تازہ ترین

تعلیمی اداروں کی جُزوی بحالی

 جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں 6ماہ کے وقفہ کے بعد بالآخر تعلیمی ادارے جزوی طور کھل گئے ۔گوکہ طلباء کی حاضری قلیل رہی تاہم نویں سے بارہویں تک کلاسز کھولنے کا عمل اپنے آپ میں مستحسن قدم ہے اور اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری نہیں۔ سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ نے کہاتھا کہ سکولوں کا وائٹ واش کرنے کے علاوہ انہیں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گاتاہم ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا تھا،وہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکر لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو ا