تازہ ترین

! رمضان کے بعد اب ہے اصل امتحان

اب جبکہ رمضان المبارک کا بابر کت اور مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہونے والا ہے اور کچھ ہی دنوں میںہم عید کی خوشیاں منارہے ہونگے جو واجب بھی ہیں تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لمحے،یہ دن ،یہ ماہ وسال اصل میں ہماری زندگی کے کم ہورہے ہیں اور ہر گزرنے والا لمحہ ہمیں موت کے قریب لے جاتا ہے ۔رمضان المبارک اپنی پوری آب و تاب کے اگلے سال پھر وارد ہوگا لیکن کیا پتہ ،اُس سال کس کو موت سے رستگاری ملی ہوگی اور اس کو اگلے رمضان کے روزے رکھنا نصیب ہو۔زندگی انتہائی قلیل ہے اور اس قلیل زندگی میں کام بہت ہیں۔رمضان کے تین عشروں میں روزے رکھ کر اور نمازیں اد اکرکے بے شک ہم سکون محسوس کررہے ہیں لیکن رمضان کے بعد اصل امتحان اب شروع ہوگا۔رمضان المبارک بنیادی طور پر ایک تربیتی کورس ہے کہ ایک مسلمان کو سال کے بارہ ماہ اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے ۔امتحان یہ ہے کہ جس طرح رمضان المبارک میں ہم نے اللہ کی خوشنودی کیلئے اپنی

مغل شاہراہ …ٹنل کے آخر پر روشنی بھی توہوگی؟

 خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ مسلسل ٹریفک کیلئے بند ہے۔ایک طرف حکومت نے اس شاہراہ کے تئیں سنجیدگی ظاہر کرنے کیلئے اس کی دیکھ ریکھ کی خاطر محکمہ تعمیرات عامہ نے ایک الگ ڈویژن ’’مغل روڈ ڈویژن‘‘کے نام سے قائم کیا ہوا ہے تاہم دوسری جانب حالت یہ ہے کہ یہ شاہراہ ایک رابطہ سڑک تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ اس سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے ۔یہ شاہراہ ، جس کا تخیل مرحوم شیخ محمد عبد اللہ نے پیر پنچال خطہ کے لوگوں کو وادی کے ساتھ جوڑنے اور ان کی اقتصادی حالت میں بہتری لانے کی غرض سے دیا تھا ، اب یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے تاہم سرما کے 4سے6ماہ کے دوران جب یہ بند ہو جاتی ہے تو خطہ کے لوگوں کا انحصار دوبارہ جموں۔ سرینگرقومی شاہراہ پر ہو جا تا ہے جس کے باعث اس کی افادیت پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ بفلیاز اور شوپیاں کے درم

کورونا کا قہر…اختراعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت

کورونا متاثرین کے حوالے سے مقامی اور ملکی سطح پر جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں،وہ پریشان کن ہی نہیں بلکہ نیندیں اچٹ دینے والے ہیں۔گزشتہ روز جموںوکشمیر میں 47سو کے قریب افراد کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی ۔اسی طرح آج جو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کورونا اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیں،وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔مذکورہ وزارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشما ر کے مطابق ملک میںیومیہ کورونا اموات کی تعداد بڑھ کرقریب3800ہوگئی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی یومیہ تعداد تقریباً4لاکھ کے آس پاس ہے ۔ ملکی سطح پر روزانہ 4 لاکھ کے قریب نئے کورونا معاملات کا سامنے آنا پریشان کن ہے اور جو رجحان بنا ہوا ہے ،اس کے مطابق اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلائے گا کیونکہ ابتداء میںیہ تعداد سو سے کم سے شروع ہوکر پہلے کافی وقت تک سینکڑوں میں چلی ،پھر ہزار اور پندرہ س

کورونا مخالف جنگ…رکنا نہیں ہے !

 جموں وکشمیر حکومت میں جوں جوں کورونا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے ،حکومت کی جانب سے اس کے خلاف جنگ میں بھی شدت لائی جارہی ہے او ر یوٹی انتظامیہ کی جانب سے ہر وہ قدم اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے یہ لڑائی قدرے آسان ہوجائے ۔تازہ ترین فیصلوں میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے اس مہاماری سے پہلی صف میں لڑنے والے طبی و نیم طبی عملہ کی قلت پر قابو پانے کیلئے جہاں مئی سے نومبر 2021کے درمیان نوکریوں سے سبکدوش ہونے والے سبھی ڈاکٹروں کی معیاد ملازمت میں دسمبر2021تک توسیع کردی اور انہیں دسمبر تک مسلسل کام کرنے کے قابل بنایا جس سے ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد ہمارے طبی کو مسلسل دستیاب رہ سکتی ہے وہیں فرنٹ لائن ورکروں کو خصوصی مراعات دینے کا بھی اعلان کیاگیا ۔اب کورونا سے براہ راست نمٹنے والے طبی عملہ کو ماہانہ 10ہزار روپے کا خصوصی الائونس مئی سے دیا جائے گا جبکہ نیم طبی عملہ کو 7ہزار اور صفائی کرمچ

کورونا وباء اور رمضان کا تقاضا

 رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ایسے حالات میں جاری ہے جب پوری دنیا سمیت ہمارا ملک بھارت اور جموںوکشمیر بھی کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے جوجھ رہا ہے اور عملی طور تقریباً ساری دنیا لاک ڈائون میں ہے ۔دنیا بھر میں یہ مہینہ اپنے ساتھ برکتیں لاتاتھا اور بازاروں میں خاصی چہل پہل ہوا کرتی تھی لیکن اب کی بار بازاروں میں وہ رونق نہیں ہے۔مساجد،خانقاہوں اور زیارت گا ہوں میں کووڈ ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جارہا ہے ۔یہ لمحات یقینی طور پر آزمائش کے ہیں اور ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے ۔ ماہ مبارک کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس مہینہ میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے صدقات ،عطیات اور زکواۃ ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے تھے تاہم اس بار اس طرح کے حالات رمضان کے پہلے ہی پیدا ہوئے اور ہمیں اپنے ضرورتمند بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آنا پڑا تاہم ابھی یہ کام ختم نہیں ہوا ہے اور اس وقت بھی ہ

الیکشن ہوگئے ،اب مل کر کچھ کام بھی کریں!

 ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کل نتائج آنے کے ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچ گئے ۔چناوی نتائج سے یہ واضح ہوگیا کہ لوگوں نے کارکردگی کی بنیاد پر پارٹیوں کو ووٹ دیکر کامیابی اور ناکامی سے دوچارکردیا۔کہاں ،کس پارٹی کی جیت ہوئی ہے ،اس سے قطع نظریہ دراصل جمہوریت کی جیت ہے او ر کورونا کے ہلاکت خیز ماحول میں بھی عوام نے جس طرح جمہوریت کے جشن میں حصہ لیا ،وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ملک بھارت میں جمہوریت کی جڑیں کافی مضبوط ہوچکی ہیں اور لوگ مکمل طور اس جمہوری نظام سے جڑ چکے ہیں اور انہیں اسی نظام میں ہی اپنے سارے مسائل کا حل بھی نظر آرہا ہے ورنہ حالیہ الیکشن کے دوران بہت کوششیں ہوئی تھیں کہ ایک نہیں تو دوسرے بہانے لوگوں کو الیکشن عمل سے بد ظن کیاجائے لیکن لوگوں نے ان کوششوں کو ناکام بنا کر جس طرح الیکشن عمل میں حصہ لیا ،وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارت کے سو ا سو کروڑ سے

کشمیر ریل پروجیکٹ کب مکمل ہوگا؟

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ ایک سال کے وقفہ کے بعد بانہال ۔بارہمولہ ریل سروس دوبارہ شروع کی گئی ہے ۔گوکہ ابھی دو ہی ریل گاڑیاں چل رہی ہیں تاہم آنے والے دنوں میں ریل گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرکے اس کو معمول پر لاجائے گاجس سے یقینی طور پر لوگوں کو راحت ملے گی تاہم ریل سفر کا اصل فائدہ کشمیری عوام کو تب ملے گا جب کشمیر ریل پروجیکٹ مکمل ہوگا اور بارہمولہ کا ریلوے سٹیشن ادہم پور ریلوے سٹیشن سے جڑ جائے گا۔ سابق ریاستی حکومت نے کہاتھا کہ جموں وکشمیرکو بیرون ملک کے ساتھ سال 2017تک ریل سروس کے ذریعے جوڑا جائیگا اور یہ کہ ادھمپور سے سرینگر تک ریلوے لائن 2017میں مکمل ہوگی تاہم یہ ڈیڈلائن بھی فیل ہوگئی اورپھر2020تک کٹرہ قاضی گنڈ 111کلومیٹر سٹریچ کو مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا لیکن وہ ڈیڈلائن بھی پوری نہ ہوسکی جس کے بعد اب15اگست2022کی ایک اور ڈیڈ لائن خود وزیراعظم نریندر مودی نے مقرر کی ہے

بارشوں سے سیلاب کا ڈر کیوں لگے؟

 حالیہ چند روز کی بارشوں کے بعد لوگ پریشان ہونے لگے تھے کہ کہیں سیلاب نہ آئے اور محکمہ آبپاشی و انسداد سیلاب کو بار بار لوگوںکو کہنا پڑا کہ سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔دراصل لوگوں کا خوف بھی بے وجہ نہیں ہے کیونکہ2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد عملی طور ممکنہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو روکنے یا کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کیاگیا ہے۔2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ اولین فرصت میں دریائے جہلم کی کھدائی عمل میں لاکر اس کے کناروں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کیاجائے گا۔سیلاب کو آئے اب سات سال ہونے والے ہیںلیکن حکومتی اعلان حکم نواب تادر نواب ہی ثابت ہوا ۔نہ ہی جہلم کی کھدائی عمل میں لائی اور نہ ہی اس کی معاون ندیوں کو وسعت دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جہلم سمیت تمام ندی نالوں اور دیگر آب گاہوں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم بھی دم توڑ بیٹھی ۔س

بجلی کا ناقص سپلائی نظام

  جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کی انتظامیہ نے اس بات کا عزم کیا ہوا ہے کہ آنے والے دو ایک برسوں میں دونوں صوبوں میں بجلی میٹروں کی صد فیصد تنصیب یقینی بنائی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ جموں اور سرینگر شہروں میں زیر زمین بجلی کیبلنگ کا منصوبہ بھی در دست لیاجارہا ہے ۔کشمیر اور جموں صوبوں کی پاور کارپوریشنوں کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبان آئے روز بتا رہے ہیں کہ میٹرنگ کا عمل ہنگامی بنیادوںپر سبھی قصبہ جات کے علاوہ دیہات میں بھی مکمل کیاجائے گا تاکہ بجلی کا منصفانہ استعمال یقینی بنایا جاسکے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میٹر لگانے سے بجلی کا منصفانہ استعمال کافی حد تک یقینی بنایا جاسکتا ہے اور لوگ میٹر لگانے کیلئے تیار بھی ہیں تاہم  پوری انتظامی مشینری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ میٹر لگوانے کے باوجود بھی صارفین کو بجلی مناسب انداز میں سپلائی نہیں کی جاتی ہے ۔جموںوکشمیر میں جب میٹر لگانے ک

جموںوکشمیر پالی تھین سے کب پاک ہوگا؟

 کسی زمانے میں عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تاہم یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون کی کتابوں تک ہی محدود رہا جبکہ عملی طور متعلقہ حکام کی ناک کے نیچے جموںوکشمیرمیں پالی تھین کا استعمال شدومد سے جاری ہے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ مئی 2009میں پالی تھین لفافوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیاگیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ حکومت12 سال قبل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پالی تھین لفافوں کو وادی میں برآمد نہیں ہونے دینا ہے اور اس کے استعمال پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے ، اس ضمن میںکثیر رقومات خرچ کرکے عوام کیلئے جانکاری مہم شروع کی جاتی ہے، سمیناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے، غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود 12 سال بعد حکومت آج بلا جھجھک یہ اعتراف کرلیتی ہے کہ پالی تھین لفاف

کورونا وبا… لاپرواہی تناہ کُن ثابت ہوسکتی ہے!

 جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں کورونا کے حوالے سے جو نئی درجہ بندی کی گئی ہے وہ قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔وادی کشمیر میں صرف ایک ضلع بانڈی پورہ کو چھوڑ کر باقی سبھی اضلاع ریڈ زون میں رکھے گئے ہیں جبکہ جموں میں رام بن ضلع ریڈ زون میں ہے۔کٹھوعہ ، سانبہ ، گاندربل ، ریاسی ، اودھمپور، پونچھ ، راجوری اور جموں کو اورینج زون اور خطہ چناب کے ڈوڈہ و کشتواڑ اضلاع کو گرین زون میں شمار کیا گیا ہے۔ حکومت کی نئی درجہ بندی اور بندشوں کی تفصیلات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں صورتحال قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔یہاں مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں اور روزانہ2ہزار سے زائد نئے معاملات کاسامنے آنا معمول بن چکا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ قطعی طور کوئی اطمینان بخش صورتحال نہیں ہے اور اس طرح متواتر کیسوں کا سامنے آنا انتظامیہ کیلئے ہی نہیں بلکہ سماج کیلئے بھی پریشان کن ہی ہے ۔اس میں کوئی دور

کورونا وباء او رجموںوکشمیر | احتراعی اقدامات کی ضرورت

جموںوکشمیر میں کورونا مریضوںکی تعداد میں یکایک تشویشناک اضافہ سے ہسپتالوں پرکافی بوجھ پڑ چکا ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران نئے سامنے آنے والے ہزاروں مریضوں کو داخلہ دینا مشکل ثابت ہورہا ہے۔جموںوکشمیر حکومت کی پالیسی کے مطابق علاج کی ضروریات اور علامات کو خاطر میں لائے بغیر کورونا مریضوںکو ترجیحی بنیادوں پر اپنے آبائی اضلاع کے ہسپتال میں داخل رکھنا ہے۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ کشمیر میں تقریباً تمام نامزد کووڈ ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیںاور وہاں مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔امراض چھاتی کے ہسپتال میں صرف180بستروں کی گنجائش ہے اور خال خال ہی کوئی بیڈبچاہے ۔اسی طرح 50بستروں کی گنجائش والاکشمیر نرسنگ ہوم ،جسے حال ہی میں کووڈ ہسپتال ڈکلیئر کیاگیاتھا ،میں بھی شاید ہی کوئی بیڈ خالی ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت نئے مریضوں کے داخلہ کیلئے نئے امکانات تلاش کررہی ہے جس کیلئے اب مزید

روڈ سیفٹی کیلئے متعلقہ نظام کا پوسٹ مارٹم ناگزیر

  محکمہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکمہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً لوگوںکو ٹریفک قوانین کی جانکاری دینے کے علاوہ انہیں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے اصولوں سے روشناس کرایا جاتاہے ۔اس طرح کی سرگرمیاں اگر چہ اطمینان بخش ہیں اور اگر تسلسل برقرار رکھاجائے تو بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں تاہم آگاہی یا بیداری پروگراموں سے کیا ہوگا جب ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سے جڑا سارا سرکاری نظام ہی آلودہ ہوچکا ہو۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے دفاتر کورپشن کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور ٹریفک پولیس محکمہ پر بھی کورپشن کے الزامات لگتے رہتے ہیں ۔ڈرائیونگ لائسنس کی اجرائی سے لیکر روٹ پرمٹ اور روڈ ٹیکس کی ادائیگی تک ایک ایسا مافیا سرگرم ہوچکا ہے جس نے اس محکمہ کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے اور اس سے منسلک دفاتر میں تعینات بیش تر ملازم کورپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو بے تاب رہتے ہیں ۔ بڑھتے سڑک حادثات پر آئے روز تش

ہسپتالوں میں آکسیجن کیلئے ہاہاکارکیوں؟

  جموںوکشمیر خاص کر وادی ٔ کشمیر میں کورونا مریضوں کی تعدادجوں جوں بڑھتی چلی جارہی ہے ،ہمارے ہسپتالوں میں مسائل اُسی لحاظ سے شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیںاور تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ سرینگر شہر کے بڑے ہسپتالوں میں آکسیجن سپلائی کا سنگین بحران پیدا ہوچکا ہے۔گوکہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ اور صدر ہسپتال سرینگر نامزد کووڈ ہسپتال نہیں تھے لیکن اب حالت یہ ہے کہ ان دونوں ہسپتالوں میں نصف کے قریب بیڈ کووڈ مریضوںکیلئے مخصوص رکھے گئے ہیں اور کم و بیش سبھی بسترے زیر استعمال ہیں۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیکل انسٹی چیوٹ صورہ کی ایمر جنسی میں جو مریض داخل ہوکر کورونا پازیٹیو قرار پاتے ہیں ،وہ کئی کئی روز تک ایمر جنسی میں ہی غیر کووڈ مریضوں کے ساتھ داخل رہتے ہیںجس کی وجہ سے عام مریضوں اور تیمارداروں کے کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہمہ وقت لگا

مریضوں کو طبی توجہ سے محروم نہ کریں

 کووڈ انیس کے معاملات کیا بڑھنے لگے کہ شفاخانے عام مریضوں کیلئے پھر سے بند ہونے لگے ۔جموں سے لیکر کشمیر تک سبھی بڑے ہسپتالوں کے اوپی ڈی شعبے بند کر دئے گئے ہیں جبکہ معمول کے داخلے بھی بند کئے جاچکے ہیں اوراب صرف ایمر جنسی سروس ہی چل رہی ہے ۔جموںاور سرینگر میں قائم دونوں میڈیکل کالجوں سے منسلک ہسپتالوں کے علاوہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزصورہ اور سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ میں بھی اوپی ڈی خدمات بند کردی گئی ہیں اور اب دکھاوے کیلئے آن لائن سہولت کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پرپہلے بھی تفصیل سے بات کی تھی اور مثالیں دیکر یہ واضح کیا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے ہم عام مریضوںکو مرنے کیلئے چ

کورونا کے بعد بھوک سے جنگ؟

 کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے دنیا کو صدی کی بدترین اقتصادی مندی سے دوچارکردیا ہے اور اگر اس وائرس کی ایک اور لہر نہ بھی آئی توبھی نتائج بھیانک ہونگے ۔آرگنائزیشن آف اکنامک کواپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد عالمی مالیاتی اداروںکے تازہ ترین تخمینوںکے مطابق اب تک سینکڑوں ملین لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وباء کی ایک اورلہر نہ آئی تو امسال عالمی معیشت کے شرح نمو میں6فیصد کمی آئے گی اور اگلے سال اس میں کچھ حد تک بہتری آئے گی اور2.8فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگر ایک اور لہر آئی تو عالمی معیشت میں8فیصد تک کمی ہوگی جو صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ادھر گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حالات کی جو مایوس کن منظر کشی کی ،وہ دل کو پسیج کر رکھ دینی والی تھی ۔اُن کا کہناتھا کہ آج بھی 820ملین لوگ بھو

نفسیاتی امراض کا واحد شفاخانہ خودبیمار !

 نامساعد حالات کی وجہ سے وادی میں نفسیاتی امراض ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہے ہیں ۔نفسیاتی امراض کی صورتحال کے حوالے سے ہر سال جو نئے سروے رپورٹ سامنے آتے ہیں ،وہ کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں ہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ ہر سال ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیری سماج کا توازن انتہائی تشویشناک حد تک بگڑ چکا ہے۔اس حوالے سے ایک حالیہ سروے کشمیریوں کیلئے واقعی لمحہ فکریہ ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق کشمیر کی60فیصد آبادی وہ ہے جو کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی طرح زندگی میں کم سے کم ایک بار ذہنی اور نفسیاتی طور متاثر ہوئی ہے یاانہوں نے اس طرح کے کسی واقعہ کا بچشم خود مشاہدہ کیا ہے جبکہ15فیصد آبادی ایسی ہے جو زندگی بھر کیلئے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئی ہے۔سروے کے مطابق نامساعد حالات سے قبل نفسیاتی امراض کے واحد اسپتال میں روزانہ4یا 5مری

حرکاتِ شاقولی اربابِ اِقتدار کیلئے اعلانِ بیداری

 کشمیر عظمیٰ کے سنیچر وار کے شمارے میں صفحہ اول پر شائع ایک رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ کشمیر میں اوسطاًہر ماہ زلزلے کے تین سے چار جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان دیکھی کرکے مکمل خاموشی اختیارکرلی گئی ہے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے اور لوگوں کو یہ کہہ کر اضطرابی کیفیت سے باہر نکالنا چاہتی ہے کہ مزید کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔مانا کہ لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت مٹانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے ،کبھی بھی ہمیں نگل سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دو برس کے دوران کشمیراور جموں میں منعقد ہونے والے ورکشاپوں اور سمیناروں میں ماہرین ارضیات نے کشمیرمیں زلزلوں کے حوالہ سے جو انکشافات کئے ،وہ ارباب اقتدار کی نیندیں اُچٹ دینے کیلئے کافی ہیں۔ تحقیق کاروںکے مطابق کشمیر کے ہمالیائی سلسلہ میں ایک بڑے پ

محکمہ صحت کی صحت خراب

  محکمہ صحت کے حوالے سے آئے روز جو ہوش ربا رپورٹ میڈیا کی توسط سے عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں،انہوں نے ذی حس عوام کی نیندیں ہی اچٹ دی ہیں کیونکہ عوام کی جان سے براہ راست تعلق رکھنے والے اس شعبہ کی جو حالت اخبارات کے ذریعے منکشف ہورہی ہے ،وہ انتہائی پریشان کن ہی نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے ۔ادویہ سکینڈل کوئی نئی بات نہیںہے بلکہ اب تو ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور عملہ و ڈھانچہ کی قلت بھی درپیش ہے اور ایسے میں یہ ہسپتال محض نمائشی شفاخانے لگتے ہیںجہاں مریضوںکا خدا ہی حافظ ہے۔خرد برد اور بدانتظامی و مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آئے روز جو نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ یہ کوئی انفرادی کورپشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم دھندہ ہے جو برسوں سے اس محکمہ میں چلتا آرہا ہے اور اس کے تار نچلی سطح سے لیکر اوپرتک محکمہ کے منتظمین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

گیس پائپ لائن منصوبہ کب مکمل ہوگا؟

  گزشتہ دنوںمقامی میڈیا میں بٹھنڈا سرینگر گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں اس کی مسلسل تاخیر کا احوال پیش کیاگیا تھا۔جون2011میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بٹھنڈا پنجاب سے جموں کے راستے سرینگر تک328 کلو میٹر گیس پائپ لائن کے اہم پروجیکٹ کی منظوری دی تھی جسے تین سال میں مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔پانچ ہزار کروڑ روپے مالیت کے اس پروجیکٹ کو جولائی 2011میں ہی شروع کیاگیااورجولائی2014تاریخ تکمیل مقرر کی گئی تھی تاہم10برس بیت جانے کے بعد بھی آج صورتحال یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کا عملی آغاز ہونا باقی ہے ۔ یہ پروجیکٹ اس لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ متبادل توانائی کامؤثر ذریعہ بن سکتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ مقررہ مدت کے اندر اندر اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور اس کے بعد اس پروجیکٹ پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ میٹنگیں بھی طلب کی جا