘کے نعرے کے تحت منایاجاچکا ہے اور5 جون کے بعد سے اب تک مسلسل عالمی سطح پر جنگلات کی اہمیت و افادیت اُجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ روز ہی ایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات پر مفصل روشنی ڈالی۔ زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرہ ارض پر ڈیڑھ کروڑ انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔انسان نے ترقی کے لئے قدرتی جنگلات کا کافی بڑا حصہ صاف کردیا ہے۔ مچھلیوں کے ذخیرہ کا تین چوتھائی حصہ ختم کرڈالا ہے ،پانی ک

! عالمی یومِ پدر …جیسی کرنی ویسی بھرنی

گزشتہ روز بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں فادرز ڈے یعنی عالمی یوم والد منایا گیاجس کا مقصد بچے کیلئے والد کی محبت اور تربیت میں والدکے کردار کو اُجاگر کرنا ہے۔ فادز ڈے (Fathers Day) کو منانے کا آغاز 19جون 1910میں واشنگٹن میں ہوا۔ اسکا خیال ایک خاتون سنورا سمارٹ ڈیوڈ نے اس وقت پیش کیا جب وہ1909 میں مائوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھیں۔ماں کے مرنے کے بعد سنورا کی پرورش انکے والد ولیم سمارٹ نے کی۔وہ چاہتی تھیں کہ اپنے والد کو بتاسکیں کہ وہ ان کیلئے کتنے اہم ہیں۔ چونکہ ولیم کی پیدائش جون میں ہوئی تھی، اس لئے سنورا نے 19جون کو پہلا یومِ پدر منایا۔1926میں نیویارک سٹی میں قومی سطح پر ایک فادرز کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ اس دن کو 1956میں امریکی کانگریس کی قرارداد کے ذریعے باقاعدہ طورپر تسلیم کرلیا گیا۔ 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے قومی سطح پر یہ دن منانے کیلئے جون کی تیسری ات

مسلکی انتشار…ملت کا شیرازہ بکھر نہ پائے!

 جموں و کشمیر،خاص کر وادیٔ کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصہ سے کورونا کی عالمگیروباء کے بیچ ہی آن لائن اور آف لائن مناظرہ بازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے ،اُس نے ذی حس طبقوںکو انتہائی مضطرب کردیا ہے اور گزشتہ چند روز سے سوشل اور روایتی میڈیا کے توسط سے مسلسل اپیلیں کی جارہی ہیں کہ اس طرح کی تفرقہ بازی سے اجتناب کیا جائے۔مقامی سیول سوسائٹی نے بارہاعلمائے دین اور مذہبی جماعتوں کو معاملہ کی نزاکت سمجھتے ہوئے آپسی اخوت کو فروغ دینے کی تاکید کرتے ہوئے مسلکی اور گروہی افتراق کو پنپنے نہ دینے کی اپیل کرکے عوام سے کہا کہ وہ دین کے بنیادی عقائد پر جمع ہوکر آپسی اتحاد واتفاق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بنیادی عقائد ایک ہیں تو پھر جھگڑوں کا کیاجواز بنتا ہے؟ ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اخوت اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے مگرجموںوکشمیر میں بالعموم اور وادی

سرینگر جموں قومی شاہراہ …ایک نظر اِدھر بھی !

  کشمیر کی شہ رگ کہلائی جانے والی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر جس طرح ٹریفک جام معمول بن گیا ہے ،وہ مستقبل قریب میں پیش آنے والی نئی ہولناکیوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔شاہراہ پر ٹریفک جام کا یہ عالم ہے کہ سرینگر سے جموں تک محض10گھنٹوں کا سفر اب20کیا ،30گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا ہے ۔  شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کی یہ عام شکایت رہی کہ بلا اعلان یکطرفہ کی بجائے شاہراہ پر دوطرفہ ٹریفک چھوڑا جاتا ہے جس کے نتیجہ میںشاہراہ پر ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں کی دو رویہ کھڑی قطاریں لگ جاتی ہیں اور ان کے درمیان ٹھُنسی ٹھُنسی چھوٹی گاڑیوں کی وجہ سے کسی طرف نکلنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی شاہراہ پر حادثہ پیش آتا ہے تو فوری بچائو کارروائیاں بھی ممکن نہیں ہوپاتی ہیں کیونکہ حادثہ کے شکار لوگوں کو طبی امداد فوری طور بہم ہی نہیں ہوپاتی ہے۔ٹریفک نظام کی اس بدنظمی کی وجہ

پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر فوری حکومتی توجہ کا طلبگار

کورونا وباء کے بیچ ملک گیر سطح پر معمولات زندگی بحال کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے یہاںجموںوکشمیر میں بھی معمولات زندگی بتدریج بحالی کی طرف گامزن ہیں اور کافی حد تک زندگی پٹری پر لوٹ آئی ہے ۔دکانات اور کاروباری ادارے کھُل چکے ہیں۔کارخانے بھی چالو ہوچکے ہیں اور تعمیراتی سرگرمیاں بھی پھر سے شروع ہوچکی ہیں تاہم ایک طبقہ مسلسل پستا ہی چلا جارہا ہے اور وہ ہے ٹرانسپورٹ سے وابستہ طبقہ ۔عملی طور دیکھا جائے تو ٹرانسپورٹ سیکٹر گزشتہ اگست سے ہی بند پڑا ہے ۔بے شک سرما کے دوایک ماہ ٹرانسپورٹ چلا تھا لیکن مارچ میں پھر سب مسافر گاڑیوں کے پہئے جام ہوگئے اور آج حالت یہ ہے کہ سبھی گاڑیاں کھڑی ہیں۔گوکہ گزشتہ چند ایک روز سے چند مخصوص اور گنے چنے روٹوںپر چھوٹی مسافر گاڑیاں چلنا شروع ہوگئی ہیں تاہم 95فیصدپبلک ٹرانسپورٹ ابھی بھی سڑکوں پر نہیں لوٹا ہے ۔سرکار نے بے شک کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے میں دلچسپی

یہ اُچھلنے کا نہیں،سنبھلنے کا وقت ہے !

جموںوکشمیر میں کورونا لہر تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں۔اسی بیچ حکومت نے معمولات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے اور گزشتہ تین روز سے وادی اور جموں صوبوں کے بیشتر قصبے سلسلہ وارانداز میں کھولے جارہے ہیں۔گزشتہ چند روز سے بازاروں میں جس طرح چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے ،اُس سے تو بظاہر لگ رہا ہے کہ زندگی پٹری پر لوٹ آئی ہے تاہم یہ سب خطرے سے خالی نہیں ہے ۔بلا شبہ ہم مزید بندشوں کے متحمل نہیںہوسکتے تھے کیونکہ ہماری معیشت وینٹی لیٹر پر چلی گئی ہے تھی تاہم معاشی سرگرمیاں بحا ل کرتے وقت ہمیں یہ بات ذہن میںرکھ لینی چاہئے کہ کورونا وائرس کہیں گیا نہیں ہے ۔حکومت نے اَن لاک کرکے دراصل گیند اب عوا م کے پالے میں ڈال دی ہے اور اب یہ لوگوںکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا خیال رکھتے ہوئے اپنی معمول کی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں ۔گزشتہ تین روز سے بازاروں میں جس طرح بھیڑ بھاڑ د